<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:40:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 09:40:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف پی سی سی آئی کا صنعتوں کیلئے طویل المدتی بجلی پیکیج متعارف کرانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278397/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صنعتوں کے لیے طویل المدتی، بتدریج بجلی کھپت پیکیج متعارف کرائے تاکہ بلند ٹیرف کے باعث کم ہوتی مسابقت کا ازالہ کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِتوانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو ارسال کردہ ایک خط میں ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ حکومت نے پہلے وعدہ کیا تھا کہ صنعتی بجلی ٹیرف کو علاقائی سطح یعنی 6 سے 8 امریکی سینٹ فی یونٹ تک کم کیا جائے گا، مگر یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ موجودہ ٹیرف ڈھانچے کے باعث پاکستانی صنعتیں بنگلہ دیش، بھارت اور ویتنام کے حریف ممالک سے مسابقت برقرار رکھنے میں ناکام ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی نے پاور ڈویژن کی حالیہ اصلاحاتی کوششوں  خصوصاً نظم و نسق میں بہتری، ڈسپیچ افیشنسی اور مالی نظم و ضبط — کو سراہا، تاہم زور دیا کہ اگلا اہم قدم کم لاگت بجلی کی فراہمی ہے تاکہ پیداوار میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا کہ اگرچہ پاکستان میں بجلی پیداوار کی گنجائش اضافی ہے، مگر صنعتی طلب میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ دن کے اوقات میں بجلی پیداوار کی  لاگت 5 تا 7 روپے فی یونٹ ہے، لیکن انتہائی بلند ٹیرف کی وجہ سے صنعتیں قومی گرڈ سے بجلی لینے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے مطابق گزشتہ برس متعارف کرایا گیا بجلی سہولت پیکیج عملی طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ چند صنعتوں کو اوسطاً 2 روپے فی یونٹ کی بچت ہوئی، جبکہ اسے عوامی طور پر 26.07 روپے فی یونٹ رعایت کے طور پر پیش کیا گیا جس سے خریداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی نے تجویز دی کہ اگر اضافی بجلی کے لیے 16 روپے فی یونٹ کا انکریمنٹل ٹیرف مقرر کیا جائے تو صنعتوں کو 5 روپے فی یونٹ تک بچت حاصل ہو سکتی ہے، جس سے پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا۔ یہ اقدام بیکار پیداواری صلاحیت کے استعمال میں بھی مدد دے گا اور قومی گرڈ پر لوڈ بحال کرے گا، جس سے غیر منظم کیپٹو اور سولر بجلی کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پیکیج تمام علاقوں پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے، بشمول کراچی کے کے۔الیکٹرک صارفین، اور کورنگی، سائٹ، لانڈھی اور نارتھ کراچی جیسے صنعتی زونز کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ 9 سینٹ فی یونٹ کے وعدہ شدہ بیس ٹیرف کے حصول کے لیے واضح روڈ میپ دے اور عارضی ریلیف اسکیموں کے بجائے دیرپا اصلاحات کے ذریعے صنعتی مسابقت کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صنعتوں کے لیے طویل المدتی، بتدریج بجلی کھپت پیکیج متعارف کرائے تاکہ بلند ٹیرف کے باعث کم ہوتی مسابقت کا ازالہ کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>وزیرِتوانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو ارسال کردہ ایک خط میں ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ حکومت نے پہلے وعدہ کیا تھا کہ صنعتی بجلی ٹیرف کو علاقائی سطح یعنی 6 سے 8 امریکی سینٹ فی یونٹ تک کم کیا جائے گا، مگر یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ موجودہ ٹیرف ڈھانچے کے باعث پاکستانی صنعتیں بنگلہ دیش، بھارت اور ویتنام کے حریف ممالک سے مسابقت برقرار رکھنے میں ناکام ہیں۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی نے پاور ڈویژن کی حالیہ اصلاحاتی کوششوں  خصوصاً نظم و نسق میں بہتری، ڈسپیچ افیشنسی اور مالی نظم و ضبط — کو سراہا، تاہم زور دیا کہ اگلا اہم قدم کم لاگت بجلی کی فراہمی ہے تاکہ پیداوار میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔</p>
<p>خط میں کہا گیا کہ اگرچہ پاکستان میں بجلی پیداوار کی گنجائش اضافی ہے، مگر صنعتی طلب میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ دن کے اوقات میں بجلی پیداوار کی  لاگت 5 تا 7 روپے فی یونٹ ہے، لیکن انتہائی بلند ٹیرف کی وجہ سے صنعتیں قومی گرڈ سے بجلی لینے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے مطابق گزشتہ برس متعارف کرایا گیا بجلی سہولت پیکیج عملی طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ چند صنعتوں کو اوسطاً 2 روپے فی یونٹ کی بچت ہوئی، جبکہ اسے عوامی طور پر 26.07 روپے فی یونٹ رعایت کے طور پر پیش کیا گیا جس سے خریداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی نے تجویز دی کہ اگر اضافی بجلی کے لیے 16 روپے فی یونٹ کا انکریمنٹل ٹیرف مقرر کیا جائے تو صنعتوں کو 5 روپے فی یونٹ تک بچت حاصل ہو سکتی ہے، جس سے پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا۔ یہ اقدام بیکار پیداواری صلاحیت کے استعمال میں بھی مدد دے گا اور قومی گرڈ پر لوڈ بحال کرے گا، جس سے غیر منظم کیپٹو اور سولر بجلی کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی۔</p>
<p>تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پیکیج تمام علاقوں پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے، بشمول کراچی کے کے۔الیکٹرک صارفین، اور کورنگی، سائٹ، لانڈھی اور نارتھ کراچی جیسے صنعتی زونز کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ 9 سینٹ فی یونٹ کے وعدہ شدہ بیس ٹیرف کے حصول کے لیے واضح روڈ میپ دے اور عارضی ریلیف اسکیموں کے بجائے دیرپا اصلاحات کے ذریعے صنعتی مسابقت کو یقینی بنائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278397</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Oct 2025 10:37:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/211034466b5cc04.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/211034466b5cc04.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
