<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:33:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:33:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کا اسٹاف لیول معاہدہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278380/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن کے اختتام پر، جو 24 ستمبر سے 8 اکتوبر 2025 تک جاری رہا، ایک پریس ریلیز جاری کی گئی ہے جس میں ”نمایاں پیش رفت“ کا ذکر  اور یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ 37 ماہ کے توسیعی فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت دوسرے جائزے اور 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ (آر ایس ایف) کے تحت پہلے جائزے سے متعلق باقی ماندہ امور کے حل کے لیے بات چیت جاری رکھی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاف لیول معاہدہ (ایس ایل اے)، جس کے نتیجے میں ان دونوں پروگراموں کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری ہونا تھی، موخر کر دیا گیا۔ اس تاخیر نے ملک کے اندر اور باہر قیاس آرائیوں کو جنم دیا کہ حکومت کو ایس ایل اے کے اعلان سے قبل کچھ سخت پیشگی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ایک ہفتے بعد، 14 اکتوبر کو، آئی ایم ایف نے ایس ایل اے کا اعلان کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ 8 سے 14 اکتوبر کے درمیان کوئی بڑی مالی یا مالیاتی پالیسی میں تبدیلی نہیں کی گئی، اس لیے یہ جاننا نہایت اہم ہے کہ 8 اکتوبر کی پریس ریلیز میں کیا بات شامل تھی جو 14 اکتوبر کی ریلیز میں نہیں تھی اور 14 اکتوبر کی ریلیز میں کون سی نئی بات شامل کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 اکتوبر کی پریس ریلیز سے جو واحد لفظ حذف کیا گیا، وہ “شفافیت” تھا، جو 8 اکتوبر کی ریلیز میں شامل تھا، اگرچہ طرزِ حکمرانی میں بہتری کا ذکر دونوں بیانات میں موجود رہا۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ آئی ایم ایف شاید 2025 کے تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرین کی مدد کے لیے اپنی حمایت بڑھانے کا خواہاں تھا، اور اسی لیے آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط کے اجرا کو ترجیح دی گئی۔ اس منطق کے مطابق، ای ایف ایف کے تیسرے جائزے کے دوران حکومت کو زیادہ چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ ماہرین حیران ہیں، کیونکہ فنڈ آسانی سے ای ایف ایف اور آر ایس ایف کے تحت ایس ایل اے کو الگ بھی رکھ سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دونوں پریس ریلیزز (8 اور 14 اکتوبر) میں ایک مشترکہ نکتہ یہ تھا کہ مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جائے، جو عام طور پر فنڈ کی وہ اصطلاح ہے جس کے ذریعے قرض لینے والے ملک پر ٹیکس وصولیوں میں اضافے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ہدف کے مقابلے میں 198 ارب روپے کی کمی رہی، اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو مالی سال کے اختتام تک کم از کم 400 ارب روپے کے خسارے کی توقع ہے، جو ایک محتاط تخمینہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے، ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے آئی ایم ایف کا زور ہمیشہ مجموعی محصولات میں اضافے پر ہی رہا ہے، حالانکہ ماضی کے قریباً تمام 23 پروگراموں کی اسٹاف لیول دستاویزات میں بارہا ساختی اصلاحات اور بالواسطہ ٹیکسوں سے انحصار کم کرکے براہِ راست آمدنی پر مبنی ٹیکسوں کی طرف منتقلی پر زور دیا گیا۔ موجودہ بجٹ اب بھی 75 تا 80 فیصد حد تک بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بالواسطہ ٹیکس بالعموم کھپت پر عائد ہوتے ہیں — جن میں حالیہ مہینوں میں شوگر، سیمنٹ اور اب زیر غور کھاد ساز کارخانوں پر نافذ کیے گئے سیلز ٹیکس کی وصولیوں میں اضافے کے دعوے شامل ہیں۔ یہ ایک رجعتی ٹیکس ہے جو غریب طبقے پر زیادہ بوجھ ڈالتا ہے۔ مزید یہ کہ آئی ایم ایف نے اب تک ایف بی آر کی اس طرزِ عمل پر توجہ نہیں دی جس کے تحت وہ سیلز ٹیکس کی طرز پر عائد کردہ ودہولڈنگ ٹیکسوں کو براہِ راست ٹیکسوں میں شمار کرتا ہے، حالانکہ چند سال قبل آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اس جانب نشاندہی کی تھی۔ یہی غیرمنصفانہ ٹیکس ڈھانچہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کی ایک بڑی وجہ ہے، جو عالمی بینک کے تازہ ترین اندازے کے مطابق 44.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس وصولیوں میں کمی سے نمٹنے کے لیے حکومت غالباً وہی راستہ اختیار کرے گی جو ماضی میں کیا گیا — یعنی یا تو سرکاری ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے اخراجات میں کٹوتی کی جائے گی یا پھر موجودہ ٹیکسوں میں اضافہ اور/یا ٹیکس نیٹ میں توسیع کی جائے گی۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پی ایس ڈی پی کے تحت صرف 40.45 ارب روپے جاری کیے گئے، جب کہ اس مقصد کے لیے 156 ارب روپے کی منظوری دی گئی تھی۔ یہ صورتحال، ماضی کی طرح، ترقی کی رفتار پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ اگرچہ حکومت نجی شعبے پر مبنی نمو کی بات کرتی ہے، لیکن عملی طور پر پی ایس ڈی پی ہی معیشت کا اصل محرک رہا ہے — جس کا ثبوت وہ بھاری تجارتی قرضے ہیں جو حکومت بینکوں سے حاصل کرتی ہے اور جن کے باعث نجی شعبے کے لیے قرضوں کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسوں میں اضافہ یا ان کا دائرہ کار وسیع کرنا (جیسا کہ ای ایف ایف کے تحت فنڈ کے ساتھ طے شدہ ہنگامی اقدامات میں شامل ہے) موجودہ حالات میں سنگین سماجی و سیاسی اثرات پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب 14 اکتوبر کی پریس ریلیز کے مطابق سیلاب سے 70 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم 8 اکتوبر کی پریس ریلیز میں اس امر کا ذکر نہیں تھا جو 14 اکتوبر کی پریس ریلیز میں نمایاں طور پر شامل کیا گیا ہے، یعنی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالی بوجھ کی تقسیم کو وسعت دینے پر توجہ کے ساتھ مالیاتی ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانا۔ اس سلسلے میں تین بڑی رکاوٹیں درپیش ہیں: (الف) وفاقی حکومت نے رواں مالی سال میں 1464 ارب روپے کے صوبائی سرپلس کا تخمینہ لگایا، جبکہ چاروں صوبوں نے مجموعی طور پر صرف 874.6 ارب روپے کا سرپلس ظاہر کیا۔ سندھ نے منفی 37 ارب روپے اور پنجاب نے 790 ارب روپے کا سرپلس بجٹ میں رکھا، جو ممکنہ طور پر حاصل نہیں ہو پائے گا کیونکہ صوبائی حکومت متاثرینِ سیلاب کے لیے خاطر خواہ فنڈز جاری کر رہی ہے۔
(ب) چاروں صوبوں کی جانب سے زرعی محصول (فارم لیوی) کی متوقع وصولیاں آئی ایم ایف کی توقعات کے مقابلے میں بہت کم ہیں، جس سے محصولات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں۔ (ج) صوبائی بجٹوں میں وفاقی منتقلیوں پر انحصار بدستور زیادہ ہے، پنجاب 76 فیصد، سندھ 61 فیصد (خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کی وجہ سے)، خیبرپختونخوا 79 فیصد اور بلوچستان 78 فیصد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 اکتوبر کی پریس ریلیز میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ساختی اصلاحات نافذ کرے جن کا مقصد پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو — جو فنڈ پروگرام کے تحت نافذ کی گئی سخت مالیاتی اور مالی پالیسیوں کے باعث متاثر ہو چکی ہے۔ ساتھ ہی طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے (لیکن شفافیت کا ذکر کیے بغیر)، کاروباری ماحول بہتر کرنے (تاکہ نجی شعبے کی ترقی ممکن ہو سکے)، ریاستی ملکیتی اداروں کی اصلاحات کو آگے بڑھانے، اور طویل المدتی ترجیحات کو عملی شکل دینے پر بھی زور دیا گیا — وہ ترجیحات جو مسلسل غیر میرٹ پر مبنی سینیارٹی پر تقرریوں اور میرٹ کی بنیاد پر تقرری کی صورت میں مفادات کے ٹکراؤ جیسے فیصلوں کے باعث کمزور ہو چکی ہیں۔ ان معاملات میں شفافیت یا احتساب کا فقدان تاحال برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ فنڈ پروگرام کے ڈیزائن میں موجود خامیوں کو دور کر لیا گیا ہوگا، کم از کم دو کھرب روپے کے اخراجات میں کمی کے ذریعے، جس میں توانائی شعبے کی ٹیرف فرق سبسڈی پر نظرثانی بھی شامل ہو (تاکہ ساختی تبدیلیوں کے نفاذ کے لیے وقت مل سکے) اور مالی و مالیاتی سختیوں میں نرمی کی جائے تاکہ معیشت میں ایسی نمو حاصل ہو جو صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور یوں ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن کے اختتام پر، جو 24 ستمبر سے 8 اکتوبر 2025 تک جاری رہا، ایک پریس ریلیز جاری کی گئی ہے جس میں ”نمایاں پیش رفت“ کا ذکر  اور یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ 37 ماہ کے توسیعی فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت دوسرے جائزے اور 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ (آر ایس ایف) کے تحت پہلے جائزے سے متعلق باقی ماندہ امور کے حل کے لیے بات چیت جاری رکھی جائے گی۔</strong></p>
<p>اسٹاف لیول معاہدہ (ایس ایل اے)، جس کے نتیجے میں ان دونوں پروگراموں کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری ہونا تھی، موخر کر دیا گیا۔ اس تاخیر نے ملک کے اندر اور باہر قیاس آرائیوں کو جنم دیا کہ حکومت کو ایس ایل اے کے اعلان سے قبل کچھ سخت پیشگی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ایک ہفتے بعد، 14 اکتوبر کو، آئی ایم ایف نے ایس ایل اے کا اعلان کر دیا۔</p>
<p>چونکہ 8 سے 14 اکتوبر کے درمیان کوئی بڑی مالی یا مالیاتی پالیسی میں تبدیلی نہیں کی گئی، اس لیے یہ جاننا نہایت اہم ہے کہ 8 اکتوبر کی پریس ریلیز میں کیا بات شامل تھی جو 14 اکتوبر کی ریلیز میں نہیں تھی اور 14 اکتوبر کی ریلیز میں کون سی نئی بات شامل کی گئی ہے۔</p>
<p>14 اکتوبر کی پریس ریلیز سے جو واحد لفظ حذف کیا گیا، وہ “شفافیت” تھا، جو 8 اکتوبر کی ریلیز میں شامل تھا، اگرچہ طرزِ حکمرانی میں بہتری کا ذکر دونوں بیانات میں موجود رہا۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ آئی ایم ایف شاید 2025 کے تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرین کی مدد کے لیے اپنی حمایت بڑھانے کا خواہاں تھا، اور اسی لیے آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط کے اجرا کو ترجیح دی گئی۔ اس منطق کے مطابق، ای ایف ایف کے تیسرے جائزے کے دوران حکومت کو زیادہ چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ ماہرین حیران ہیں، کیونکہ فنڈ آسانی سے ای ایف ایف اور آر ایس ایف کے تحت ایس ایل اے کو الگ بھی رکھ سکتا تھا۔</p>
<p>تاہم دونوں پریس ریلیزز (8 اور 14 اکتوبر) میں ایک مشترکہ نکتہ یہ تھا کہ مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جائے، جو عام طور پر فنڈ کی وہ اصطلاح ہے جس کے ذریعے قرض لینے والے ملک پر ٹیکس وصولیوں میں اضافے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ہدف کے مقابلے میں 198 ارب روپے کی کمی رہی، اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو مالی سال کے اختتام تک کم از کم 400 ارب روپے کے خسارے کی توقع ہے، جو ایک محتاط تخمینہ ہے۔</p>
<p>بدقسمتی سے، ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے آئی ایم ایف کا زور ہمیشہ مجموعی محصولات میں اضافے پر ہی رہا ہے، حالانکہ ماضی کے قریباً تمام 23 پروگراموں کی اسٹاف لیول دستاویزات میں بارہا ساختی اصلاحات اور بالواسطہ ٹیکسوں سے انحصار کم کرکے براہِ راست آمدنی پر مبنی ٹیکسوں کی طرف منتقلی پر زور دیا گیا۔ موجودہ بجٹ اب بھی 75 تا 80 فیصد حد تک بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرتا ہے۔</p>
<p>یہ بالواسطہ ٹیکس بالعموم کھپت پر عائد ہوتے ہیں — جن میں حالیہ مہینوں میں شوگر، سیمنٹ اور اب زیر غور کھاد ساز کارخانوں پر نافذ کیے گئے سیلز ٹیکس کی وصولیوں میں اضافے کے دعوے شامل ہیں۔ یہ ایک رجعتی ٹیکس ہے جو غریب طبقے پر زیادہ بوجھ ڈالتا ہے۔ مزید یہ کہ آئی ایم ایف نے اب تک ایف بی آر کی اس طرزِ عمل پر توجہ نہیں دی جس کے تحت وہ سیلز ٹیکس کی طرز پر عائد کردہ ودہولڈنگ ٹیکسوں کو براہِ راست ٹیکسوں میں شمار کرتا ہے، حالانکہ چند سال قبل آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اس جانب نشاندہی کی تھی۔ یہی غیرمنصفانہ ٹیکس ڈھانچہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کی ایک بڑی وجہ ہے، جو عالمی بینک کے تازہ ترین اندازے کے مطابق 44.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p>ٹیکس وصولیوں میں کمی سے نمٹنے کے لیے حکومت غالباً وہی راستہ اختیار کرے گی جو ماضی میں کیا گیا — یعنی یا تو سرکاری ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے اخراجات میں کٹوتی کی جائے گی یا پھر موجودہ ٹیکسوں میں اضافہ اور/یا ٹیکس نیٹ میں توسیع کی جائے گی۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پی ایس ڈی پی کے تحت صرف 40.45 ارب روپے جاری کیے گئے، جب کہ اس مقصد کے لیے 156 ارب روپے کی منظوری دی گئی تھی۔ یہ صورتحال، ماضی کی طرح، ترقی کی رفتار پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ اگرچہ حکومت نجی شعبے پر مبنی نمو کی بات کرتی ہے، لیکن عملی طور پر پی ایس ڈی پی ہی معیشت کا اصل محرک رہا ہے — جس کا ثبوت وہ بھاری تجارتی قرضے ہیں جو حکومت بینکوں سے حاصل کرتی ہے اور جن کے باعث نجی شعبے کے لیے قرضوں کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔</p>
<p>ٹیکسوں میں اضافہ یا ان کا دائرہ کار وسیع کرنا (جیسا کہ ای ایف ایف کے تحت فنڈ کے ساتھ طے شدہ ہنگامی اقدامات میں شامل ہے) موجودہ حالات میں سنگین سماجی و سیاسی اثرات پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب 14 اکتوبر کی پریس ریلیز کے مطابق سیلاب سے 70 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔</p>
<p>تاہم 8 اکتوبر کی پریس ریلیز میں اس امر کا ذکر نہیں تھا جو 14 اکتوبر کی پریس ریلیز میں نمایاں طور پر شامل کیا گیا ہے، یعنی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالی بوجھ کی تقسیم کو وسعت دینے پر توجہ کے ساتھ مالیاتی ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانا۔ اس سلسلے میں تین بڑی رکاوٹیں درپیش ہیں: (الف) وفاقی حکومت نے رواں مالی سال میں 1464 ارب روپے کے صوبائی سرپلس کا تخمینہ لگایا، جبکہ چاروں صوبوں نے مجموعی طور پر صرف 874.6 ارب روپے کا سرپلس ظاہر کیا۔ سندھ نے منفی 37 ارب روپے اور پنجاب نے 790 ارب روپے کا سرپلس بجٹ میں رکھا، جو ممکنہ طور پر حاصل نہیں ہو پائے گا کیونکہ صوبائی حکومت متاثرینِ سیلاب کے لیے خاطر خواہ فنڈز جاری کر رہی ہے۔
(ب) چاروں صوبوں کی جانب سے زرعی محصول (فارم لیوی) کی متوقع وصولیاں آئی ایم ایف کی توقعات کے مقابلے میں بہت کم ہیں، جس سے محصولات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں۔ (ج) صوبائی بجٹوں میں وفاقی منتقلیوں پر انحصار بدستور زیادہ ہے، پنجاب 76 فیصد، سندھ 61 فیصد (خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کی وجہ سے)، خیبرپختونخوا 79 فیصد اور بلوچستان 78 فیصد۔</p>
<p>14 اکتوبر کی پریس ریلیز میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ساختی اصلاحات نافذ کرے جن کا مقصد پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو — جو فنڈ پروگرام کے تحت نافذ کی گئی سخت مالیاتی اور مالی پالیسیوں کے باعث متاثر ہو چکی ہے۔ ساتھ ہی طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے (لیکن شفافیت کا ذکر کیے بغیر)، کاروباری ماحول بہتر کرنے (تاکہ نجی شعبے کی ترقی ممکن ہو سکے)، ریاستی ملکیتی اداروں کی اصلاحات کو آگے بڑھانے، اور طویل المدتی ترجیحات کو عملی شکل دینے پر بھی زور دیا گیا — وہ ترجیحات جو مسلسل غیر میرٹ پر مبنی سینیارٹی پر تقرریوں اور میرٹ کی بنیاد پر تقرری کی صورت میں مفادات کے ٹکراؤ جیسے فیصلوں کے باعث کمزور ہو چکی ہیں۔ ان معاملات میں شفافیت یا احتساب کا فقدان تاحال برقرار ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>آخر میں یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ فنڈ پروگرام کے ڈیزائن میں موجود خامیوں کو دور کر لیا گیا ہوگا، کم از کم دو کھرب روپے کے اخراجات میں کمی کے ذریعے، جس میں توانائی شعبے کی ٹیرف فرق سبسڈی پر نظرثانی بھی شامل ہو (تاکہ ساختی تبدیلیوں کے نفاذ کے لیے وقت مل سکے) اور مالی و مالیاتی سختیوں میں نرمی کی جائے تاکہ معیشت میں ایسی نمو حاصل ہو جو صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور یوں ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔</p>
</blockquote>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278380</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Oct 2025 17:14:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/201608318a5541c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/201608318a5541c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
