<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 06:35:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 06:35:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انتظامیہ ای سی سی کے پالیسی فیصلے میں ترمیم یا تبدیلی نہیں کر سکتی، لاہور ہائی کورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278594/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) نے قرار دیا ہے کہ کوئی بھی انتظامی اتھارٹی کابینہ کی اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) کے پالیسی فیصلے کو کالعدم، تبدیل یا محدود نہیں کر سکتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ کمشنر ان لینڈ ریونیو (سی آئی آر) کی اس اپیل میں دیا گیا جو لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ سنگل بینچ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جاری کردہ ایک اسٹیچوٹری ریگولیٹری آرڈر (ایس آر او) کی ذیلی شق ( ڈی) کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس شق میں کہا گیا تھا کہ
یہ نوٹیفکیشن افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کو زمینی راستے سے کی جانے والی برآمدات پر لاگو نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جب ای سی سی نے چینی کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے پورے شعبے کے لیے مالیاتی مراعات کی منظوری دے دی تھی، تو ایف بی آر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ایس آر او میں کوئی ایسی شق شامل کر کے ان مراعات کو یکطرفہ طور پر محدود یا تبدیل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ ایس آر او ایف بی آر کے ریونیو ڈویژن نے ای سی سی کے فیصلے کے تحت جاری کیا، مگر شق (ڈی) کا اضافہ ریونیو ڈویژن نے ازخود کیا، بغیر ای سی سی کی کسی واضح ہدایت یا منظوری کے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے مطابق، ایس آر او میں شامل کی گئی یہ شق ای سی سی کی پالیسی کے اصل مقصد اور روح کے منافی ہے، جس کا مقصد برآمدات میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت کے 1973 کے رولز آف بزنس کے مطابق، ایف بی آر کے ریونیو ڈویژن کے مالیاتی، انتظامی یا پالیسی امور سے متعلق کسی بھی قانونی کارروائی کو دائر یا دفاع کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کو حاصل ہے، جو وزارتِ خزانہ کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا عدالت نے قرار دیا کہ سی آئی آر بطور فیلڈ فارمیشن آفیسر، نہ تو قانونی طور پر مجاز ہے اور نہ ہی اس کے پاس اتھارٹی ہے کہ وہ سنگل جج کے فیصلے کو چیلنج کرے، خصوصاً جب معاملہ ایف بی آر کے جاری کردہ ایس آر او کی آئینی حیثیت سے متعلق ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید نشاندہی کی کہ سی آئی آر کو اس اپیل کے لیے کسی مجاز اتھارٹی کی واضح اجازت یا منظوری بھی حاصل نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ایک ماتحت افسر کو اس طرح اپیل دائر کرنے کی اجازت دے دی جائے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ریاست کے پالیسی سازی کے مجاز اداروں کے فیصلوں کو ایک غیر مجاز شخص چیلنج کر سکتا ہے، جو اختیار کی حدود  کے اصول اور 1973 کے رولز آف بزنس کے تحت قائم انتظامی نظم و ضبط کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی متعلقہ وزارت  جو کہ قانون کے مطابق اس معاملے میں بااختیار ہیں جنہوں نے سنگل جج کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) نے قرار دیا ہے کہ کوئی بھی انتظامی اتھارٹی کابینہ کی اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) کے پالیسی فیصلے کو کالعدم، تبدیل یا محدود نہیں کر سکتی۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ کمشنر ان لینڈ ریونیو (سی آئی آر) کی اس اپیل میں دیا گیا جو لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ سنگل بینچ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جاری کردہ ایک اسٹیچوٹری ریگولیٹری آرڈر (ایس آر او) کی ذیلی شق ( ڈی) کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس شق میں کہا گیا تھا کہ
یہ نوٹیفکیشن افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کو زمینی راستے سے کی جانے والی برآمدات پر لاگو نہیں ہوگا۔</p>
<p>عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جب ای سی سی نے چینی کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے پورے شعبے کے لیے مالیاتی مراعات کی منظوری دے دی تھی، تو ایف بی آر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ایس آر او میں کوئی ایسی شق شامل کر کے ان مراعات کو یکطرفہ طور پر محدود یا تبدیل کرے۔</p>
<p>عدالت نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ ایس آر او ایف بی آر کے ریونیو ڈویژن نے ای سی سی کے فیصلے کے تحت جاری کیا، مگر شق (ڈی) کا اضافہ ریونیو ڈویژن نے ازخود کیا، بغیر ای سی سی کی کسی واضح ہدایت یا منظوری کے۔</p>
<p>عدالت کے مطابق، ایس آر او میں شامل کی گئی یہ شق ای سی سی کی پالیسی کے اصل مقصد اور روح کے منافی ہے، جس کا مقصد برآمدات میں اضافہ تھا۔</p>
<p>عدالت نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت کے 1973 کے رولز آف بزنس کے مطابق، ایف بی آر کے ریونیو ڈویژن کے مالیاتی، انتظامی یا پالیسی امور سے متعلق کسی بھی قانونی کارروائی کو دائر یا دفاع کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کو حاصل ہے، جو وزارتِ خزانہ کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا عدالت نے قرار دیا کہ سی آئی آر بطور فیلڈ فارمیشن آفیسر، نہ تو قانونی طور پر مجاز ہے اور نہ ہی اس کے پاس اتھارٹی ہے کہ وہ سنگل جج کے فیصلے کو چیلنج کرے، خصوصاً جب معاملہ ایف بی آر کے جاری کردہ ایس آر او کی آئینی حیثیت سے متعلق ہو۔</p>
<p>عدالت نے مزید نشاندہی کی کہ سی آئی آر کو اس اپیل کے لیے کسی مجاز اتھارٹی کی واضح اجازت یا منظوری بھی حاصل نہیں تھی۔</p>
<p>عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ایک ماتحت افسر کو اس طرح اپیل دائر کرنے کی اجازت دے دی جائے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ریاست کے پالیسی سازی کے مجاز اداروں کے فیصلوں کو ایک غیر مجاز شخص چیلنج کر سکتا ہے، جو اختیار کی حدود  کے اصول اور 1973 کے رولز آف بزنس کے تحت قائم انتظامی نظم و ضبط کے منافی ہے۔</p>
<p>عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی متعلقہ وزارت  جو کہ قانون کے مطابق اس معاملے میں بااختیار ہیں جنہوں نے سنگل جج کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278594</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Oct 2025 10:57:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/261056359d3ff6f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/261056359d3ff6f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
