<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:37:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:37:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ نے روس کی تیل کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، ماسکو کی جوہری ہتھیاروں سے متعلق مشقیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278480/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ نے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں روسنیفٹ اور لوک آئل پر بدھ کے روز نئی پابندیاں عائد کر دیں، اور ماسکو پر الزام لگایا کہ وہ یوکرین میں جنگ ختم کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے، جب کہ روس نے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق ایک بڑی فوجی مشق کا آغاز کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پابندیاں ایک روز بعد سامنے آئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان مجوزہ سربراہی ملاقات منسوخ ہو گئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یہ ملاقات درست محسوس نہیں ہوئی، اس لیے منسوخ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں کو نشانہ بنانے کا مقصد ماسکو کی جنگی مالیاتی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ یہ اقدام وائٹ ہاؤس کی پالیسی میں ایک بڑا موڑ ہے، جو کبھی ماسکو پر دباؤ ڈالنے اور کبھی امن مذاکرات کے لیے نرم رویہ اختیار کرنے کے درمیان جھول رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اب وقت ہے کہ قتل و غارت روکی جائے اور فوری جنگ بندی کی جائے۔ ان کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 2 ڈالر فی بیرل سے زائد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے تصدیق کی کہ وہ یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹام ہاک میزائل فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ ان کے مطابق یوکرینیوں کو ان کے استعمال میں کم از کم چھ ماہ لگیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس نے بدھ کے روز ایٹمی مشقوں کی ویڈیوز جاری کیں، جن میں بین البراعظمی میزائلوں سمیت آبدوزوں اور فضائی لانچنگ سے فائر کیے گئے ہتھیار شامل تھے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق، طویل فاصلے کے ٹی یو-22 ایم3 بمبار طیارے بحیرہ بالٹک پر پرواز کرتے رہے جنہیں نیٹو ممالک کے طیاروں نے بھی فالو کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران، یورپی یونین نے روس پر پابندیوں کے 19ویں پیکیج کی منظوری دے دی، جس میں روسی مائع قدرتی گیس کی درآمد پر پابندی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈن نے یوکرین کو گریپن لڑاکا طیارے برآمد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق، یوکرین اگلے سال ان طیاروں کو حاصل کرنے اور استعمال کرنے کا آغاز کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر، پیوٹن اور ٹرمپ کی مجوزہ سربراہی ملاقات ملتوی ہونے کے بعد، یورپی دفاعی کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ دیکھا گیا۔ یورپی رہنماؤں نے جمعرات کو روس کے منجمد اثاثوں کو استعمال کر کے یوکرین کو 163 ارب ڈالر قرض دینے کی تجویز پر غور کرنا ہے، جسے ماسکو نے چوری قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ نے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں روسنیفٹ اور لوک آئل پر بدھ کے روز نئی پابندیاں عائد کر دیں، اور ماسکو پر الزام لگایا کہ وہ یوکرین میں جنگ ختم کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے، جب کہ روس نے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق ایک بڑی فوجی مشق کا آغاز کیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ پابندیاں ایک روز بعد سامنے آئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان مجوزہ سربراہی ملاقات منسوخ ہو گئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یہ ملاقات درست محسوس نہیں ہوئی، اس لیے منسوخ کی۔</p>
<p>امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں کو نشانہ بنانے کا مقصد ماسکو کی جنگی مالیاتی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ یہ اقدام وائٹ ہاؤس کی پالیسی میں ایک بڑا موڑ ہے، جو کبھی ماسکو پر دباؤ ڈالنے اور کبھی امن مذاکرات کے لیے نرم رویہ اختیار کرنے کے درمیان جھول رہی تھی۔</p>
<p>امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اب وقت ہے کہ قتل و غارت روکی جائے اور فوری جنگ بندی کی جائے۔ ان کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 2 ڈالر فی بیرل سے زائد اضافہ ہوا۔</p>
<p>ٹرمپ نے تصدیق کی کہ وہ یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹام ہاک میزائل فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ ان کے مطابق یوکرینیوں کو ان کے استعمال میں کم از کم چھ ماہ لگیں گے۔</p>
<p>روس نے بدھ کے روز ایٹمی مشقوں کی ویڈیوز جاری کیں، جن میں بین البراعظمی میزائلوں سمیت آبدوزوں اور فضائی لانچنگ سے فائر کیے گئے ہتھیار شامل تھے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق، طویل فاصلے کے ٹی یو-22 ایم3 بمبار طیارے بحیرہ بالٹک پر پرواز کرتے رہے جنہیں نیٹو ممالک کے طیاروں نے بھی فالو کیا۔</p>
<p>اسی دوران، یورپی یونین نے روس پر پابندیوں کے 19ویں پیکیج کی منظوری دے دی، جس میں روسی مائع قدرتی گیس کی درآمد پر پابندی شامل ہے۔</p>
<p>سویڈن نے یوکرین کو گریپن لڑاکا طیارے برآمد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق، یوکرین اگلے سال ان طیاروں کو حاصل کرنے اور استعمال کرنے کا آغاز کرے گا۔</p>
<p>ادھر، پیوٹن اور ٹرمپ کی مجوزہ سربراہی ملاقات ملتوی ہونے کے بعد، یورپی دفاعی کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ دیکھا گیا۔ یورپی رہنماؤں نے جمعرات کو روس کے منجمد اثاثوں کو استعمال کر کے یوکرین کو 163 ارب ڈالر قرض دینے کی تجویز پر غور کرنا ہے، جسے ماسکو نے چوری قرار دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278480</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Oct 2025 11:39:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/2311353548a1fff.webp" type="image/webp" medium="image" height="653" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/2311353548a1fff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
