<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 21:36:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 21:36:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا کے کے الیکٹرک ملٹی ایئر ٹیرف کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، پاور ڈویژن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278468/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن کے ترجمان نے نیپرا کے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) کے جائزے کے فیصلے کو کراچی کے عوام کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاور ڈویژن کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے مقررہ وقت میں میرٹ کی بنیاد پر اس کیس کا جائزہ جمع کرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق کچھ حلقے غلط معلومات کی بنیاد پر منفی پراپیگنڈا پھیلا رہے ہیں اور نیپرا کے فیصلے کو مالی چال یا صارفین پر بوجھ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ درحقیقت، نیپرا کے فیصلے انصاف، یکسانیت اور توانائی کے شعبے کی پائیداری کے اصولوں کے تحت کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق یہ جائزہ کے الیکٹرک کے ٹیرف فریم ورک کو دیگر ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے کیا گیا۔ نیپرا نے ان عناصر کو ختم کیا جو قومی ریگولیٹری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، جن میں غیرملکی کرنسی سے منسلک منافع اور نقصانات کے الاونسز شامل تھے۔ اس اقدام سے تمام یوٹیلیٹی اداروں کو شفافیت، لاگت کی وصولی اور کارکردگی کے یکساں اصولوں کے تحت لایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ریٹرن آن ایکویٹی (آر او ای) کو ڈالر کی بجائے پاکستانی روپے کی بنیاد پر متعین کیا گیا، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن نقصانات کو حقیقت پر مبنی سطح پر لایا گیا، اور ورکنگ کیپیٹل کی اجازت ضرورت کے مطابق دی گئی۔ یہ اقدامات ساختی توازن کی بحالی کے لیے ہیں، نہ کہ جائز وصولیوں میں کمی کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے واضح کیا کہ کچھ حلقے غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ نیپرا کے فیصلے سے کراچی کے صارفین کو کسی ریلیف سے محروم کیا گیا ہے۔ دراصل، کے الیکٹرک کا ایم وائے ٹی صارفین کے ٹیرف سے نہیں بلکہ کمپنی کی اندرونی آمدنی کی ضروریات سے متعلق ہے۔ پاکستان میں تمام صارفین کے لیے بجلی کے نرخ وفاقی حکومت یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت طے اور نوٹیفائی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ حکومت نے کراچی کے صارفین کے لیے دی جانے والی 7 روپے فی یونٹ سبسڈی ختم کر دی ہے یا کہیں اور منتقل کر دی ہے۔ کراچی کے صارفین کے لیے سبسڈی اب بھی برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ سبسڈی میں کمی کا مطلب فنڈز کی منتقلی نہیں بلکہ قومی بجٹ پر مالی بوجھ میں کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے آخر میں ترجمان نے کہا کہ نیپرا کا جائزہ ریگولیٹری غیرجانبداری کو مضبوط بناتا ہے، اور یہ فیصلہ ادارے کی خودمختار اتھارٹی کے تحت کیا گیا، جو ادارہ جاتی خودمختاری اور عوامی مفاد کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن کے ترجمان نے نیپرا کے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) کے جائزے کے فیصلے کو کراچی کے عوام کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔</strong></p>
<p>ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاور ڈویژن کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے مقررہ وقت میں میرٹ کی بنیاد پر اس کیس کا جائزہ جمع کرایا۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق کچھ حلقے غلط معلومات کی بنیاد پر منفی پراپیگنڈا پھیلا رہے ہیں اور نیپرا کے فیصلے کو مالی چال یا صارفین پر بوجھ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ درحقیقت، نیپرا کے فیصلے انصاف، یکسانیت اور توانائی کے شعبے کی پائیداری کے اصولوں کے تحت کیے گئے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق یہ جائزہ کے الیکٹرک کے ٹیرف فریم ورک کو دیگر ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے کیا گیا۔ نیپرا نے ان عناصر کو ختم کیا جو قومی ریگولیٹری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، جن میں غیرملکی کرنسی سے منسلک منافع اور نقصانات کے الاونسز شامل تھے۔ اس اقدام سے تمام یوٹیلیٹی اداروں کو شفافیت، لاگت کی وصولی اور کارکردگی کے یکساں اصولوں کے تحت لایا گیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ریٹرن آن ایکویٹی (آر او ای) کو ڈالر کی بجائے پاکستانی روپے کی بنیاد پر متعین کیا گیا، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن نقصانات کو حقیقت پر مبنی سطح پر لایا گیا، اور ورکنگ کیپیٹل کی اجازت ضرورت کے مطابق دی گئی۔ یہ اقدامات ساختی توازن کی بحالی کے لیے ہیں، نہ کہ جائز وصولیوں میں کمی کے لیے۔</p>
<p>ترجمان نے واضح کیا کہ کچھ حلقے غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ نیپرا کے فیصلے سے کراچی کے صارفین کو کسی ریلیف سے محروم کیا گیا ہے۔ دراصل، کے الیکٹرک کا ایم وائے ٹی صارفین کے ٹیرف سے نہیں بلکہ کمپنی کی اندرونی آمدنی کی ضروریات سے متعلق ہے۔ پاکستان میں تمام صارفین کے لیے بجلی کے نرخ وفاقی حکومت یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت طے اور نوٹیفائی کرتی ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ حکومت نے کراچی کے صارفین کے لیے دی جانے والی 7 روپے فی یونٹ سبسڈی ختم کر دی ہے یا کہیں اور منتقل کر دی ہے۔ کراچی کے صارفین کے لیے سبسڈی اب بھی برقرار ہے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ سبسڈی میں کمی کا مطلب فنڈز کی منتقلی نہیں بلکہ قومی بجٹ پر مالی بوجھ میں کمی ہے۔</p>
<p>بیان کے آخر میں ترجمان نے کہا کہ نیپرا کا جائزہ ریگولیٹری غیرجانبداری کو مضبوط بناتا ہے، اور یہ فیصلہ ادارے کی خودمختار اتھارٹی کے تحت کیا گیا، جو ادارہ جاتی خودمختاری اور عوامی مفاد کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278468</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Oct 2025 09:40:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/230939036e86469.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/230939036e86469.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
