<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میگا سیلز ٹیکس فراڈ کیس : درست تحقیقات نہ کرنے پر افسر کی برطرفی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278408/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے میگا سیلز ٹیکس فراڈ کیس میں درست تحقیقات نہ کرنے پر ان لینڈ ریونیو کے افسر (تفتیشی افسر) الطاف حسین کھوڑو کو نوکری سے برخاست کر دیا۔ ایف بی آر نے پیر کو اس سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق 26 مارچ 2024 کو کراچی کے ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او ون) میں 238.421 ارب روپے کے ٹیکس فراڈ کے الزام میں اویس بھٹہ اور 12 دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر  درج کی گئی تھی۔ اس کیس میں  میسرز نیومیٹرو فوڈ ویئر کمپنی  کراچی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آفس سے موصول انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق تفتیش میں سنگین خامیاں پائی گئیں، جس پر الطاف حسین کھوڑو کے خلاف سول سرونٹس (ایفی شنسی و ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے آفتاب عالم (بی ایس 20) کو انکوائری افسر مقرر کیا، جنہوں نے 17 جولائی 2025 کو رپورٹ پیش کی، جس میں افسر پر  نااہلی کا الزام ثابت ہوگیا۔ انکوائری میں معمولی سزا یعنی ایک سال کے لیے ترقی روکنے کی سفارش کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں  شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور افسر نے الزامات کی تردید کی۔ محکمانہ نمائندے (ڈی آر) نے بتایا کہ افسر نے میگا فراڈ کیس میں تفتیشی افسر کے طور پر سنجیدگی نہیں دکھائی اور مؤثر تفتیش کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا کہ چھ مستفید افراد نے جعلی/غیرقانونی ان پٹ کے طور پر 19 کروڑ 72 لاکھ روپے سے زائد رقم حاصل کی، جس میں سے تقریباً 11 کروڑ 74 لاکھ روپے واپس وصول کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی رقم ابھی وصول ہونی باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ملزم افسر کا مؤقف تھا کہ انہوں نے اپنی صلاحیت کے مطابق تفتیش کی جبکہ عدالت میں مؤثر پیروی قانونی پراسیکیوٹر کی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایف آئی آر میں نامزد افراد کی شناخت  کیلئے این آئی سی اور این ٹی این  دستیاب نہیں تھے اور دو شناختی کارڈز ان کی کوششوں سے بلاک کروائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے میگا سیلز ٹیکس فراڈ کیس میں درست تحقیقات نہ کرنے پر ان لینڈ ریونیو کے افسر (تفتیشی افسر) الطاف حسین کھوڑو کو نوکری سے برخاست کر دیا۔ ایف بی آر نے پیر کو اس سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاہے۔</strong></p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق 26 مارچ 2024 کو کراچی کے ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او ون) میں 238.421 ارب روپے کے ٹیکس فراڈ کے الزام میں اویس بھٹہ اور 12 دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر  درج کی گئی تھی۔ اس کیس میں  میسرز نیومیٹرو فوڈ ویئر کمپنی  کراچی شامل تھی۔</p>
<p>وزیراعظم آفس سے موصول انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق تفتیش میں سنگین خامیاں پائی گئیں، جس پر الطاف حسین کھوڑو کے خلاف سول سرونٹس (ایفی شنسی و ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کی گئی۔</p>
<p>ایف بی آر نے آفتاب عالم (بی ایس 20) کو انکوائری افسر مقرر کیا، جنہوں نے 17 جولائی 2025 کو رپورٹ پیش کی، جس میں افسر پر  نااہلی کا الزام ثابت ہوگیا۔ انکوائری میں معمولی سزا یعنی ایک سال کے لیے ترقی روکنے کی سفارش کی گئی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں  شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور افسر نے الزامات کی تردید کی۔ محکمانہ نمائندے (ڈی آر) نے بتایا کہ افسر نے میگا فراڈ کیس میں تفتیشی افسر کے طور پر سنجیدگی نہیں دکھائی اور مؤثر تفتیش کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے۔</p>
<p>مزید بتایا گیا کہ چھ مستفید افراد نے جعلی/غیرقانونی ان پٹ کے طور پر 19 کروڑ 72 لاکھ روپے سے زائد رقم حاصل کی، جس میں سے تقریباً 11 کروڑ 74 لاکھ روپے واپس وصول کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی رقم ابھی وصول ہونی باقی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ملزم افسر کا مؤقف تھا کہ انہوں نے اپنی صلاحیت کے مطابق تفتیش کی جبکہ عدالت میں مؤثر پیروی قانونی پراسیکیوٹر کی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایف آئی آر میں نامزد افراد کی شناخت  کیلئے این آئی سی اور این ٹی این  دستیاب نہیں تھے اور دو شناختی کارڈز ان کی کوششوں سے بلاک کروائے گئے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278408</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Oct 2025 12:47:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/211232549c88096.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/211232549c88096.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
