<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا کا ٹیرف میں کمی کا فیصلہ پائیدار نہیں، کے الیکٹرک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278400/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی کی واحد بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک لمیٹڈ (کے ای) کا اوسط ٹیرف کم کرکے 32.37 روپے فی یونٹ مقرر کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق نیپرا کی جانب سے ٹیرف میں کمی کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ (کے ای) کی آمدنی کو ممکنہ طور پر دھچکا لگ سکتا ہے۔ نیپرا نے کے الیکٹرک کا اوسط ٹیرف کم کرکے 32.37 روپے فی یونٹ مقرر کر دیا ہے جو 27 مئی 2025 کو اعلان کردہ 39.97 روپے فی یونٹ کی شرح کی جگہ لے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو  پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے اپنے نوٹس میں کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا کا فیصلہ کے الیکٹرک کے لیے پائیدار نہیں ہوگا اور اس کے اسٹیک ہولڈرز، بشمول صارفین، پر بھی نمایاں اثرات مرتب کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے مطابق کمپنی اس فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور قابلِ اطلاق قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت دستیاب قانونی راستوں کو استعمال کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت نیپرا کی جانب سے وفاقی حکومت کی اُس درخواست کے جائزے کے بعد سامنے آئی ہے جو اس کے پہلے جاری کردہ فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ اس نظرِثانی کے نتیجے میں کے الیکٹرک کے مالی سال 2024 تا 2030 کے لیے کثیر المدتی بنیادی ٹیرف میں کمی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے فیصلے کے مطابق نیپرا نے کے الیکٹرک کے 50 ارب روپے مالیت کے رائٹ آف کلیمز سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اتھارٹی کو متنازع فیصلے میں ترمیم یا تبدیلی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ریگولیٹر نے اپنے سابقہ فیصلے میں ٹرانسمیشن، جنریشن اور سپلائی ٹیرف سے متعلق بعض پہلوؤں میں ترامیم کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا میں نظرِثانی کی یہ درخواستیں پاور ڈویژن، تنویر بیری، عارف بلوانی، رکنِ قومی اسمبلی سید حفیظ الدین، اور جماعتِ اسلامی کراچی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی کی واحد بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک لمیٹڈ (کے ای) کا اوسط ٹیرف کم کرکے 32.37 روپے فی یونٹ مقرر کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق نیپرا کی جانب سے ٹیرف میں کمی کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ (کے ای) کی آمدنی کو ممکنہ طور پر دھچکا لگ سکتا ہے۔ نیپرا نے کے الیکٹرک کا اوسط ٹیرف کم کرکے 32.37 روپے فی یونٹ مقرر کر دیا ہے جو 27 مئی 2025 کو اعلان کردہ 39.97 روپے فی یونٹ کی شرح کی جگہ لے گا۔</p>
<p>منگل کو  پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے اپنے نوٹس میں کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا کا فیصلہ کے الیکٹرک کے لیے پائیدار نہیں ہوگا اور اس کے اسٹیک ہولڈرز، بشمول صارفین، پر بھی نمایاں اثرات مرتب کرے گا۔</p>
<p>کے الیکٹرک کے مطابق کمپنی اس فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور قابلِ اطلاق قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت دستیاب قانونی راستوں کو استعمال کرے گی۔</p>
<p>یہ پیش رفت نیپرا کی جانب سے وفاقی حکومت کی اُس درخواست کے جائزے کے بعد سامنے آئی ہے جو اس کے پہلے جاری کردہ فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ اس نظرِثانی کے نتیجے میں کے الیکٹرک کے مالی سال 2024 تا 2030 کے لیے کثیر المدتی بنیادی ٹیرف میں کمی کی گئی۔</p>
<p>نئے فیصلے کے مطابق نیپرا نے کے الیکٹرک کے 50 ارب روپے مالیت کے رائٹ آف کلیمز سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اتھارٹی کو متنازع فیصلے میں ترمیم یا تبدیلی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔</p>
<p>تاہم ریگولیٹر نے اپنے سابقہ فیصلے میں ٹرانسمیشن، جنریشن اور سپلائی ٹیرف سے متعلق بعض پہلوؤں میں ترامیم کی ہیں۔</p>
<p>نیپرا میں نظرِثانی کی یہ درخواستیں پاور ڈویژن، تنویر بیری، عارف بلوانی، رکنِ قومی اسمبلی سید حفیظ الدین، اور جماعتِ اسلامی کراچی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278400</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Oct 2025 11:20:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/211050163f4f627.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/211050163f4f627.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
