<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 19:25:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 19:25:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گندم کا بحران پیدا ہوسکتا ، بیج کی ترسیل میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں ، ایس اے پی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278453/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیڈ ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس اے پی) نے پنجاب حکومت سے فوری اپیل کی ہے کہ وہ گندم کے بیج کی بین الصوبائی نقل و  حمل میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہے، کیونکہ گندم کی بوائی کا اہم سیزن شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ رکاوٹیں جاری رہیں تو ملک گیر سطح پر گندم کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے اپنے خدشات کا اظہار لاہور میں  پریس کانفرنس کے دوران کیا، جہاں چیئرمین ایس اے پی رانا سلمان محمود خان نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے صدر فہیم الرحمان سیگول کے ہمراہ خطاب کیا اور مسئلے کی سنگینی پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر ایل سی سی آئی کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، سابق صدر میاں انجم نثار، چودھری بلال اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین رانا سلمان نے کہا کہ گندم کی نقل و حمل وفاقی دائرہ اختیار میں آتی ہے اور کسی بھی صوبائی حکومت کو اس پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ رکاوٹیں برقرار رہیں تو پاکستان کو کروڑوں ڈالرز کی گندم درآمد کرنا پڑے گی، جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر غیر ضروری بوجھ ڈالے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا پنجاب کی سیڈ کمپنیاں ملک کی کل ضرورت کا 90 فیصد بیج فراہم کرتی ہیں، لیکن غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کا زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید خراب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیڈ ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس اے پی) نے پنجاب حکومت سے فوری اپیل کی ہے کہ وہ گندم کے بیج کی بین الصوبائی نقل و  حمل میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہے، کیونکہ گندم کی بوائی کا اہم سیزن شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ رکاوٹیں جاری رہیں تو ملک گیر سطح پر گندم کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ایسوسی ایشن نے اپنے خدشات کا اظہار لاہور میں  پریس کانفرنس کے دوران کیا، جہاں چیئرمین ایس اے پی رانا سلمان محمود خان نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے صدر فہیم الرحمان سیگول کے ہمراہ خطاب کیا اور مسئلے کی سنگینی پر زور دیا۔</p>
<p>اس موقع پر ایل سی سی آئی کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، سابق صدر میاں انجم نثار، چودھری بلال اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔</p>
<p>چیئرمین رانا سلمان نے کہا کہ گندم کی نقل و حمل وفاقی دائرہ اختیار میں آتی ہے اور کسی بھی صوبائی حکومت کو اس پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل نہیں۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ رکاوٹیں برقرار رہیں تو پاکستان کو کروڑوں ڈالرز کی گندم درآمد کرنا پڑے گی، جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر غیر ضروری بوجھ ڈالے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا پنجاب کی سیڈ کمپنیاں ملک کی کل ضرورت کا 90 فیصد بیج فراہم کرتی ہیں، لیکن غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کا زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید خراب ہوں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278453</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Oct 2025 13:11:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/22123530d9bc754.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/22123530d9bc754.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
