<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:21:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:21:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی جی سی ای پی 2025-35: کوہالہ منصوبے کا اخراج مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کی خلاف ورزی قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278526/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوہالہ ہائیڈرو کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ (کے ایچ سی ایل) نے اپنے 1,124 میگاواٹ پن بجلی منصوبے کو انڈیکیٹیو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2025–35 سے خارج کیے جانے کو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) اور دیگر متعلقہ اداروں کے فیصلوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے حال ہی میں کمپنی کو حکومت کے اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔ کوہالہ منصوبہ اس سے قبل آئی جی سی ای پی 2021–30 اور آئی جی سی ای پی 2022–31 میں ایک کمیٹیڈ پراجیکٹ کے طور پر شامل تھا، جنہیں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے باقاعدہ طور پر منظور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایچ سی ایل کے سی ای او لیو یونگ گانگ نے پی پی آئی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہ جہاں مرزا کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ منصوبہ یکم اگست 2025 تک منظور شدہ آئی جی سی ای پی میں ایک کمیٹیڈ پراجیکٹ کے طور پر برقرار ہے، اس لیے فنانشل کلوز کی تاریخ میں توسیع واپس لینے کا فیصلہ قانونی طور پر درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق 1,124 میگاواٹ کوہالہ ہائیڈرو پاور منصوبے کو غلط طور پر کیڈٹ منصوبے کے طور پر آئی جی سی ای پی 2025–35 کے مسودے میں دکھایا گیا ہے، جو ابھی تک نیپرا سے منظور نہیں ہوا۔ لہٰذا منصوبے کو کمیٹیڈ پراجیکٹ کے طور پر برقرار رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایچ سی ایل نے مؤقف اپنایا کہ آئی جی سی ای پی ایک تکنیکی منصوبہ بندی کا آلہ ہے، جو سسٹم کی بہتری کے لیے تیار کیا جاتا ہے، مگر یہ حکومت کی پاور پالیسی 2002 یا معاہدہ جاتی حقوق کو منسوخ نہیں کر سکتا۔ کمپنی نے واضح کیا کہ آئی جی سی ای پی نہ تو خریداری کے اہداف، ٹیرف کے فیصلے یا واجبات کا تعین کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے نشاندہی کی کہ قومی بجلی منصوبہ (این ای  پلان) 2023–27 میں کوہالہ کے کمیٹیڈ اسٹیٹس کی توثیق کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 2021 کے آئی جی سی ای پی میں شامل تمام منصوبے کمیٹیڈ تصور کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایچ سی ایل نے نیپرا ایکٹ 1997 کی شق 14 اے (5) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیپرا پر لازم ہے کہ وہ نیشنل الیکٹریسٹی پالیسی 2021 اور این ای پلان 2023–27 کے مطابق کام کرے، اور آئی ایس ایم او کی جانب سے اس سے انحراف غیر قانونی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے آئی جی سی ای پی 2025–35 میں کمیٹیڈ پراجیکٹس کے لیے نئی تعریف کو غیر منطقی قرار دیا، جس کے تحت فنانشنل کلوز اور کم از کم 10 فیصد کام مکمل ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق فنانشنل کلوز آئی جی سی ای پی میں شمولیت سے قبل ممکن نہیں، کیونکہ قرض دہندگان اس شمولیت کو فنانسنگ کی شرط بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایچ سی ایل نے خبردار کیا کہ قواعد میں اس قسم کی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد اور پاکستان کی پالیسی ساکھ کو نقصان پہنچائیں گی۔ کمپنی نے مطالبہ کیا کہ پی پی آئی بی اپنا 9 اکتوبر 2025 کا فیصلہ واپس لے اور منصوبے کو آئی جی سی ای پی 2025–35 میں کمیٹیڈ حیثیت کے ساتھ بحال کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوہالہ ہائیڈرو کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ (کے ایچ سی ایل) نے اپنے 1,124 میگاواٹ پن بجلی منصوبے کو انڈیکیٹیو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2025–35 سے خارج کیے جانے کو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) اور دیگر متعلقہ اداروں کے فیصلوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>نجی پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے حال ہی میں کمپنی کو حکومت کے اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔ کوہالہ منصوبہ اس سے قبل آئی جی سی ای پی 2021–30 اور آئی جی سی ای پی 2022–31 میں ایک کمیٹیڈ پراجیکٹ کے طور پر شامل تھا، جنہیں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے باقاعدہ طور پر منظور کیا تھا۔</p>
<p>کے ایچ سی ایل کے سی ای او لیو یونگ گانگ نے پی پی آئی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہ جہاں مرزا کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ منصوبہ یکم اگست 2025 تک منظور شدہ آئی جی سی ای پی میں ایک کمیٹیڈ پراجیکٹ کے طور پر برقرار ہے، اس لیے فنانشل کلوز کی تاریخ میں توسیع واپس لینے کا فیصلہ قانونی طور پر درست نہیں۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق 1,124 میگاواٹ کوہالہ ہائیڈرو پاور منصوبے کو غلط طور پر کیڈٹ منصوبے کے طور پر آئی جی سی ای پی 2025–35 کے مسودے میں دکھایا گیا ہے، جو ابھی تک نیپرا سے منظور نہیں ہوا۔ لہٰذا منصوبے کو کمیٹیڈ پراجیکٹ کے طور پر برقرار رہنا چاہیے۔</p>
<p>کے ایچ سی ایل نے مؤقف اپنایا کہ آئی جی سی ای پی ایک تکنیکی منصوبہ بندی کا آلہ ہے، جو سسٹم کی بہتری کے لیے تیار کیا جاتا ہے، مگر یہ حکومت کی پاور پالیسی 2002 یا معاہدہ جاتی حقوق کو منسوخ نہیں کر سکتا۔ کمپنی نے واضح کیا کہ آئی جی سی ای پی نہ تو خریداری کے اہداف، ٹیرف کے فیصلے یا واجبات کا تعین کرتا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے نشاندہی کی کہ قومی بجلی منصوبہ (این ای  پلان) 2023–27 میں کوہالہ کے کمیٹیڈ اسٹیٹس کی توثیق کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 2021 کے آئی جی سی ای پی میں شامل تمام منصوبے کمیٹیڈ تصور کیے جائیں گے۔</p>
<p>کے ایچ سی ایل نے نیپرا ایکٹ 1997 کی شق 14 اے (5) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیپرا پر لازم ہے کہ وہ نیشنل الیکٹریسٹی پالیسی 2021 اور این ای پلان 2023–27 کے مطابق کام کرے، اور آئی ایس ایم او کی جانب سے اس سے انحراف غیر قانونی ہے۔</p>
<p>کمپنی نے آئی جی سی ای پی 2025–35 میں کمیٹیڈ پراجیکٹس کے لیے نئی تعریف کو غیر منطقی قرار دیا، جس کے تحت فنانشنل کلوز اور کم از کم 10 فیصد کام مکمل ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق فنانشنل کلوز آئی جی سی ای پی میں شمولیت سے قبل ممکن نہیں، کیونکہ قرض دہندگان اس شمولیت کو فنانسنگ کی شرط بناتے ہیں۔</p>
<p>کے ایچ سی ایل نے خبردار کیا کہ قواعد میں اس قسم کی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد اور پاکستان کی پالیسی ساکھ کو نقصان پہنچائیں گی۔ کمپنی نے مطالبہ کیا کہ پی پی آئی بی اپنا 9 اکتوبر 2025 کا فیصلہ واپس لے اور منصوبے کو آئی جی سی ای پی 2025–35 میں کمیٹیڈ حیثیت کے ساتھ بحال کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278526</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Oct 2025 10:28:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/24102535eba9c17.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/24102535eba9c17.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
