<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپلائی خدشات کے باوجود خام تیل کی قیمتیں کم ہوگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278520/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی قیمتوں میں جمعے کے روز  کمی دیکھنے میں آئی، لیکن ہفتہ وار اضافہ  برقرار رہا۔ یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب امریکہ کی جانب سے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں پر یوکرین میں جنگ کے سلسلے میں نئی پابندیاں عائد کی گئیں، جس سے تیل کی فراہمی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 54 سینٹ یا 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 65.45 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز 51 سینٹ یا 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 61.28 ڈالر پر ٹریڈ کر رہی تھا۔ دونوں بینچ مارک گزشتہ روز 5 فیصد سے زائد بڑھے تھے اور ہفتہ وار اضافہ تقریباً 7 فیصد کے قریب تھا، جو جون کے وسط کے بعد سب سے بڑا اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی صدر ولادی میر پوتن نے پابندیوں کے باوجود جمعرات کو ہمت نہیں ہاری، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی کمپنیوں روزنیفٹ اور لوک اوئل پر پابندیاں عائد کیں۔ یہ دونوں کمپنیاں عالمی تیل کی پیداوار کا پانچ فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتی ہیں۔ امریکی پابندیوں کے بعد چینی سرکاری تیل کمپنیوں نے روسی تیل کی خریداری کو عارضی طور پر معطل کر دیا، جبکہ بھارت کے ریفائنرز، جو روسی سمندری تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں، اپنے درآمدی حجم میں کمی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیوڈیٹی اینالسٹ ساتورو یوشیدا کا کہنا تھا کہ روس پر امریکی پابندیوں کے باعث سپلائی کے کم ہونے کے خدشات کے پیش نظر خریداری کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ وی ٹی آئی تقریباً 65 ڈالر کے اوپر یا نیچے پانچ ڈالر کے فرق میں تجارت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت کے وزیر تیل نے کہا کہ اوپیک کسی بھی کمی کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں کمی واپس کر سکتی ہے۔ یورپی یونین نے بھی روس پر 19 ویں پابندیوں کا پیکیج منظور کیا، جس میں روسی مائع قدرتی گیس کی درآمد پر پابندی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار اگلے ہفتے ہونے والی امریکی صدر اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کمی آنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کی قیمتوں میں جمعے کے روز  کمی دیکھنے میں آئی، لیکن ہفتہ وار اضافہ  برقرار رہا۔ یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب امریکہ کی جانب سے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں پر یوکرین میں جنگ کے سلسلے میں نئی پابندیاں عائد کی گئیں، جس سے تیل کی فراہمی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 54 سینٹ یا 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 65.45 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز 51 سینٹ یا 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 61.28 ڈالر پر ٹریڈ کر رہی تھا۔ دونوں بینچ مارک گزشتہ روز 5 فیصد سے زائد بڑھے تھے اور ہفتہ وار اضافہ تقریباً 7 فیصد کے قریب تھا، جو جون کے وسط کے بعد سب سے بڑا اضافہ تھا۔</p>
<p>روسی صدر ولادی میر پوتن نے پابندیوں کے باوجود جمعرات کو ہمت نہیں ہاری، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی کمپنیوں روزنیفٹ اور لوک اوئل پر پابندیاں عائد کیں۔ یہ دونوں کمپنیاں عالمی تیل کی پیداوار کا پانچ فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتی ہیں۔ امریکی پابندیوں کے بعد چینی سرکاری تیل کمپنیوں نے روسی تیل کی خریداری کو عارضی طور پر معطل کر دیا، جبکہ بھارت کے ریفائنرز، جو روسی سمندری تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں، اپنے درآمدی حجم میں کمی کریں گے۔</p>
<p>کمیوڈیٹی اینالسٹ ساتورو یوشیدا کا کہنا تھا کہ روس پر امریکی پابندیوں کے باعث سپلائی کے کم ہونے کے خدشات کے پیش نظر خریداری کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ وی ٹی آئی تقریباً 65 ڈالر کے اوپر یا نیچے پانچ ڈالر کے فرق میں تجارت کرے گا۔</p>
<p>کویت کے وزیر تیل نے کہا کہ اوپیک کسی بھی کمی کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں کمی واپس کر سکتی ہے۔ یورپی یونین نے بھی روس پر 19 ویں پابندیوں کا پیکیج منظور کیا، جس میں روسی مائع قدرتی گیس کی درآمد پر پابندی شامل ہے۔</p>
<p>سرمایہ کار اگلے ہفتے ہونے والی امریکی صدر اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کمی آنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278520</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Oct 2025 09:27:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/24092606f489f3f.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/24092606f489f3f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
