<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فائیو جی کے اجرا کو سنگین خطرات لاحق ہیں، حکومت کا اعتراف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278473/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، شیزا فاطمہ خواجہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے سے منتظر فائیو جی  سروس کا آغاز شدید خطرات سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، خطے میں سب سے زیادہ ٹیکسیشن، کم اوسط آمدنی فی صارف  اور ڈالر سے منسلک لائسنس فیس نے شعبے کو پہلے ہی دباؤ میں ڈال دیا ہے، جبکہ 2600 بینڈ میں 154 میگا ہرٹز اسپیکٹرم سے متعلق مقدمہ بازی فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی میں تاخیر یا اسے ناکام بنا سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِ آئی ٹی نے بتایا کہ پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر کام کر رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ 600 میگا ہرٹز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً تمام ٹیلی کام کمپنیاں خسارے میں جا رہی ہیں، جس کے باعث وہ دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے دسمبر 2025 میں فائیو جی نیلامی کی منظوری دی تھی، تاہم شیزا فاطمہ نے بتایا کہ نیلامی دسمبر 2025 میں یا ممکنہ طور پر جنوری 2026 تک مؤخر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو بڑی رکاوٹیں درپیش ہیں — ٹیلی نار اور پی ٹی سی ایل کے انضمام کا عمل اور بنیادی اسپیکٹرم بینڈ پر جاری قانونی کارروائی۔ انضمام کا مسئلہ دبئی مذاکرات میں حل ہوگیا، مگر مقدمہ بازی برقرار ہے، اگر ہم نیلامی کے وقت یہ مسئلہ حل نہ کر سکے تو نیلامی ناکام ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اراکینِ کمیٹی نے ٹیلی کام سروسز کی ناقص کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ رکنِ اسمبلی ذوالفقار بھٹی نے کہا کہ میرے حلقے میں نہ سگنل ہیں نہ انٹرنیٹ، کیا ہم یہاں صرف کھانے کے ڈبے کھانے آئے ہیں؟ جس پر کمیٹی چیئرمین سید امین الحق نے انہیں تسلی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر آئی ٹی نے وضاحت کی کہ محدود اسپیکٹرم کی وجہ سے بہتر سروس فراہم کرنا ممکن نہیں، چاہے ہزاروں نئے ٹاور لگا دیے جائیں۔ احمد عتیق نے کہا کہ ہمیشہ توجہ صرف بڑے شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد پر ہوتی ہے، چھوٹے شہروں کو کیوں نظرانداز کیا جاتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اسلام آباد آئی ٹی پارک منصوبے میں تاخیر، ناقص کنیکٹیویٹی اور یمن کے قریب زیرِ آب کیبل کی خرابی پر بھی بحث ہوئی۔ سیکریٹری نے بتایا کہ مرمت جاری ہے تاہم انٹرنیٹ ٹریفک متبادل راستوں سے منتقل کر دی گئی ہے تاکہ رابطے مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، شیزا فاطمہ خواجہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے سے منتظر فائیو جی  سروس کا آغاز شدید خطرات سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، خطے میں سب سے زیادہ ٹیکسیشن، کم اوسط آمدنی فی صارف  اور ڈالر سے منسلک لائسنس فیس نے شعبے کو پہلے ہی دباؤ میں ڈال دیا ہے، جبکہ 2600 بینڈ میں 154 میگا ہرٹز اسپیکٹرم سے متعلق مقدمہ بازی فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی میں تاخیر یا اسے ناکام بنا سکتی ہے۔</strong></p>
<p>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِ آئی ٹی نے بتایا کہ پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر کام کر رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ 600 میگا ہرٹز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً تمام ٹیلی کام کمپنیاں خسارے میں جا رہی ہیں، جس کے باعث وہ دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے دسمبر 2025 میں فائیو جی نیلامی کی منظوری دی تھی، تاہم شیزا فاطمہ نے بتایا کہ نیلامی دسمبر 2025 میں یا ممکنہ طور پر جنوری 2026 تک مؤخر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو بڑی رکاوٹیں درپیش ہیں — ٹیلی نار اور پی ٹی سی ایل کے انضمام کا عمل اور بنیادی اسپیکٹرم بینڈ پر جاری قانونی کارروائی۔ انضمام کا مسئلہ دبئی مذاکرات میں حل ہوگیا، مگر مقدمہ بازی برقرار ہے، اگر ہم نیلامی کے وقت یہ مسئلہ حل نہ کر سکے تو نیلامی ناکام ہو جائے گی۔</p>
<p>اراکینِ کمیٹی نے ٹیلی کام سروسز کی ناقص کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ رکنِ اسمبلی ذوالفقار بھٹی نے کہا کہ میرے حلقے میں نہ سگنل ہیں نہ انٹرنیٹ، کیا ہم یہاں صرف کھانے کے ڈبے کھانے آئے ہیں؟ جس پر کمیٹی چیئرمین سید امین الحق نے انہیں تسلی دی۔</p>
<p>وزیر آئی ٹی نے وضاحت کی کہ محدود اسپیکٹرم کی وجہ سے بہتر سروس فراہم کرنا ممکن نہیں، چاہے ہزاروں نئے ٹاور لگا دیے جائیں۔ احمد عتیق نے کہا کہ ہمیشہ توجہ صرف بڑے شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد پر ہوتی ہے، چھوٹے شہروں کو کیوں نظرانداز کیا جاتا ہے؟</p>
<p>اجلاس میں اسلام آباد آئی ٹی پارک منصوبے میں تاخیر، ناقص کنیکٹیویٹی اور یمن کے قریب زیرِ آب کیبل کی خرابی پر بھی بحث ہوئی۔ سیکریٹری نے بتایا کہ مرمت جاری ہے تاہم انٹرنیٹ ٹریفک متبادل راستوں سے منتقل کر دی گئی ہے تاکہ رابطے مستحکم رہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278473</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Oct 2025 10:20:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/23101840b75ef69.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/23101840b75ef69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
