<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:14:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:14:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زہریلی دھند نے بھارتی دارالحکومت کو لپیٹ میں لے لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278361/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی دارالحکومت نئی دہلی پیر کے روز زہریلی اور گھنی دھند میں لپٹا رہا جب ہوا میں آلودگی کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ حد سے 16 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ 3 کروڑ سے زائد آبادی والے اس میٹروپولیٹن علاقے کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں ہر سال سردیوں کے موسم میں اسموگ آسمان کو ڈھانپ لیتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق سرد موسم میں ٹھنڈی ہوا آلودہ ذرات کو زمین کے قریب روک  دیتی ہے، جس سے فصلوں کی باقیات جلانے، صنعتی اخراج اور بھاری ٹریفک کے دھوئیں کا مہلک امتزاج بنتا ہے۔ رواں ہفتے دیوالی کے تہوار پر آتش بازی کے باعث آلودگی میں مزید اضافہ ہوا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے رواں ماہ دیوالی کے موقع پر مکمل پابندی میں نرمی کرتے ہوئے کم دھواں خارج کرنے والے گرین پٹاخوں کی اجازت دی تھی، تاہم ماضی کی طرح اس بار بھی اس فیصلے پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹرنگ ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں پی ایم 2.5 ذرات کی مقدار 248 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی — یہ انتہائی خطرناک سطح ہے کیونکہ یہ مائیکرو ذرات انسانی خون میں داخل ہو سکتے ہیں اور کینسر سمیت مختلف بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے کمیشن برائے ایئر کوالٹی مینجمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں فضا کی کیفیت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ کمیشن نے ڈیزل جنریٹرز کے استعمال میں کمی کے لیے بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے اور دیگر ہنگامی اقدامات کی ہدایت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی کی انتظامیہ نے فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے پہلی بار کلاؤڈ سیڈنگ (مصنوعی بارش پیدا کرنے) کے تجربے کا بھی اعلان کیا ہے۔ وزیرِ ماحولیات منجندر سنگھ سرسا کے مطابق ہوائی پروازوں اور پائلٹ تربیت کے تمام مراحل مکمل کر لیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جریدے دی لینسٹ پلینیٹری ہیلتھ کی ایک تحقیق کے مطابق 2009 سے 2019 کے دوران بھارت میں 38 لاکھ اموات فضائی آلودگی سے منسلک تھیں، جبکہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ آلودہ فضا بچوں میں سانس کی شدید بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی دارالحکومت نئی دہلی پیر کے روز زہریلی اور گھنی دھند میں لپٹا رہا جب ہوا میں آلودگی کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ حد سے 16 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ 3 کروڑ سے زائد آبادی والے اس میٹروپولیٹن علاقے کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں ہر سال سردیوں کے موسم میں اسموگ آسمان کو ڈھانپ لیتی ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق سرد موسم میں ٹھنڈی ہوا آلودہ ذرات کو زمین کے قریب روک  دیتی ہے، جس سے فصلوں کی باقیات جلانے، صنعتی اخراج اور بھاری ٹریفک کے دھوئیں کا مہلک امتزاج بنتا ہے۔ رواں ہفتے دیوالی کے تہوار پر آتش بازی کے باعث آلودگی میں مزید اضافہ ہوا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے رواں ماہ دیوالی کے موقع پر مکمل پابندی میں نرمی کرتے ہوئے کم دھواں خارج کرنے والے گرین پٹاخوں کی اجازت دی تھی، تاہم ماضی کی طرح اس بار بھی اس فیصلے پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔</p>
<p>مانیٹرنگ ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں پی ایم 2.5 ذرات کی مقدار 248 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی — یہ انتہائی خطرناک سطح ہے کیونکہ یہ مائیکرو ذرات انسانی خون میں داخل ہو سکتے ہیں اور کینسر سمیت مختلف بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔</p>
<p>حکومت کے کمیشن برائے ایئر کوالٹی مینجمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں فضا کی کیفیت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ کمیشن نے ڈیزل جنریٹرز کے استعمال میں کمی کے لیے بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے اور دیگر ہنگامی اقدامات کی ہدایت دی ہے۔</p>
<p>نئی دہلی کی انتظامیہ نے فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے پہلی بار کلاؤڈ سیڈنگ (مصنوعی بارش پیدا کرنے) کے تجربے کا بھی اعلان کیا ہے۔ وزیرِ ماحولیات منجندر سنگھ سرسا کے مطابق ہوائی پروازوں اور پائلٹ تربیت کے تمام مراحل مکمل کر لیے گئے ہیں۔</p>
<p>جریدے دی لینسٹ پلینیٹری ہیلتھ کی ایک تحقیق کے مطابق 2009 سے 2019 کے دوران بھارت میں 38 لاکھ اموات فضائی آلودگی سے منسلک تھیں، جبکہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ آلودہ فضا بچوں میں سانس کی شدید بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278361</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Oct 2025 11:42:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/20114114a2b7109.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/20114114a2b7109.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
