<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:09:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:09:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوآئی سی سی آئی کی ممبر کمپنیوں کی سال 2024 میں 2.7 کھرب روپے کی ٹیکس ادائیگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278409/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے 2024 کیلئے اپنی سالانہ معاشی و مالیاتی شراکت رپورٹ جاری کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق میکرو اکنامک چیلنجنگ حالات کے باوجود او آئی سی سی آئی کے ممبران نے پاکستان کی مارکیٹ میں ریزیلنس اور طویل المدّتی اعتماد کا اظہار جاری رکھا اور تمام اہم مالیاتی اشاریوں میں کلیدی شراکت داری کی اور او آئی سی سی آئی کے ممبران کی کنٹری بیوشن نے ملکی معیشت کے استحکام پر مثبت اثرات مرتب کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوآئی سی سی آئی کی ممبر کمپنیوں نے مالیاتی سال 2024کے دوران 1.2 ٹریلین روپے کا قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا جو 2020سے 2024کے دوران 34فیصد کی سالانہ مضبوط شرح نمو کی عکاسی ہے۔ اس عرصے کے دوران او آئی سی سی آئی کے ممبران کا مجموعی ٹرن اوور 11ٹریلین روپے سے تجاوز کرگیا اور حکومت کوٹیکس اور دیگر محصولات کی مدمیں 2.7ٹریلین روپے کی ادائیگیاکی گئیں جو روزانہ کی بنیادپر تقریباً10ارب روپے بنتاہے اور ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولیوں کے 30فیصد کے برابر ہے، اس عرصہ کے دوران او آئی سی سی آئی کے ممبران کے مجموعی اثاثے34ٹریلین روپے جبکہ کیپٹل اخراجا ت 470ا رب روپے سے زائد رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں،خاص طورپر او آئی سی سی آئی کے ممبران نے نئے سرمایہ کاروں کے مقابلے میں ملک پر زیادہ پائیدار اعتماد کا مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2015سے 2024کے درمیان، او آئی سی سی آئی کے ممبران کی مجموعی سرمایہ کاری 22.9ارب ڈالر رہی جو اسی عرصہ کے دوران پاکستان میں 22.1ارب ڈالر کی مجموعی نئی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI)سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی ممبران کی یہ دوبارہ سرمایہ کاری ملک کی طویل المدّتی اقتصادی صلاحیت پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو اجاگرکرتی ہےدوسری جانب سیکٹر کے لحاظ سے آئل اینڈ گیس، بینکنگ، ٹیلی کمیونیکیشن اور کیمیکل انڈسٹریز کلیدی شراکت دار رہیں۔ صرف بینکنگ اور فنانس سیکٹر نے مجموعی ممبراثاثوں کی 73فیصد نمائندگی کی جو مالیاتی خدمات کی ترقی اور منافع کی عکاسی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم نے  کہاکہ 30ممالک کے او آئی سی سی آئی ممبران جو ملک کے 13کلیدی شعبوں میں سرگرمِ عمل ہیں پاکستان کی ترقی کیلئے اپنی گہری وابستگی اوراعتماد کا مسلسل مظاہرہ کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ غیر یقینی عالمی صورتحال اور مقامی چیلنجز کے باوجود او آئی سی سی آئی کے ممبران نے نہ صرف اپنی سرمایہ کاری کو برقراررکھا بلکہ اس میں توسیع کی اورروزگار کے مواقع پیداکیے، بھاری ٹیکسز ادا کرنے کے ساتھ انڈسٹریز میں جدّت کو فروغ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ او آئی سی سی آئی پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے پہلا پلیٹ فارم ہے اورسرمایہ کاری کے نئے مواقع، نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے او آئی سی سی آئی پالیسی اصلاحات کیلئے کوششیں جاری رکھے گی جبکہ 30سے زائد ممالک کے او آئی سی سی آئی کے ممبران 13اہم شعبوں میں پاکستان کے قومی خزانے، انفرااسٹرکچر کی ترقی اور برآمدی صلاحیت میں نمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے 2024 کیلئے اپنی سالانہ معاشی و مالیاتی شراکت رپورٹ جاری کردی ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق میکرو اکنامک چیلنجنگ حالات کے باوجود او آئی سی سی آئی کے ممبران نے پاکستان کی مارکیٹ میں ریزیلنس اور طویل المدّتی اعتماد کا اظہار جاری رکھا اور تمام اہم مالیاتی اشاریوں میں کلیدی شراکت داری کی اور او آئی سی سی آئی کے ممبران کی کنٹری بیوشن نے ملکی معیشت کے استحکام پر مثبت اثرات مرتب کیے۔</p>
<p>اوآئی سی سی آئی کی ممبر کمپنیوں نے مالیاتی سال 2024کے دوران 1.2 ٹریلین روپے کا قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا جو 2020سے 2024کے دوران 34فیصد کی سالانہ مضبوط شرح نمو کی عکاسی ہے۔ اس عرصے کے دوران او آئی سی سی آئی کے ممبران کا مجموعی ٹرن اوور 11ٹریلین روپے سے تجاوز کرگیا اور حکومت کوٹیکس اور دیگر محصولات کی مدمیں 2.7ٹریلین روپے کی ادائیگیاکی گئیں جو روزانہ کی بنیادپر تقریباً10ارب روپے بنتاہے اور ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولیوں کے 30فیصد کے برابر ہے، اس عرصہ کے دوران او آئی سی سی آئی کے ممبران کے مجموعی اثاثے34ٹریلین روپے جبکہ کیپٹل اخراجا ت 470ا رب روپے سے زائد رہے۔</p>
<p>گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں،خاص طورپر او آئی سی سی آئی کے ممبران نے نئے سرمایہ کاروں کے مقابلے میں ملک پر زیادہ پائیدار اعتماد کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p>مالی سال 2015سے 2024کے درمیان، او آئی سی سی آئی کے ممبران کی مجموعی سرمایہ کاری 22.9ارب ڈالر رہی جو اسی عرصہ کے دوران پاکستان میں 22.1ارب ڈالر کی مجموعی نئی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI)سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی ممبران کی یہ دوبارہ سرمایہ کاری ملک کی طویل المدّتی اقتصادی صلاحیت پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو اجاگرکرتی ہےدوسری جانب سیکٹر کے لحاظ سے آئل اینڈ گیس، بینکنگ، ٹیلی کمیونیکیشن اور کیمیکل انڈسٹریز کلیدی شراکت دار رہیں۔ صرف بینکنگ اور فنانس سیکٹر نے مجموعی ممبراثاثوں کی 73فیصد نمائندگی کی جو مالیاتی خدمات کی ترقی اور منافع کی عکاسی ہے۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم نے  کہاکہ 30ممالک کے او آئی سی سی آئی ممبران جو ملک کے 13کلیدی شعبوں میں سرگرمِ عمل ہیں پاکستان کی ترقی کیلئے اپنی گہری وابستگی اوراعتماد کا مسلسل مظاہرہ کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ غیر یقینی عالمی صورتحال اور مقامی چیلنجز کے باوجود او آئی سی سی آئی کے ممبران نے نہ صرف اپنی سرمایہ کاری کو برقراررکھا بلکہ اس میں توسیع کی اورروزگار کے مواقع پیداکیے، بھاری ٹیکسز ادا کرنے کے ساتھ انڈسٹریز میں جدّت کو فروغ دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہاکہ او آئی سی سی آئی پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے پہلا پلیٹ فارم ہے اورسرمایہ کاری کے نئے مواقع، نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے او آئی سی سی آئی پالیسی اصلاحات کیلئے کوششیں جاری رکھے گی جبکہ 30سے زائد ممالک کے او آئی سی سی آئی کے ممبران 13اہم شعبوں میں پاکستان کے قومی خزانے، انفرااسٹرکچر کی ترقی اور برآمدی صلاحیت میں نمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278409</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Oct 2025 12:47:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/2112455973108a4.webp" type="image/webp" medium="image" height="575" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/2112455973108a4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
