<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں مذاکرات جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278591/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی کے درمیان دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح وفود نے ترکیہ کی ثالثی میں استنبول میں مذاکرات کیے۔ باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوئے جو آٹھ گھنٹے سے زائد جاری رہے۔ ذرائع کے مطابق نماز کے وقفوں کے دوران بات چیت روکی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کا پہلا دور 19 اکتوبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قطری ثالثی کے تحت ہوا تھا، جس میں پاکستان اور افغانستان کے وزرائے دفاع اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے شرکت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسلام آباد اور کابل کے تعلقات سرحد پار دہشت گردی، سرحدی سلامتی کے مسائل اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افغانستان میں موجود عناصر کے حوالے سے کشیدہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان وفد کی قیادت نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب نے کی، جبکہ دیگر شرکا میں اسلامی امارتِ افغانستان کے قطر میں قائم مقام سفیر سہیل شاہین، اسلامی امارت کے سینئر رکن انس حقانی، وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے سیاسی امور نور احمد نور، وزارتِ دفاع کے ڈپٹی آپریشنز نور رحمان نصرت، اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی وفد وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کے سینئر ترین افسران پر مشتمل تھا، تاہم ذرائع کے مطابق ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ قابلِ اعتماد ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات استنبول میں ایک نہایت حساس مقام پر ہوئے اور میڈیا کو اس کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کی فائلنگ تک مذاکرات کی کوئی باضابطہ تصویر یا سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔ بات چیت کے دوران مستقل جنگ بندی میں توسیع، ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور فضائی حدود کے احترام، اور دیگر متعلقہ امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ 19 اکتوبر کو دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم پاکستان نے حالیہ سرحد پار حملوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کابل پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو نشانہ بنانے والے گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔ سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور تجارتی نقصان جیسے امور بھی طویل مذاکرات میں زیر بحث آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق رپورٹ کی فائلنگ تک مذاکرات کا آخری اجلاس جاری تھا۔ یاد رہے کہ دوحہ میں ہونے والے پہلے دور میں دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی اور دیرپا امن و استحکام کے لیے ایک نظام وضع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے آئندہ دنوں میں فالو اپ اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ جنگ بندی کے تسلسل اور اس کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے، جو دونوں ممالک میں سلامتی اور استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی کے درمیان دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح وفود نے ترکیہ کی ثالثی میں استنبول میں مذاکرات کیے۔ باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوئے جو آٹھ گھنٹے سے زائد جاری رہے۔ ذرائع کے مطابق نماز کے وقفوں کے دوران بات چیت روکی گئی۔</strong></p>
<p>مذاکرات کا پہلا دور 19 اکتوبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قطری ثالثی کے تحت ہوا تھا، جس میں پاکستان اور افغانستان کے وزرائے دفاع اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے شرکت کی تھی۔</p>
<p>یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسلام آباد اور کابل کے تعلقات سرحد پار دہشت گردی، سرحدی سلامتی کے مسائل اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افغانستان میں موجود عناصر کے حوالے سے کشیدہ ہیں۔</p>
<p>افغان وفد کی قیادت نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب نے کی، جبکہ دیگر شرکا میں اسلامی امارتِ افغانستان کے قطر میں قائم مقام سفیر سہیل شاہین، اسلامی امارت کے سینئر رکن انس حقانی، وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے سیاسی امور نور احمد نور، وزارتِ دفاع کے ڈپٹی آپریشنز نور رحمان نصرت، اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی شامل تھے۔</p>
<p>پاکستانی وفد وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کے سینئر ترین افسران پر مشتمل تھا، تاہم ذرائع کے مطابق ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ قابلِ اعتماد ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات استنبول میں ایک نہایت حساس مقام پر ہوئے اور میڈیا کو اس کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔</p>
<p>رپورٹ کی فائلنگ تک مذاکرات کی کوئی باضابطہ تصویر یا سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔ بات چیت کے دوران مستقل جنگ بندی میں توسیع، ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور فضائی حدود کے احترام، اور دیگر متعلقہ امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔</p>
<p>اگرچہ 19 اکتوبر کو دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم پاکستان نے حالیہ سرحد پار حملوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کابل پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو نشانہ بنانے والے گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔ سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور تجارتی نقصان جیسے امور بھی طویل مذاکرات میں زیر بحث آئے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق رپورٹ کی فائلنگ تک مذاکرات کا آخری اجلاس جاری تھا۔ یاد رہے کہ دوحہ میں ہونے والے پہلے دور میں دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی اور دیرپا امن و استحکام کے لیے ایک نظام وضع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے آئندہ دنوں میں فالو اپ اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ جنگ بندی کے تسلسل اور اس کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے، جو دونوں ممالک میں سلامتی اور استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278591</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Oct 2025 10:40:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/26103912b6f8f13.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/26103912b6f8f13.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
