<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرنٹ اکائونٹ سرپلس حیران کن ، جشن منانے کا وقت نہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278401/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ستمبر 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ نے حیران کن طور پر 110 ملین ڈالر کا سرپلس ظاہر کیا، حالانکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے تجارتی اعدادوشمار (شپمنٹ کی بنیاد) کی بنیاد پر مارکیٹ ایک بڑے خسارے کی توقع کر رہی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق (ادائیگی کی بنیاد پر) تجارتی خسارہ تقریباً 1 ارب ڈالر کم ہے جتنا کہ پی بی ایس کے مطابق ظاہر ہوا تھا۔ اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ ادائیگیوں اور سامان کی روانگی (شپمنٹ) کے درمیان وقت کا فرق ہوتا ہے، جو بعض اوقات معمول سے زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ فرق زیادہ ہو جائے تو آنے والے مہینوں میں عموماً یہ فرق کم ہو جاتا ہے — اس کا مطلب ہے کہ مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی  میں ہمیں زیادہ خسارہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی  میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 594 ملین ڈالر ریکارڈ ہوا، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 502 ملین ڈالر کے خسارے سے زیادہ ہے۔ گزشتہ سال، بعد کی سہ ماہیوں میں سرپلس کی بدولت پورے سال کا نتیجہ سرپلس میں نکلا تھا۔ تاہم، اس سال ایسا ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ درآمدات (پی بی ایس کے مطابق) میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ برآمدات جمود کا شکار ہیں اور ترسیلاتِ زر کی شرحِ نمو بھی کم ہے۔ نتیجتاً، زیادہ خسارہ جلد یا بدیر کرنٹ اکاؤنٹ کے اعدادوشمار میں بھی جھلکنے لگے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/10/2108200369a866d.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشیائے صرف کی درآمدات ستمبر میں (اسٹیٹ بینک کے مطابق) 5.0 ارب ڈالر رہی، جبکہ (پی بی ایس کے شپمنٹ کی بنیاد پر) یہ 5.9 ارب ڈالر تھی۔ تفصیلی پی بی ایس ڈیٹا کے مطابق، درآمدات میں نمایاں اضافہ فوڈ گروپ (33 فیصد سالانہ)، مشینری گروپ (19 فیصد) اور ٹرانسپورٹ گروپ (146 فیصد) میں دیکھا گیا۔ موبائل فونز کی درآمدات تقریباً دوگنی ہو گئیں، جب کہ کاروں کے سی کے ڈی پارٹس میں بھی اسی طرح کا اضافہ ہوا۔ بسوں، ٹرکوں اور بھاری گاڑیوں کے سی کے ڈی پارٹس کی درآمدات 5 ملین ڈالر سے بڑھ کر 105 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں — جو سب سے نمایاں اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار مختلف منظرنامہ پیش کرتے ہیں، جہاں بسوں اور کاروں کی درآمدات نمایاں طور پر کم ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی ادائیگیاں آئندہ مہینوں میں ریکارڈ ہوں گی۔ ممکنہ طور پر کار اسمبلرز نے اپنی ادائیگیوں میں تاخیر کی ہے، جب کہ پنجاب حکومت کی جانب سے درآمد کردہ بسوں کی ادائیگیاں بھی کچھ وقفے سے ہوں گی۔ اسی طرح کا فرق فوڈ درآمدات میں بھی دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً پام آئل کے معاملے میں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدی بل (ادائیگی کی بنیاد پر) آئندہ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/10/21082021f8ce534.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور تشویشناک پہلو خوراک کے تجارتی خسارے میں اضافہ ہے — پی بی ایس کے اعدادوشمار کے مطابق (شپمنٹ کی بنیاد  پر)، مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ خسارہ 1.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے صرف 45 ملین ڈالر کے مقابلے میں ایک بڑا اضافہ ہے۔ یہ صورتحال مزید بگڑنے کا امکان ہے، کیونکہ آئندہ مہینوں میں گندم کی درآمد متوقع ہے۔ گزشتہ سال چاول کی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا، کیونکہ بھارت نے اپنی برآمدات عارضی طور پر روک دی تھیں۔ تاہم اب صورتحال معمول پر آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی چاول برآمدات میں 42 فیصد کمی ہو کر صرف 713 ملین ڈالر رہ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشیائے برآمدات میں کسی نمایاں گروپ میں نمایاں اضافہ نظر نہیں آ رہا۔ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکسٹائل برآمدات میں صرف 6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیگر صنعتی مصنوعات اور خوراکی اشیا کی برآمدات میں بالترتیب 3 فیصد اور 31 فیصد کمی دیکھی گئی۔ مجموعی طور پر برآمدات میں 4 فیصد کمی ہو کر یہ 7.6 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کچھ مختلف تصویر پیش کرتے ہیں — ان کے مطابق، پہلی سہ ماہی میں برآمدات 7 فیصد بڑھ کر 7.9 ارب ڈالر ہوئیں۔ امکان ہے کہ مستقبل میں اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کم ظاہر ہوں گے، جبکہ درآمدات کے اعدادوشمار زیادہ ہوں گے، جس سے تجارتی خسارہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی اعدادوشمار میں واحد مثبت پہلو تیل کی قیمتوں میں کمی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تیل کی اوسط قیمت 69 ڈالر فی بیرل رہی، جو گزشتہ سال کے 80 ڈالر فی بیرل کے مقابلے میں کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات (پی بی ایس کے مطابق) میں 7 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، حالانکہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی مقدار میں بالترتیب 10 فیصد اور 15 فیصد اضافہ ہوا۔ اکتوبر میں تیل کی قیمتیں مزید کم ہو چکی ہیں اور امکان ہے کہ باقی سال 60 ڈالر فی بیرل سے نیچے رہیں — جو غیر تیل درآمدات میں اضافے کی گنجائش فراہم کرے گا بغیر کسی معاشی دباؤ کے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور خوشخبری انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کی برآمدات میں اضافے کی ہے — ستمبر میں یہ اپنی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح 366 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو سالانہ 25 فیصد اضافہ ہے۔ برآمدات میں اس کا حصہ بڑھ کر 10.7 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی  میں آئی سی ٹی برآمدات 21 فیصد بڑھ کر 1.1 ارب ڈالر ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ہوم ریمیٹنسز یعنی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر بھی بلند سطح پر بڑھ رہی ہیں — جو 8 فیصد اضافے کے ساتھ 9.5 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔ تاہم برآمدات میں اسی رفتار کو باقی سال برقرار رکھنا ایک چیلنج ہوگا، کیونکہ گزشتہ سال کی دوسری ششماہی میں اعداد و شمار نمایاں طور پر بڑھ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، برآمدات میں اضافہ بڑھتی ہوئی درآمدات کی مالی معاونت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ کم تیل کی درآمدات اور معمولی زیادہ ترسیلات زر ممکنہ طور پر نان آئل امپورٹس (غیر تیل درآمدات) کے بڑھتے ہوئے حجم کا ساتھ نہیں دے پائیں گی۔ اور معیشت (جی ڈی پی) کو بڑھنے کے لیے درآمدات میں مزید اضافہ درکار ہوگا — جو بالآخر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کا سبب بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کو بیلنس آف پیمنٹس کرائسز  کے بغیر برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فنانشل اکاؤنٹس اور کیپیٹل اکاؤنٹس میں بھی اضافہ ہو۔ تاہم، فی الحال ان دونوں اکاؤنٹس میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) مالی سال کی پہلی سہ ماہی  میں 45 فیصد کمی کے ساتھ 484 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 879 ملین ڈالر تھی۔ یہ کمی بنیادی طور پر زیادہ ریپیٹری ایشن  یعنی منافع کی منتقلی کے باعث ہوئی، جس سے کمپنیوں کےمحفوظ شدہ منافع میں کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران پورٹ فولیو انویسٹمنٹ  میں بھی نمایاں گراوٹ آئی — اس سال 630 ملین ڈالر کی خالص رقم بیرونِ ملک چلی گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 143 ملین ڈالر کی خالص آمد  ہوئی تھی۔ یہ دونوں عوامل فنانشل اکاؤنٹس کو منفی سمت میں لے جا رہے تھے، مگر جنرل گورنمنٹ سروسز  نے کچھ سہارا دیا، جو پچھلے سال کے 573 ملین ڈالر کے اخراج کے مقابلے میں اب 359 ملین ڈالر کی آمد دکھا رہی ہیں۔
مجموعی طور پر فنانشل اکاؤنٹس کے ذریعے حاصل شدہ رقوم 527 ملین ڈالر رہیں — جو سالانہ 43 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ کے لیے، اگر زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانا ہے — جو پہلی سہ ماہی میں 274 ملین ڈالر کم ہوئے — تو فنانشل اکاؤنٹس خصوصاً گورنمنٹ سروسز میں نمایاں مثبت اضافہ ضروری ہوگا۔ حکومت کو امید ہے کہ جیوپولیٹیکل صورتحال  میں بہتری اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ بہتر تعلقات کے باعث مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو بیلنس آف پیمنٹس کی صورتحال قابو میں رہے گی — بصورتِ دیگر، بحران جنم لیتا نظر آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ستمبر 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ نے حیران کن طور پر 110 ملین ڈالر کا سرپلس ظاہر کیا، حالانکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے تجارتی اعدادوشمار (شپمنٹ کی بنیاد) کی بنیاد پر مارکیٹ ایک بڑے خسارے کی توقع کر رہی تھی۔</strong></p>
<p>تاہم، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق (ادائیگی کی بنیاد پر) تجارتی خسارہ تقریباً 1 ارب ڈالر کم ہے جتنا کہ پی بی ایس کے مطابق ظاہر ہوا تھا۔ اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ ادائیگیوں اور سامان کی روانگی (شپمنٹ) کے درمیان وقت کا فرق ہوتا ہے، جو بعض اوقات معمول سے زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ فرق زیادہ ہو جائے تو آنے والے مہینوں میں عموماً یہ فرق کم ہو جاتا ہے — اس کا مطلب ہے کہ مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی  میں ہمیں زیادہ خسارہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی  میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 594 ملین ڈالر ریکارڈ ہوا، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 502 ملین ڈالر کے خسارے سے زیادہ ہے۔ گزشتہ سال، بعد کی سہ ماہیوں میں سرپلس کی بدولت پورے سال کا نتیجہ سرپلس میں نکلا تھا۔ تاہم، اس سال ایسا ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ درآمدات (پی بی ایس کے مطابق) میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ برآمدات جمود کا شکار ہیں اور ترسیلاتِ زر کی شرحِ نمو بھی کم ہے۔ نتیجتاً، زیادہ خسارہ جلد یا بدیر کرنٹ اکاؤنٹ کے اعدادوشمار میں بھی جھلکنے لگے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/10/2108200369a866d.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>اشیائے صرف کی درآمدات ستمبر میں (اسٹیٹ بینک کے مطابق) 5.0 ارب ڈالر رہی، جبکہ (پی بی ایس کے شپمنٹ کی بنیاد پر) یہ 5.9 ارب ڈالر تھی۔ تفصیلی پی بی ایس ڈیٹا کے مطابق، درآمدات میں نمایاں اضافہ فوڈ گروپ (33 فیصد سالانہ)، مشینری گروپ (19 فیصد) اور ٹرانسپورٹ گروپ (146 فیصد) میں دیکھا گیا۔ موبائل فونز کی درآمدات تقریباً دوگنی ہو گئیں، جب کہ کاروں کے سی کے ڈی پارٹس میں بھی اسی طرح کا اضافہ ہوا۔ بسوں، ٹرکوں اور بھاری گاڑیوں کے سی کے ڈی پارٹس کی درآمدات 5 ملین ڈالر سے بڑھ کر 105 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں — جو سب سے نمایاں اضافہ ہے۔</p>
<p>تاہم، اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار مختلف منظرنامہ پیش کرتے ہیں، جہاں بسوں اور کاروں کی درآمدات نمایاں طور پر کم ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی ادائیگیاں آئندہ مہینوں میں ریکارڈ ہوں گی۔ ممکنہ طور پر کار اسمبلرز نے اپنی ادائیگیوں میں تاخیر کی ہے، جب کہ پنجاب حکومت کی جانب سے درآمد کردہ بسوں کی ادائیگیاں بھی کچھ وقفے سے ہوں گی۔ اسی طرح کا فرق فوڈ درآمدات میں بھی دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً پام آئل کے معاملے میں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدی بل (ادائیگی کی بنیاد پر) آئندہ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں جا سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/10/21082021f8ce534.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایک اور تشویشناک پہلو خوراک کے تجارتی خسارے میں اضافہ ہے — پی بی ایس کے اعدادوشمار کے مطابق (شپمنٹ کی بنیاد  پر)، مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ خسارہ 1.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے صرف 45 ملین ڈالر کے مقابلے میں ایک بڑا اضافہ ہے۔ یہ صورتحال مزید بگڑنے کا امکان ہے، کیونکہ آئندہ مہینوں میں گندم کی درآمد متوقع ہے۔ گزشتہ سال چاول کی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا، کیونکہ بھارت نے اپنی برآمدات عارضی طور پر روک دی تھیں۔ تاہم اب صورتحال معمول پر آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی چاول برآمدات میں 42 فیصد کمی ہو کر صرف 713 ملین ڈالر رہ گئی ہیں۔</p>
<p>اشیائے برآمدات میں کسی نمایاں گروپ میں نمایاں اضافہ نظر نہیں آ رہا۔ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکسٹائل برآمدات میں صرف 6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیگر صنعتی مصنوعات اور خوراکی اشیا کی برآمدات میں بالترتیب 3 فیصد اور 31 فیصد کمی دیکھی گئی۔ مجموعی طور پر برآمدات میں 4 فیصد کمی ہو کر یہ 7.6 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔</p>
<p>تاہم، اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کچھ مختلف تصویر پیش کرتے ہیں — ان کے مطابق، پہلی سہ ماہی میں برآمدات 7 فیصد بڑھ کر 7.9 ارب ڈالر ہوئیں۔ امکان ہے کہ مستقبل میں اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کم ظاہر ہوں گے، جبکہ درآمدات کے اعدادوشمار زیادہ ہوں گے، جس سے تجارتی خسارہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔</p>
<p>تجارتی اعدادوشمار میں واحد مثبت پہلو تیل کی قیمتوں میں کمی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تیل کی اوسط قیمت 69 ڈالر فی بیرل رہی، جو گزشتہ سال کے 80 ڈالر فی بیرل کے مقابلے میں کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات (پی بی ایس کے مطابق) میں 7 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، حالانکہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی مقدار میں بالترتیب 10 فیصد اور 15 فیصد اضافہ ہوا۔ اکتوبر میں تیل کی قیمتیں مزید کم ہو چکی ہیں اور امکان ہے کہ باقی سال 60 ڈالر فی بیرل سے نیچے رہیں — جو غیر تیل درآمدات میں اضافے کی گنجائش فراہم کرے گا بغیر کسی معاشی دباؤ کے۔</p>
<p>ایک اور خوشخبری انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کی برآمدات میں اضافے کی ہے — ستمبر میں یہ اپنی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح 366 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو سالانہ 25 فیصد اضافہ ہے۔ برآمدات میں اس کا حصہ بڑھ کر 10.7 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی  میں آئی سی ٹی برآمدات 21 فیصد بڑھ کر 1.1 ارب ڈالر ہو گئیں۔</p>
<p>اسی طرح ہوم ریمیٹنسز یعنی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر بھی بلند سطح پر بڑھ رہی ہیں — جو 8 فیصد اضافے کے ساتھ 9.5 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔ تاہم برآمدات میں اسی رفتار کو باقی سال برقرار رکھنا ایک چیلنج ہوگا، کیونکہ گزشتہ سال کی دوسری ششماہی میں اعداد و شمار نمایاں طور پر بڑھ گئے تھے۔</p>
<p>لہٰذا، برآمدات میں اضافہ بڑھتی ہوئی درآمدات کی مالی معاونت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ کم تیل کی درآمدات اور معمولی زیادہ ترسیلات زر ممکنہ طور پر نان آئل امپورٹس (غیر تیل درآمدات) کے بڑھتے ہوئے حجم کا ساتھ نہیں دے پائیں گی۔ اور معیشت (جی ڈی پی) کو بڑھنے کے لیے درآمدات میں مزید اضافہ درکار ہوگا — جو بالآخر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کا سبب بنے گا۔</p>
<p>اس صورتحال کو بیلنس آف پیمنٹس کرائسز  کے بغیر برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فنانشل اکاؤنٹس اور کیپیٹل اکاؤنٹس میں بھی اضافہ ہو۔ تاہم، فی الحال ان دونوں اکاؤنٹس میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔</p>
<p>غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) مالی سال کی پہلی سہ ماہی  میں 45 فیصد کمی کے ساتھ 484 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 879 ملین ڈالر تھی۔ یہ کمی بنیادی طور پر زیادہ ریپیٹری ایشن  یعنی منافع کی منتقلی کے باعث ہوئی، جس سے کمپنیوں کےمحفوظ شدہ منافع میں کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>اسی دوران پورٹ فولیو انویسٹمنٹ  میں بھی نمایاں گراوٹ آئی — اس سال 630 ملین ڈالر کی خالص رقم بیرونِ ملک چلی گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 143 ملین ڈالر کی خالص آمد  ہوئی تھی۔ یہ دونوں عوامل فنانشل اکاؤنٹس کو منفی سمت میں لے جا رہے تھے، مگر جنرل گورنمنٹ سروسز  نے کچھ سہارا دیا، جو پچھلے سال کے 573 ملین ڈالر کے اخراج کے مقابلے میں اب 359 ملین ڈالر کی آمد دکھا رہی ہیں۔
مجموعی طور پر فنانشل اکاؤنٹس کے ذریعے حاصل شدہ رقوم 527 ملین ڈالر رہیں — جو سالانہ 43 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔</p>
<p>آئندہ کے لیے، اگر زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانا ہے — جو پہلی سہ ماہی میں 274 ملین ڈالر کم ہوئے — تو فنانشل اکاؤنٹس خصوصاً گورنمنٹ سروسز میں نمایاں مثبت اضافہ ضروری ہوگا۔ حکومت کو امید ہے کہ جیوپولیٹیکل صورتحال  میں بہتری اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ بہتر تعلقات کے باعث مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو بیلنس آف پیمنٹس کی صورتحال قابو میں رہے گی — بصورتِ دیگر، بحران جنم لیتا نظر آ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278401</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Oct 2025 11:29:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/211127374f68e95.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/211127374f68e95.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
