<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئل مارکیٹنگ کمپنی کی پٹرولیم کارگو کی کلیئرنس بینک گارنٹی کے بغیر کرنے کی اپیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278396/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئل مارکیٹنگ کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایف بی آر اور کسٹمز حکام کو ہدایت دیں کہ ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام پی او ایل (پیٹرولیم، آئل اینڈ لبریکنٹس) کارگو کی کلیئرنس بینک گارنٹی یا انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (آئی ڈی سی) کے اطلاق کے بغیر کی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی اے سی کے سیکریٹری جنرل سید نذیر عباس زیدی کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجے گئے خط کی نقول وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم، سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ، وزیراعظم کے پرسنل سیکریٹری اور چیئرمین اوگرا کو بھی ارسال کی گئیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں 1994ء سے پی او ایل درآمدات پر سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس عائد کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، جس نے ابتدائی طور پر حکم امتناع دیا، تاہم 2021 میں سیس کے نفاذ کو برقرار رکھا۔ بعد ازاں صنعت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، جس نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے بینک گارنٹی جمع کرانے کی روایت جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ اس دوران تیل کی صنعت نے ماضی کے طرزِ عمل کے مطابق بینک گارنٹی جمع نہیں کرائیں تاکہ سپلائی چین متاثر نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2023 میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ نے دوبارہ 100 فیصد بینک گارنٹی جمع کرانے کی شرط بحال کر دی۔ وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) اور اوگرا کی مداخلت پر عارضی انتظام کیا گیا، جس کے تحت بینک گارنٹی کے بجائے تحریری یقین دہانی جمع کرانے کی اجازت دی گئی۔ تاہم معاملہ تاحال سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، جب کہ سندھ حکومت نے ایک بار پھر بینک گارنٹی جمع کرانے کی لازمی شرط بحال کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی اے سی نے خبردار کیا ہے کہ 1.8 فیصد کی شرح سے آئی ڈی سی کا نفاذ مصنوعات کی فی لٹر لاگت میں 3 روپے سے زیادہ اضافہ کرے گا، جس کا بوجھ عوام پر پڑے گا کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریگولیٹڈ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ کئی پی او ایل کارگوز کسٹمز کلیئرنس کے منتظر ہیں، جن میں پی ایس او کا ایم ٹی السلام ٹو (ایچ ایس ڈی کارگو) اور ایچ پی ایل کا ایم ایس کارگو ایم ٹی ہافنیا آسٹریلیا شامل ہیں۔ کراچی کے کیماڑی میں ایم ایس اسٹاک کم ہو رہے ہیں جبکہ پی جی ایل اور پی ایس او کے کارگوز کو فوری کلیئرنس درکار ہے تاکہ ملک گیر ایندھن کی فراہمی متاثر نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی اے سی نے خبردار کیا کہ اگر اس نازک وقت، خصوصاً زرعی سیزن کے دوران، ایندھن کی سپلائی متاثر ہوئی تو قومی سطح پر ایندھن کی ترسیل کا نظام کم از کم دو ہفتے تک بحال نہیں ہو سکے گا۔ ادارے نے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تمام کارگو کلیئر کیے جائیں اور مستقبل میں آئی ڈی سی کی وصولی کے لیے واضح پالیسی تشکیل دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئل مارکیٹنگ کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایف بی آر اور کسٹمز حکام کو ہدایت دیں کہ ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام پی او ایل (پیٹرولیم، آئل اینڈ لبریکنٹس) کارگو کی کلیئرنس بینک گارنٹی یا انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (آئی ڈی سی) کے اطلاق کے بغیر کی جائے۔</strong></p>
<p>او سی اے سی کے سیکریٹری جنرل سید نذیر عباس زیدی کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجے گئے خط کی نقول وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم، سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ، وزیراعظم کے پرسنل سیکریٹری اور چیئرمین اوگرا کو بھی ارسال کی گئیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں 1994ء سے پی او ایل درآمدات پر سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس عائد کر رہی ہیں۔</p>
<p>یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، جس نے ابتدائی طور پر حکم امتناع دیا، تاہم 2021 میں سیس کے نفاذ کو برقرار رکھا۔ بعد ازاں صنعت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، جس نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے بینک گارنٹی جمع کرانے کی روایت جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ اس دوران تیل کی صنعت نے ماضی کے طرزِ عمل کے مطابق بینک گارنٹی جمع نہیں کرائیں تاکہ سپلائی چین متاثر نہ ہو۔</p>
<p>جولائی 2023 میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ نے دوبارہ 100 فیصد بینک گارنٹی جمع کرانے کی شرط بحال کر دی۔ وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) اور اوگرا کی مداخلت پر عارضی انتظام کیا گیا، جس کے تحت بینک گارنٹی کے بجائے تحریری یقین دہانی جمع کرانے کی اجازت دی گئی۔ تاہم معاملہ تاحال سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، جب کہ سندھ حکومت نے ایک بار پھر بینک گارنٹی جمع کرانے کی لازمی شرط بحال کر دی ہے۔</p>
<p>او سی اے سی نے خبردار کیا ہے کہ 1.8 فیصد کی شرح سے آئی ڈی سی کا نفاذ مصنوعات کی فی لٹر لاگت میں 3 روپے سے زیادہ اضافہ کرے گا، جس کا بوجھ عوام پر پڑے گا کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریگولیٹڈ ہیں۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ کئی پی او ایل کارگوز کسٹمز کلیئرنس کے منتظر ہیں، جن میں پی ایس او کا ایم ٹی السلام ٹو (ایچ ایس ڈی کارگو) اور ایچ پی ایل کا ایم ایس کارگو ایم ٹی ہافنیا آسٹریلیا شامل ہیں۔ کراچی کے کیماڑی میں ایم ایس اسٹاک کم ہو رہے ہیں جبکہ پی جی ایل اور پی ایس او کے کارگوز کو فوری کلیئرنس درکار ہے تاکہ ملک گیر ایندھن کی فراہمی متاثر نہ ہو۔</p>
<p>او سی اے سی نے خبردار کیا کہ اگر اس نازک وقت، خصوصاً زرعی سیزن کے دوران، ایندھن کی سپلائی متاثر ہوئی تو قومی سطح پر ایندھن کی ترسیل کا نظام کم از کم دو ہفتے تک بحال نہیں ہو سکے گا۔ ادارے نے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تمام کارگو کلیئر کیے جائیں اور مستقبل میں آئی ڈی سی کی وصولی کے لیے واضح پالیسی تشکیل دی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278396</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Oct 2025 10:27:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/21102546aceb5a9.webp" type="image/webp" medium="image" height="604" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/21102546aceb5a9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
