<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 22:22:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 22:22:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے انٹرنیٹ مواد ہٹانے کے اختیارات محدود کردیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278509/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی حکومت نے انٹرنیٹ سے مواد ہٹانے کے اختیارات میں نمایاں کمی کرتے ہوئے صرف اعلیٰ سرکاری افسران اور سینئر پولیس حکام کو یہ اختیار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ساتھ جاری قانونی تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے ایک متنازع پالیسی متعارف کرائی تھی، جس کے تحت ہزاروں سرکاری اہلکاروں کو انٹرنیٹ سے مواد ہٹانے کا اختیار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے بعد پولیس افسران نے متعدد طنزیہ پوسٹس اور کارٹونز ہٹانے کے احکامات جاری کیے، جس پر ایکس نے اسے آزادی اظہارِ رائے کے خلاف قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں کرناٹک ہائی کورٹ نے ایکس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکومت کے مؤقف کو درست قرار دیا اور کہا کہ کمپنی کو مقامی قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی۔ تاہم  حالیہ پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے حکومت نے اب یہ اختیار صرف جوائنٹ سیکریٹری سطح کے افسران اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل یا اس سے اوپر کے پولیس افسران تک محدود کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی حکومت نے انٹرنیٹ سے مواد ہٹانے کے اختیارات میں نمایاں کمی کرتے ہوئے صرف اعلیٰ سرکاری افسران اور سینئر پولیس حکام کو یہ اختیار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ساتھ جاری قانونی تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>گزشتہ سال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے ایک متنازع پالیسی متعارف کرائی تھی، جس کے تحت ہزاروں سرکاری اہلکاروں کو انٹرنیٹ سے مواد ہٹانے کا اختیار دیا گیا تھا۔</p>
<p>اس فیصلے کے بعد پولیس افسران نے متعدد طنزیہ پوسٹس اور کارٹونز ہٹانے کے احکامات جاری کیے، جس پر ایکس نے اسے آزادی اظہارِ رائے کے خلاف قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا۔</p>
<p>ستمبر میں کرناٹک ہائی کورٹ نے ایکس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکومت کے مؤقف کو درست قرار دیا اور کہا کہ کمپنی کو مقامی قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی۔ تاہم  حالیہ پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے حکومت نے اب یہ اختیار صرف جوائنٹ سیکریٹری سطح کے افسران اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل یا اس سے اوپر کے پولیس افسران تک محدود کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278509</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Oct 2025 19:56:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/23185038d182d8d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/23185038d182d8d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
