<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک،افغان کشیدگی میں کمی، 100 انڈیکس 2400 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278354/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کے پیش نظر پاکستان اسٹاک ایکسچینج  میں زبردست خریداری دیکھی گئی جس کی بدولت کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور سرمایہ کاری کی بدولت ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 166,421.33 پوائنٹس پر جاپہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای  100 انڈیکس 2,436.69 پوائنٹس (1.49 فیصد) کے اضافے سے 166,242.90 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ “مارکیٹ میں جوش و خروش ایک بڑی سفارتی پیش رفت سے تقویت پایا۔ پاکستان اور افغانستان نے دوحہ، قطر میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد فوری جنگ بندی معاہدہ کر لیا۔ یہ معاہدہ، جو خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے باہمی احترام پر زور دیتا ہے، سرمایہ کاروں کے نزدیک خطے میں استحکام اور ممکنہ معاشی تعاون کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بینکنگ شعبے کے بڑے ادارے، ایچ بی ایل، یو بی ایل، بی او پی، این بی پی اور اے کے بی ایل، نے انڈیکس میں مجموعی طور پر 989 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“مجموعی طور پر مارکیٹ کا رجحان پورے سیشن کے دوران مثبت رہا، اور سرمایہ کاروں نے مختلف شعبوں میں شیئرز کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان آئندہ ملاقات 25 اکتوبر کو استنبول، ترکی میں ہوگی، جہاں فریقین مزید امور پر بات چیت کریں گے اور ایک مانیٹرنگ میکانزم کو حتمی شکل دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اعلیٰ سطح  مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا، جس کی بڑی وجوہات سیاسی غیر یقینی صورتحال، سرحدی کشیدگی، اور آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے اسٹاف لیول معاہدے کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی تھیں۔ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 708.03 پوائنٹس یا 0.4 فیصد اضافے سے  163,806.22 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر پیر کو نکی انڈیکس میں نمایاں اضافے کے باعث ایشیائی مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی کیونکہ جاپان میں نئے وزیرِاعظم کے تقرر کے قریب پہنچنے کی توقعات بڑھ گئیں۔ ادھر رواں ہفتے امریکہ میں افراطِ زر کے اعداد و شمار ایسے سمجھے جارہے ہیں کہ وہ وہاں شرحِ سود میں آئندہ متوقع کمی کے عمل میں کسی بڑی رکاوٹ کا باعث نہیں بنیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار کے مطابق چین کی معیشت نے تیسرے سہ ماہی میں 1.1 فیصد کی شرح سے ترقی کی جو اندازوں سے بہتر رہی جبکہ صنعتی پیداوار میں بھی 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ نتائج بیجنگ کے اس عزم کو مزید تقویت دے سکتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ جاری طویل تجارتی جنگ کا بھرپور مقابلہ جاری رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سالانہ بنیاد پر چین کی 4.8 فیصد شرحِ نمو گزشتہ ایک سال کی کمزور ترین رفتار ثابت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کے حصص میں 1.0 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 1.3 فیصد بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی بلیو چِپ اسٹاکس میں بھی 1.0 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، حالانکہ گزشتہ ہفتے ان میں کمی دیکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے معمولی بہتری حاصل کی اور  اس کی قدر 0.01 فیصد مضبوط ہوئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 281.07 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کے اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم کم ہو کر 1.478 ارب شیئرز رہا، جو گزشتہ سیشن میں 1.978 ارب تھا، تاہم حصص کی مالیت بڑھ کر 51.87 ارب روپے تک پہنچ گئی جو پچھلے کاروباری روز 36.99 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ 229.71 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرفہرست رہی، اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام کے 223.45 ملین اور بینک آف پنجاب کے 184.40 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 289 کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 156 کے شیئرز میں کمی اور 40 کے نرخ مستحکم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/20211032a137858.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کے پیش نظر پاکستان اسٹاک ایکسچینج  میں زبردست خریداری دیکھی گئی جس کی بدولت کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور سرمایہ کاری کی بدولت ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 166,421.33 پوائنٹس پر جاپہنچا تھا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای  100 انڈیکس 2,436.69 پوائنٹس (1.49 فیصد) کے اضافے سے 166,242.90 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ “مارکیٹ میں جوش و خروش ایک بڑی سفارتی پیش رفت سے تقویت پایا۔ پاکستان اور افغانستان نے دوحہ، قطر میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد فوری جنگ بندی معاہدہ کر لیا۔ یہ معاہدہ، جو خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے باہمی احترام پر زور دیتا ہے، سرمایہ کاروں کے نزدیک خطے میں استحکام اور ممکنہ معاشی تعاون کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔”</p>
<p>رپورٹ کے مطابق بینکنگ شعبے کے بڑے ادارے، ایچ بی ایل، یو بی ایل، بی او پی، این بی پی اور اے کے بی ایل، نے انڈیکس میں مجموعی طور پر 989 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>“مجموعی طور پر مارکیٹ کا رجحان پورے سیشن کے دوران مثبت رہا، اور سرمایہ کاروں نے مختلف شعبوں میں شیئرز کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی۔”</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان آئندہ ملاقات 25 اکتوبر کو استنبول، ترکی میں ہوگی، جہاں فریقین مزید امور پر بات چیت کریں گے اور ایک مانیٹرنگ میکانزم کو حتمی شکل دی جائے گی۔</p>
<p>قبل ازیں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اعلیٰ سطح  مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا، جس کی بڑی وجوہات سیاسی غیر یقینی صورتحال، سرحدی کشیدگی، اور آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے اسٹاف لیول معاہدے کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی تھیں۔ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 708.03 پوائنٹس یا 0.4 فیصد اضافے سے  163,806.22 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر پیر کو نکی انڈیکس میں نمایاں اضافے کے باعث ایشیائی مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی کیونکہ جاپان میں نئے وزیرِاعظم کے تقرر کے قریب پہنچنے کی توقعات بڑھ گئیں۔ ادھر رواں ہفتے امریکہ میں افراطِ زر کے اعداد و شمار ایسے سمجھے جارہے ہیں کہ وہ وہاں شرحِ سود میں آئندہ متوقع کمی کے عمل میں کسی بڑی رکاوٹ کا باعث نہیں بنیں گے۔</p>
<p>اعدادوشمار کے مطابق چین کی معیشت نے تیسرے سہ ماہی میں 1.1 فیصد کی شرح سے ترقی کی جو اندازوں سے بہتر رہی جبکہ صنعتی پیداوار میں بھی 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ نتائج بیجنگ کے اس عزم کو مزید تقویت دے سکتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ جاری طویل تجارتی جنگ کا بھرپور مقابلہ جاری رکھے۔</p>
<p>تاہم سالانہ بنیاد پر چین کی 4.8 فیصد شرحِ نمو گزشتہ ایک سال کی کمزور ترین رفتار ثابت ہوئی۔</p>
<p>جنوبی کوریا کے حصص میں 1.0 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 1.3 فیصد بڑھ گیا۔</p>
<p>چینی بلیو چِپ اسٹاکس میں بھی 1.0 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، حالانکہ گزشتہ ہفتے ان میں کمی دیکھی گئی تھی۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے معمولی بہتری حاصل کی اور  اس کی قدر 0.01 فیصد مضبوط ہوئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 281.07 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کے اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم کم ہو کر 1.478 ارب شیئرز رہا، جو گزشتہ سیشن میں 1.978 ارب تھا، تاہم حصص کی مالیت بڑھ کر 51.87 ارب روپے تک پہنچ گئی جو پچھلے کاروباری روز 36.99 ارب روپے تھی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ 229.71 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرفہرست رہی، اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام کے 223.45 ملین اور بینک آف پنجاب کے 184.40 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔</p>
<p>پیر کے روز مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 289 کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 156 کے شیئرز میں کمی اور 40 کے نرخ مستحکم رہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/20211032a137858.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278354</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Oct 2025 21:56:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/201037037d8d5f4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/201037037d8d5f4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
