<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:21:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:21:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف ڈی آئی– حساس سرمائے اور نامکمل اصلاحات کی کہانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278476/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی سست رفتاری کی کئی وجوہات ہیں۔ سیاسی اور سکیورٹی خطرات سے لے کر معاشی غیر یقینی صورتحال اور پالیسیوں میں عدم استحکام تک، غیر ملکی سرمایہ کاری ایک ایسے چکر میں پھنس چکی ہے جس پر غیر یقینی کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، خالص ایف ڈی آئی 568.8 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 865 ملین ڈالر کے مقابلے میں 34 فیصد کی کمی ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083826befbc74.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083826befbc74.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی سہ ماہی کے دوران ایف ڈی آئی کی مجموعی آمد 886 ملین ڈالر رہی جو گزشتہ سال کی 1.33 ارب ڈالر کی آمد سے کم ہے۔ جبکہ اخراج 317 ملین ڈالر تک محدود رہا جو گزشتہ سال 467 ملین ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2025 نے بھی اس کمزور رجحان کو مزید نمایاں کیا۔ اس مہینے ایف ڈی آئی کی آمد 306 ملین ڈالر رہی، جو سالانہ بنیاد پر 50 فیصد کم تھی، جبکہ اخراج 120 ملین ڈالر رہا، نتیجتاً خالص آمد 186 ملین ڈالر رہی جو ستمبر 2024 کی 417 ملین ڈالر کی خالص آمد سے خاصی کم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083837b6c3cb6.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083837b6c3cb6.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی سہ ماہی کے دوران ایف ڈی آئی کی سرمایہ کاری چند روایتی شعبوں تک محدود رہی۔ توانائی کے شعبے نے سب سے زیادہ 244 ملین ڈالر کی خالص سرمایہ کاری حاصل کی جو گزشتہ سال کے 548 ملین ڈالر کے مقابلے میں کم ہے۔ اس میں سب سے زیادہ سرمایہ کوئلے پر مبنی منصوبوں (115 ملین ڈالر) میں آیا، اس کے بعد ہائیڈل منصوبوں (109 ملین ڈالر) اور تھرمل (20 ملین ڈالر) منصوبے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی شعبے میں 180 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں 57.7 ملین ڈالر کی آمد تو ہوئی، تاہم زیادہ اخراج کے باعث 19.8 ملین ڈالر کی خالص منفی سرمایہ کاری دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083843a7710e1.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083843a7710e1.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں 12 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جو معتدل سرگرمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے برعکس ٹیلی کام اور آئی ٹی کے شعبے میں 22 ملین ڈالر کی خالص منفی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی، جبکہ آئی ٹی کی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی سہ ماہی میں چین پاکستان میں سب سے بڑا سرمایہ کار رہا، جس کی خالص سرمایہ کاری 189 ملین ڈالر رہی — جو گزشتہ سال کے 503 ملین ڈالر سے نمایاں طور پر کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/230838451098fa9.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/230838451098fa9.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر بڑے سرمایہ کاروں میں ہانگ کانگ (96 ملین ڈالر)، برطانیہ (54 ملین ڈالر)، متحدہ عرب امارات (50 ملین ڈالر)، اور سوئٹزرلینڈ (55 ملین ڈالر) شامل ہیں۔ یہ پانچ ممالک مجموعی خالص سرمایہ کاری کا بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں، جبکہ مغربی یورپ، جاپان، اور شمالی امریکا سے سرمایہ کاری محدود رہی، جو پاکستان کی چند مخصوص شراکت دار ممالک پر انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کم اخراج نے رواں سہ ماہی میں کچھ سہارا فراہم کیا، لیکن نئی سرمایہ کاری میں کمی تشویشناک ہے۔ چین اور دیگر اہم شراکت داروں کی جانب سے سرمایہ کاری میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار اصلاحاتی رفتار کی سستی کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083907a4165c2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083907a4165c2.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی سرمایہ کاری کی کہانی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں — یہ ان اعداد و شمار کے پیچھے اعتماد کی کہانی ہے۔ فی الحال وہ اعتماد محتاط نظر آتا ہے۔ سرمایہ کار پاکستان کو دیکھ ضرور رہے ہیں، رفتار کم کر رہے ہیں، مگر رکنے کے لیے تیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی بنیادی صلاحیتیں — مارکیٹ کا حجم، جغرافیائی محلِ وقوع، اور مواقع — سب موجود ہیں، مگر ان کے ساتھ شفافیت، استحکام، اور اعتماد کی کمی ہے۔ جب تک راستہ ہموار اور اشارے واضح نہیں ہوتے، غیر ملکی سرمایہ کاری محتاط رفتار سے آتی رہے گی، لیکن مضبوط دھارے میں تبدیل نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی سست رفتاری کی کئی وجوہات ہیں۔ سیاسی اور سکیورٹی خطرات سے لے کر معاشی غیر یقینی صورتحال اور پالیسیوں میں عدم استحکام تک، غیر ملکی سرمایہ کاری ایک ایسے چکر میں پھنس چکی ہے جس پر غیر یقینی کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>پاکستان میں رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، خالص ایف ڈی آئی 568.8 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 865 ملین ڈالر کے مقابلے میں 34 فیصد کی کمی ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083826befbc74.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083826befbc74.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>پہلی سہ ماہی کے دوران ایف ڈی آئی کی مجموعی آمد 886 ملین ڈالر رہی جو گزشتہ سال کی 1.33 ارب ڈالر کی آمد سے کم ہے۔ جبکہ اخراج 317 ملین ڈالر تک محدود رہا جو گزشتہ سال 467 ملین ڈالر تھا۔</p>
<p>ستمبر 2025 نے بھی اس کمزور رجحان کو مزید نمایاں کیا۔ اس مہینے ایف ڈی آئی کی آمد 306 ملین ڈالر رہی، جو سالانہ بنیاد پر 50 فیصد کم تھی، جبکہ اخراج 120 ملین ڈالر رہا، نتیجتاً خالص آمد 186 ملین ڈالر رہی جو ستمبر 2024 کی 417 ملین ڈالر کی خالص آمد سے خاصی کم تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083837b6c3cb6.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083837b6c3cb6.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>پہلی سہ ماہی کے دوران ایف ڈی آئی کی سرمایہ کاری چند روایتی شعبوں تک محدود رہی۔ توانائی کے شعبے نے سب سے زیادہ 244 ملین ڈالر کی خالص سرمایہ کاری حاصل کی جو گزشتہ سال کے 548 ملین ڈالر کے مقابلے میں کم ہے۔ اس میں سب سے زیادہ سرمایہ کوئلے پر مبنی منصوبوں (115 ملین ڈالر) میں آیا، اس کے بعد ہائیڈل منصوبوں (109 ملین ڈالر) اور تھرمل (20 ملین ڈالر) منصوبے شامل ہیں۔</p>
<p>مالیاتی شعبے میں 180 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں 57.7 ملین ڈالر کی آمد تو ہوئی، تاہم زیادہ اخراج کے باعث 19.8 ملین ڈالر کی خالص منفی سرمایہ کاری دیکھی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083843a7710e1.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083843a7710e1.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں 12 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جو معتدل سرگرمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے برعکس ٹیلی کام اور آئی ٹی کے شعبے میں 22 ملین ڈالر کی خالص منفی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی، جبکہ آئی ٹی کی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر رہی۔</p>
<p>پہلی سہ ماہی میں چین پاکستان میں سب سے بڑا سرمایہ کار رہا، جس کی خالص سرمایہ کاری 189 ملین ڈالر رہی — جو گزشتہ سال کے 503 ملین ڈالر سے نمایاں طور پر کم ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/230838451098fa9.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/230838451098fa9.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>دیگر بڑے سرمایہ کاروں میں ہانگ کانگ (96 ملین ڈالر)، برطانیہ (54 ملین ڈالر)، متحدہ عرب امارات (50 ملین ڈالر)، اور سوئٹزرلینڈ (55 ملین ڈالر) شامل ہیں۔ یہ پانچ ممالک مجموعی خالص سرمایہ کاری کا بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں، جبکہ مغربی یورپ، جاپان، اور شمالی امریکا سے سرمایہ کاری محدود رہی، جو پاکستان کی چند مخصوص شراکت دار ممالک پر انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ کم اخراج نے رواں سہ ماہی میں کچھ سہارا فراہم کیا، لیکن نئی سرمایہ کاری میں کمی تشویشناک ہے۔ چین اور دیگر اہم شراکت داروں کی جانب سے سرمایہ کاری میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار اصلاحاتی رفتار کی سستی کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083907a4165c2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/23083907a4165c2.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>پاکستان کی سرمایہ کاری کی کہانی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں — یہ ان اعداد و شمار کے پیچھے اعتماد کی کہانی ہے۔ فی الحال وہ اعتماد محتاط نظر آتا ہے۔ سرمایہ کار پاکستان کو دیکھ ضرور رہے ہیں، رفتار کم کر رہے ہیں، مگر رکنے کے لیے تیار نہیں۔</p>
<p>ملک کی بنیادی صلاحیتیں — مارکیٹ کا حجم، جغرافیائی محلِ وقوع، اور مواقع — سب موجود ہیں، مگر ان کے ساتھ شفافیت، استحکام، اور اعتماد کی کمی ہے۔ جب تک راستہ ہموار اور اشارے واضح نہیں ہوتے، غیر ملکی سرمایہ کاری محتاط رفتار سے آتی رہے گی، لیکن مضبوط دھارے میں تبدیل نہیں ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278476</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Oct 2025 10:58:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/231055454a58aca.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1344">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/231055454a58aca.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
