<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روسی تیل کی درآمدات بند ہونے تک بھارت پر بھاری محصولات برقرار رہیں گے، ٹرمپ کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278362/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز دوبارہ دعویٰ کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کر دے گا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نئی دہلی نے ایسا نہ کیا تو اسے بھاری محصولات ادا کرتے رہنا ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھارتی وزیراعظم مودی سے بات کی، اور انہوں نے کہا کہ وہ روسی تیل کے معاملے میں شامل نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت کا کہنا ہے کہ مودی اور ٹرمپ کے درمیان ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ اگر وہ ایسا کہنا چاہتے ہیں تو پھر وہ بھاری محصولات ادا کرتے رہیں گے، اور وہ ایسا نہیں چاہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی تیل کا معاملہ طویل تجارتی مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم تنازع بن چکا ہے۔ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد محصولات میں سے نصف روسی تیل کی خریداری کے ردعمل میں عائد کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ تیل کی آمدنی روس کی یوکرین میں جاری جنگ کے لیے مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد جب مغربی ممالک نے روسی تیل کی خریداری پر پابندی عائد کی، تو بھارت رعایتی نرخوں پر روسی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ بدھ کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کرے گا۔ تاہم بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اسے اس روز کسی ایسی ٹیلیفونک گفتگو کی اطلاع نہیں، لیکن بھارت کا مؤقف ہے کہ اس کی ترجیح بھارتی صارف کے مفادات کا تحفظ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق بھارت نے روسی تیل کی درآمد نصف کر دی ہے، مگر بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی کسی واضح کمی کے آثار نظر نہیں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق نومبر کے لیے تیل کے آرڈرز پہلے ہی دیے جا چکے ہیں، لہٰذا خریداری میں ممکنہ کمی دسمبر یا جنوری میں ظاہر ہو گی۔ کپلر نامی کموڈیٹی ڈیٹا فرم کے مطابق بھارت کی روسی تیل کی درآمدات رواں ماہ 20 فیصد اضافے کے ساتھ 19 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچنے کا امکان ہے، کیونکہ روس نے اپنے متاثرہ ریفائنریوں کی بحالی کے بعد برآمدات میں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز دوبارہ دعویٰ کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کر دے گا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نئی دہلی نے ایسا نہ کیا تو اسے بھاری محصولات ادا کرتے رہنا ہوں گے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھارتی وزیراعظم مودی سے بات کی، اور انہوں نے کہا کہ وہ روسی تیل کے معاملے میں شامل نہیں ہوں گے۔</p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت کا کہنا ہے کہ مودی اور ٹرمپ کے درمیان ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ اگر وہ ایسا کہنا چاہتے ہیں تو پھر وہ بھاری محصولات ادا کرتے رہیں گے، اور وہ ایسا نہیں چاہیں گے۔</p>
<p>روسی تیل کا معاملہ طویل تجارتی مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم تنازع بن چکا ہے۔ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد محصولات میں سے نصف روسی تیل کی خریداری کے ردعمل میں عائد کیے تھے۔</p>
<p>امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ تیل کی آمدنی روس کی یوکرین میں جاری جنگ کے لیے مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔</p>
<p>2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد جب مغربی ممالک نے روسی تیل کی خریداری پر پابندی عائد کی، تو بھارت رعایتی نرخوں پر روسی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار بن گیا۔</p>
<p>گزشتہ بدھ کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کرے گا۔ تاہم بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اسے اس روز کسی ایسی ٹیلیفونک گفتگو کی اطلاع نہیں، لیکن بھارت کا مؤقف ہے کہ اس کی ترجیح بھارتی صارف کے مفادات کا تحفظ ہے۔</p>
<p>وہائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق بھارت نے روسی تیل کی درآمد نصف کر دی ہے، مگر بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی کسی واضح کمی کے آثار نظر نہیں آئے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق نومبر کے لیے تیل کے آرڈرز پہلے ہی دیے جا چکے ہیں، لہٰذا خریداری میں ممکنہ کمی دسمبر یا جنوری میں ظاہر ہو گی۔ کپلر نامی کموڈیٹی ڈیٹا فرم کے مطابق بھارت کی روسی تیل کی درآمدات رواں ماہ 20 فیصد اضافے کے ساتھ 19 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچنے کا امکان ہے، کیونکہ روس نے اپنے متاثرہ ریفائنریوں کی بحالی کے بعد برآمدات میں اضافہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278362</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Oct 2025 11:48:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/201146469606c99.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/201146469606c99.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
