<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میٹا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 600 ملازمین کو فارغ کرے گا، رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278485/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق فیس بک کی ملکیتی کمپنی میٹا نے اپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈویژن میں 600 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد جارحانہ بھرتیوں کے بعد آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ جرنل، نیو یارک ٹائمز اور دیگر امریکی اخبارات کے مطابق، یہ کٹوتیاں میٹا کے ٹی بی ڈی لیب پر اثر انداز نہیں ہوں گی، جو چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ کے قائم کردہ خصوصی تحقیقی یونٹ کے تحت کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق، ٹی بی ڈی لیب نے تیزی سے توسیع کی تھی اور اوپن اے آئی اور ایپل جیسی کمپنیوں سے اعلیٰ درجے کے محققین کو بھاری معاوضے پر بھرتی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، حالیہ چھانٹی کا نشانہ وہ ٹیمیں بنیں گی جو مصنوعی ذہانت پر مبنی مصنوعات اور بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) پر کام کر رہی تھیں۔ مقصد یہ ہے کہ کمپنی کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے، بغیر اس کے کہ میٹا کے طویل المدتی جدید منصوبے متاثر ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، کمپنی متاثرہ ملازمین کو ادارے کے اندر دوسری ذمہ داریاں بھی دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو یارک ٹائمز نے لکھا کہ یہ فیصلہ تنظیمی پیچیدگی کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جو گزشتہ دو برسوں کے دوران تیز رفتار بھرتیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اخبارات نے چیف اے آئی آفیسر الیگزینڈر وانگ کے ایک میمو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ، اب فیصلے کرنے کے لیے کم لوگوں سے بات کرنا پڑے گی، جس سے عمل میں تیزی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کی جانب سے اس معاملے پر اے ایف پی کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیاں دنیا بھر میں اپنے اے آئی شعبوں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اخراجات میں کمی اور تنظیمی اصلاحات پر بھی توجہ دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق فیس بک کی ملکیتی کمپنی میٹا نے اپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈویژن میں 600 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد جارحانہ بھرتیوں کے بعد آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔</strong></p>
<p>وال اسٹریٹ جرنل، نیو یارک ٹائمز اور دیگر امریکی اخبارات کے مطابق، یہ کٹوتیاں میٹا کے ٹی بی ڈی لیب پر اثر انداز نہیں ہوں گی، جو چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ کے قائم کردہ خصوصی تحقیقی یونٹ کے تحت کام کر رہی ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق، ٹی بی ڈی لیب نے تیزی سے توسیع کی تھی اور اوپن اے آئی اور ایپل جیسی کمپنیوں سے اعلیٰ درجے کے محققین کو بھاری معاوضے پر بھرتی کیا تھا۔</p>
<p>تاہم، حالیہ چھانٹی کا نشانہ وہ ٹیمیں بنیں گی جو مصنوعی ذہانت پر مبنی مصنوعات اور بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) پر کام کر رہی تھیں۔ مقصد یہ ہے کہ کمپنی کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے، بغیر اس کے کہ میٹا کے طویل المدتی جدید منصوبے متاثر ہوں۔</p>
<p>وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، کمپنی متاثرہ ملازمین کو ادارے کے اندر دوسری ذمہ داریاں بھی دے سکتی ہے۔</p>
<p>نیو یارک ٹائمز نے لکھا کہ یہ فیصلہ تنظیمی پیچیدگی کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جو گزشتہ دو برسوں کے دوران تیز رفتار بھرتیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی۔</p>
<p>دونوں اخبارات نے چیف اے آئی آفیسر الیگزینڈر وانگ کے ایک میمو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ، اب فیصلے کرنے کے لیے کم لوگوں سے بات کرنا پڑے گی، جس سے عمل میں تیزی آئے گی۔</p>
<p>میٹا کی جانب سے اس معاملے پر اے ایف پی کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔</p>
<p>یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیاں دنیا بھر میں اپنے اے آئی شعبوں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اخراجات میں کمی اور تنظیمی اصلاحات پر بھی توجہ دے رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278485</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Oct 2025 12:05:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/23120249b4786b8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/23120249b4786b8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
