<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 14:05:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 14:05:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توانائی شعبہ بدحالی کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278534/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;توانائی شعبہ مجموعی طور پر مکمل ابتری کا شکار ہے۔ حکومت اور ریگولیٹرز اس نہایت اہم شعبے، خصوصاً بجلی کے شعبے کو بدنظمی سے نکالنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی تمام توجہ صرف نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے گرڈ کو بچانے پر مرکوز ہے اور اسی کوشش میں گیس کا شعبہ ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ نتیجہ واضح ہے: بجلی کی انتہائی بلند قیمتیں اور دیگر ذرائع پر عائد لیویز کے باعث مینوفیکچرنگ سیکٹر سکڑ رہا ہے، کیونکہ 22 میں سے 10 بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم سب سیکٹرز) کی پیداواری کارکردگی اپنی صلاحیت سے کم اور دس سال پہلے کے مقابلے میں بھی بدتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین تنازع بجلی کے نگران ادارے نیپرا کی جانب سے کے۔الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف کو واپس لینے کا ہے اور یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ ریگولیٹر نے ٹیرف کا تعین کرنے میں 18 ماہ لگائے، اعلان کرنے سے پہلے ایک وسیع جائزے اور مشاورتی عمل سے گزرا۔ پھر میڈیا میں شدید ردعمل سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دباؤ میں آکر اور پاور ڈویژن کے کہنے پر، ریگولیٹر نے عملاً اپنے ہی حکم کو منسوخ کر دیا اور منظور شدہ ٹیرف میں اضافے پر بڑے پیمانے پر نظر ثانی کی۔ سوال یہ ہے کہ اگر پہلے کے عمل میں واقعی دقت اور سختی شامل تھی، جیسا کہ دعویٰ کیا گیا تھا، تو یہ اچانک یو-ٹرن کیوں؟ اور اپنے ہی فیصلے پر از خود  کارروائی کرنے کی قانونی بنیاد کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایسے اہم سوالات ہیں جن کے جوابات درکار ہیں اور جو ریگولیٹر کی خود مختاری، قابلِ اعتمادیت اور صلاحیت کے بارے میں سنگین تشویش پیدا کرتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بُری خبر ہے بلکہ مقامی پاور سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے بھی تشویش ناک ہے۔ پاکستان پہلے ہی سیاسی رسک کا شکار ہے اور اب اس میں ریگولیٹری یا ادارہ جاتی رسک بھی شامل ہوتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی غیر یقینی صورتحال صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کرے گی اور توانائی کے شعبے میں مستقبل کی سرمایہ کاری کے امکانات کو نقصان پہنچائے گی۔ یہ بات نوٹ کرنا ضروری ہے کہ عام تاثر کے برعکس، ٹیرف میں ریلیف، جو مجموعی طور پر 7 روپے فی یونٹ بنتا ہے، کراچی کے صارفین پر کوئی مثبت اثر نہیں ڈالے گا، کیونکہ ٹیرف پورے ملک میں یکساں ہے۔ صارفین کو شاید زیادہ ادائیگی بھی کرنی پڑے، کیونکہ پچھلے سال طے کیے گئے ٹیرف پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تو صرف ایک مثال ہے  اور یہ کراچی کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے ایک سنگین دھچکہ ہے۔ یکساں ٹیرف کا تصور منفی اور نقصان دہ ہے۔ ملک کے جنوبی حصے میں کم اضافی لاگت پر بجلی کی دستیاب اضافی گنجائش موجود ہے، لیکن ترسیلی رکاوٹوں کے باعث یہ بجلی شمالی خطے تک نہیں پہنچ پاتی، جہاں گھریلو طلب زیادہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مارجل پرائسنگ پالیسی متعارف کرائے اور صنعتی صارفین کے لیے ٹیرف مؤثر طور پر کم کر کے جنوبی علاقوں میں بجلی کے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپٹو پاور پلانٹس پر زیادہ لیوی عائد کیے جانے سے گیس سیکٹر اپنے بہترین بھاری ادائیگی کرنے والے صارفین سے محروم ہو گیا ہے۔ اس فیصلے نے گیس سیکٹر میں لاگت کی ریکوری کے مسائل کو مزید سنگین کر دیا ہے اور گیس کا گردشی قرض بڑھ رہا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد میں صارفین اب بھی نیشنل گرڈ کی جانب منتقل نہیں ہورہے، کیونکہ بجلی اب بھی مہنگی اور غیر قابلِ اعتماد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں تسلسل نہ ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ریگولیٹر اور صارفین کے درمیان اور وزارتِ توانائی اور صارفین کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت سمجھتی ہے کہ توانائی کی قیمتیں اور اس کی دستیابی مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی اہم ہیں، تاہم غیر منطقی فیصلے ہر سطح پر غلط پیغام دے رہے ہیں جو صنعت کو تباہ کر دیں گے اور سرمایہ کاروں کو مینوفیکچرنگ سیکٹر سے دور کر دیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ معیشت صرف تجارت اور خدمات تک محدود ہو کر رہ جائے گی، جو نہ تو پائیدار ترقی کے لیے کافی ہے اور نہ ہی نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے روزگار پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>توانائی شعبہ مجموعی طور پر مکمل ابتری کا شکار ہے۔ حکومت اور ریگولیٹرز اس نہایت اہم شعبے، خصوصاً بجلی کے شعبے کو بدنظمی سے نکالنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔</strong></p>
<p>حکومت کی تمام توجہ صرف نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے گرڈ کو بچانے پر مرکوز ہے اور اسی کوشش میں گیس کا شعبہ ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ نتیجہ واضح ہے: بجلی کی انتہائی بلند قیمتیں اور دیگر ذرائع پر عائد لیویز کے باعث مینوفیکچرنگ سیکٹر سکڑ رہا ہے، کیونکہ 22 میں سے 10 بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم سب سیکٹرز) کی پیداواری کارکردگی اپنی صلاحیت سے کم اور دس سال پہلے کے مقابلے میں بھی بدتر ہے۔</p>
<p>تازہ ترین تنازع بجلی کے نگران ادارے نیپرا کی جانب سے کے۔الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف کو واپس لینے کا ہے اور یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ ریگولیٹر نے ٹیرف کا تعین کرنے میں 18 ماہ لگائے، اعلان کرنے سے پہلے ایک وسیع جائزے اور مشاورتی عمل سے گزرا۔ پھر میڈیا میں شدید ردعمل سامنے آیا۔</p>
<p>دباؤ میں آکر اور پاور ڈویژن کے کہنے پر، ریگولیٹر نے عملاً اپنے ہی حکم کو منسوخ کر دیا اور منظور شدہ ٹیرف میں اضافے پر بڑے پیمانے پر نظر ثانی کی۔ سوال یہ ہے کہ اگر پہلے کے عمل میں واقعی دقت اور سختی شامل تھی، جیسا کہ دعویٰ کیا گیا تھا، تو یہ اچانک یو-ٹرن کیوں؟ اور اپنے ہی فیصلے پر از خود  کارروائی کرنے کی قانونی بنیاد کیا ہے؟</p>
<p>یہ ایسے اہم سوالات ہیں جن کے جوابات درکار ہیں اور جو ریگولیٹر کی خود مختاری، قابلِ اعتمادیت اور صلاحیت کے بارے میں سنگین تشویش پیدا کرتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بُری خبر ہے بلکہ مقامی پاور سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے بھی تشویش ناک ہے۔ پاکستان پہلے ہی سیاسی رسک کا شکار ہے اور اب اس میں ریگولیٹری یا ادارہ جاتی رسک بھی شامل ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>ایسی غیر یقینی صورتحال صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کرے گی اور توانائی کے شعبے میں مستقبل کی سرمایہ کاری کے امکانات کو نقصان پہنچائے گی۔ یہ بات نوٹ کرنا ضروری ہے کہ عام تاثر کے برعکس، ٹیرف میں ریلیف، جو مجموعی طور پر 7 روپے فی یونٹ بنتا ہے، کراچی کے صارفین پر کوئی مثبت اثر نہیں ڈالے گا، کیونکہ ٹیرف پورے ملک میں یکساں ہے۔ صارفین کو شاید زیادہ ادائیگی بھی کرنی پڑے، کیونکہ پچھلے سال طے کیے گئے ٹیرف پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>یہ تو صرف ایک مثال ہے  اور یہ کراچی کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے ایک سنگین دھچکہ ہے۔ یکساں ٹیرف کا تصور منفی اور نقصان دہ ہے۔ ملک کے جنوبی حصے میں کم اضافی لاگت پر بجلی کی دستیاب اضافی گنجائش موجود ہے، لیکن ترسیلی رکاوٹوں کے باعث یہ بجلی شمالی خطے تک نہیں پہنچ پاتی، جہاں گھریلو طلب زیادہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مارجل پرائسنگ پالیسی متعارف کرائے اور صنعتی صارفین کے لیے ٹیرف مؤثر طور پر کم کر کے جنوبی علاقوں میں بجلی کے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرے۔</p>
<p>کیپٹو پاور پلانٹس پر زیادہ لیوی عائد کیے جانے سے گیس سیکٹر اپنے بہترین بھاری ادائیگی کرنے والے صارفین سے محروم ہو گیا ہے۔ اس فیصلے نے گیس سیکٹر میں لاگت کی ریکوری کے مسائل کو مزید سنگین کر دیا ہے اور گیس کا گردشی قرض بڑھ رہا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد میں صارفین اب بھی نیشنل گرڈ کی جانب منتقل نہیں ہورہے، کیونکہ بجلی اب بھی مہنگی اور غیر قابلِ اعتماد ہے۔</p>
<p>پالیسی میں تسلسل نہ ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ریگولیٹر اور صارفین کے درمیان اور وزارتِ توانائی اور صارفین کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج موجود ہے۔</p>
<p>حکومت سمجھتی ہے کہ توانائی کی قیمتیں اور اس کی دستیابی مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی اہم ہیں، تاہم غیر منطقی فیصلے ہر سطح پر غلط پیغام دے رہے ہیں جو صنعت کو تباہ کر دیں گے اور سرمایہ کاروں کو مینوفیکچرنگ سیکٹر سے دور کر دیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ معیشت صرف تجارت اور خدمات تک محدود ہو کر رہ جائے گی، جو نہ تو پائیدار ترقی کے لیے کافی ہے اور نہ ہی نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے روزگار پیدا کر سکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278534</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Oct 2025 11:54:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/24113810e1f95aa.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/24113810e1f95aa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
