<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی منشیات مخالف جنگ، قیدی قانونی الجھن بن سکتے ہیں، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278363/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ ہفتے کیریبین میں امریکی فوجی حملے سے بچ جانے والے دو مبینہ منشیات اسمگلروں کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ ایک مشکل فیصلے سے دوچار ہوگئی کہ انہیں واپس بھیجا جائے یا حراست میں رکھا جائے۔ امریکہ نے گزشتہ ماہ کیریبین میں منشیات سے منسلک دہشت گردی کے خلاف ایک فوجی مہم شروع کی تھی، جسے انتظامیہ نے غیر عالمی مسلح تنازعہ قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جمعرات کو ایک نیم آبدوز کشتی پر امریکی حملے کے بعد بچ جانے والے دونوں افراد کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا گیا۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن فی الحال ان قانونی پیچیدگیوں سے بچنا چاہتا ہے جو فوجی حراست کے فیصلے سے پیدا ہوسکتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی ماہرِ قانون برائن فینوکین نے کہا کہ انتظامیہ نے وہ راستہ اختیار کیا جو اسے سب سے کم نقصان دہ لگا۔ انہیں واپس بھیجنا اس شرمندہ کن واقعے کو جلد ختم کرنے کا ایک طریقہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کا حملہ حالیہ مہم کے دوران اپنی نوعیت کا منفرد تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کا مقصد نیم آبدوز کو تباہ کرنا تھا — ایسی کشتیاں عام طور پر منشیات فروش استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ سطحِ سمندر کے نیچے سفر کرتی ہیں اور نظر سے اوجھل رہتی ہیں۔ اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ دو کو بچا لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کے خلاف منشیات اسمگلنگ کے شواہد موجود تھے، لیکن انہیں طویل فوجی حراست میں رکھنے کے لیے کوئی مضبوط قانونی بنیاد نہیں تھی۔ قانونی ماہر راچل وین لینڈنگھم نے کہا کہ جب کوئی حقیقی مسلح تنازعہ موجود نہیں، تو قانونِ جنگ کے تحت حراست کا کوئی جواز نہیں بنتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی انتظامیہ انہیں غیر قانونی جنگجو قرار دے کر گوانتانامو بے میں رکھ سکتی تھی یا امریکی عدالت میں مقدمہ چلا سکتی تھی، لیکن اس سے سیاسی اور قانونی بحران پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جم ہائمز نے کہا کہ کیریبین میں ان کشتیوں پر حملے غیر قانونی ہیں، اگر یہ افراد کسی عدالت میں پیش کیے جاتے تو یہ بات فوراً واضح ہوجاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک امریکی حکومت نے ان حملوں کے بارے میں کم معلومات فراہم کی ہیں، جبکہ کولمبیا کے صدر نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ نے ایک ماہی گیر کشتی کو نشانہ بنایا، جس سے تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ ہفتے کیریبین میں امریکی فوجی حملے سے بچ جانے والے دو مبینہ منشیات اسمگلروں کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ ایک مشکل فیصلے سے دوچار ہوگئی کہ انہیں واپس بھیجا جائے یا حراست میں رکھا جائے۔ امریکہ نے گزشتہ ماہ کیریبین میں منشیات سے منسلک دہشت گردی کے خلاف ایک فوجی مہم شروع کی تھی، جسے انتظامیہ نے غیر عالمی مسلح تنازعہ قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جمعرات کو ایک نیم آبدوز کشتی پر امریکی حملے کے بعد بچ جانے والے دونوں افراد کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا گیا۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن فی الحال ان قانونی پیچیدگیوں سے بچنا چاہتا ہے جو فوجی حراست کے فیصلے سے پیدا ہوسکتی تھیں۔</p>
<p>بین الاقوامی ماہرِ قانون برائن فینوکین نے کہا کہ انتظامیہ نے وہ راستہ اختیار کیا جو اسے سب سے کم نقصان دہ لگا۔ انہیں واپس بھیجنا اس شرمندہ کن واقعے کو جلد ختم کرنے کا ایک طریقہ تھا۔</p>
<p>جمعرات کا حملہ حالیہ مہم کے دوران اپنی نوعیت کا منفرد تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کا مقصد نیم آبدوز کو تباہ کرنا تھا — ایسی کشتیاں عام طور پر منشیات فروش استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ سطحِ سمندر کے نیچے سفر کرتی ہیں اور نظر سے اوجھل رہتی ہیں۔ اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ دو کو بچا لیا گیا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کے خلاف منشیات اسمگلنگ کے شواہد موجود تھے، لیکن انہیں طویل فوجی حراست میں رکھنے کے لیے کوئی مضبوط قانونی بنیاد نہیں تھی۔ قانونی ماہر راچل وین لینڈنگھم نے کہا کہ جب کوئی حقیقی مسلح تنازعہ موجود نہیں، تو قانونِ جنگ کے تحت حراست کا کوئی جواز نہیں بنتا۔</p>
<p>امریکی انتظامیہ انہیں غیر قانونی جنگجو قرار دے کر گوانتانامو بے میں رکھ سکتی تھی یا امریکی عدالت میں مقدمہ چلا سکتی تھی، لیکن اس سے سیاسی اور قانونی بحران پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔</p>
<p>ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جم ہائمز نے کہا کہ کیریبین میں ان کشتیوں پر حملے غیر قانونی ہیں، اگر یہ افراد کسی عدالت میں پیش کیے جاتے تو یہ بات فوراً واضح ہوجاتی۔</p>
<p>اب تک امریکی حکومت نے ان حملوں کے بارے میں کم معلومات فراہم کی ہیں، جبکہ کولمبیا کے صدر نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ نے ایک ماہی گیر کشتی کو نشانہ بنایا، جس سے تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278363</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Oct 2025 11:54:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/2011532247c9c44.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/2011532247c9c44.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
