<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شاہد محمود کھوکھر: انصاف کا چہرہ، صحافت کا محافظ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278332/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ ٹربیونل(آئی ٹی این ای)کے چیئرمین شاہد محمود کھوکھر کی خدمات کو یاد رکھنا محض  رسمی بیان نہیں  بلکہ وہ حقیقت ہے جو ہر اُس صحافی اور میڈیا کارکن کے دل میں رقم ہے جس نے انصاف، عزت نفس اور پیشہ ورانہ وقار کے لیے کبھی جدوجہد کی ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بطور چیئرمین آئی ٹی این ای انہوں نے ایسے وقت میں ادارے کی قیادت سنبھالی جب صحافیوں اور میڈیا ملازمین کو اپنے حقوق کے حصول میں بے شمار قانونی رکاوٹوں کا سامنا تھا لیکن اُن کی بصیرت، خلوص اور قانون پر گہری گرفت نے نہ صرف آئی ٹی این ای  کو فعال بنایا  بلکہ اس کے وقار کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اُن کے دور میں آئی ٹی این ای  نے وہ کام کر دکھائے جو برسوں سے فائلوں کی گرد میں دفن تھے۔ چاہے مالکان اور ملازمین کے درمیان تنازعات ہوں  یا تنخواہوں اور مراعات کا معاملہ، کھوکھر صاحب نے ہر کیس کو صرف قانون کی روشنی میں نہیں  بلکہ انسانی ہمدردی کے اصولوں کے تحت پرکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ یقین رکھتے تھے کہ میڈیا ورکرز ریاست کی آواز ہیں  اور اُن کے حقوق کا تحفظ دراصل جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہے۔ اسی سوچ کے تحت اُنہوں نے ادارے میں شفافیت، غیر جانبداری  اور فوری فیصلوں کو بنیادی حیثیت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے فیصلے صرف عدالتی تکنیکی نکات پر نہیں  بلکہ انسانی درد، انصاف کی روح  اور دل کے اطمینان پر مبنی ہوتے تھے۔ ایک کیس میں نجی چینل کے درجنوں ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھیں اور عمومی تاثر یہی تھا کہ یہ فیصلہ برسوں زیر التوا   رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر شاہد محمود کھوکھر نے ذاتی دلچسپی لی روزانہ کیس کی پیش رفت کا جائزہ لیا، وکلا کے دلائل سنے، ریکارڈ کا معائنہ کیا  اور آخرکار ایسا فیصلہ صادر کیا جس نے کئی گھروں کے چراغ روشن کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک خاتون رپورٹر کا کیس بھی سامنے آیا، جو جنسی ہراسانی اور ناانصافی کا شکار ہوئیں، شاید ماضی میں نظرانداز ہو جاتا مگر کھوکھر صاحب نے اسے نہ صرف سنا بلکہ مکمل غیر جانبداری کے ساتھ خاتون کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس فیصلے نے میڈیا میں خواتین کے تحفظ کا نیا باب کھولا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے کئی کیسز ہیں جہاں انہوں نے  فیصلہ دینے کے ساتھ ساتھ  انصاف کو یقینی بنایا۔ چاہے کسی ریٹائرڈ فوٹو جرنلسٹ کا مقدمہ ہو یا دور دراز علاقوں کے صحافیوں کی آواز، ان کی رہنمائی میں آئی ٹی این ای صرف ایک ادارہ نہیں رہا بلکہ ایک پناہ گاہ بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پہلی مرتبہ آئی ٹی این ای میں آن لائن شکایتی نظام متعارف کروایا تاکہ دور دراز کے صحافی بھی اپنی شکایات پہنچا سکیں۔ انہوں نے  انصاف میں تاخیر انصاف کی نفی ہے کے اصول پر سختی سے عمل کرتے ہوئے تاخیری ہتھکنڈوں کا راستہ روکا اور فیصلوں کی شرح 65 فیصد تک پہنچائی جو ادارے کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی شفافیت کی ایک مثال وہ کیس ہے جہاں دونوں فریقین کے وکلاء کو کمرہ عدالت میں بٹھا کر دستاویزات کی اوپن ویری فکیشن کروائی گئی، نہ کسی طاقتور کو رعایت ملی نہ کسی کمزور کو نظرانداز کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی وکیل اخلاقی حد پار کرتا  تو وہ احترام کے ساتھ اُسے واپس قانونی دائرے میں لے آتے، جو اُن کے وقار اور ادارے کی ساکھ کا مظہر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُن کا ایک اور اہم کارنامہ میڈیا ورکرز کے لیے قومی سطح پر تنخواہوں اور مراعات کے معیار کو مرتب کرنا تھا۔ انہوں نے وزارت اطلاعات، پی ایف یو جے  اور مختلف اداروں سے مشاورت کر کے ایک فریم ورک تیار کیا جو آج بھی آئی ٹی این ای  کی اصلاحات کا بنیادی ستون ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی شخصیت میں وقار، متانت  اور قانون کی سچائی نظر آتی تھی۔ وہ کہتے تھے  قانون کا اصل مقصد انصاف ہے اور انصاف وہی ہے جو دل کو مطمئن کرے۔ یہی فلسفہ اُن کے ہر فیصلے میں جھلکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھوکھر صاحب ہمیشہ نوجوان صحافیوں کی تربیت اور رہنمائی کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا  اور وہ اکثر کہا کرتے صحافت کی بنیاد تحقیق، صبر اور پیشہ ورانہ اصولوں پر ہے۔ وہ اکثر میڈیا ہاؤسز جا کر ٹریننگ سیشنز میں خطاب کرتے اور صحافت کی اخلاقی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُن کی شخصیت میں ایک مقناطیسی اثر تھا، بظاہر نرم خو، مگر باطن میں پختہ عزم کا پیکر۔ اُن کے فیصلے مدلل ہوتے اور وہ کسی دباؤ یا سفارش کو خاطر میں نہ لاتے۔ اسی لیے آج بھی ان کے فیصلے بطور نظیر پیش کیے جاتے ہیں۔
؎
انہوں نے خواتین صحافیوں کے لیے  علیحدہ ڈیسک قائم کروائی، جہاں شکایات کو احترام، رازداری اور سنجیدگی سے سنا جاتا تھا۔ اُن کی اس کاوش نے ادارے پر خواتین کا اعتماد بحال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی این ای کی پہلی سالانہ رپورٹ کی اشاعت بھی اُنہی کی قیادت کا نتیجہ تھی، جس نے دیگر اداروں کے لیے بھی شفافیت کی ایک مثال قائم کی۔اس رپورٹ کو وزارت اطلاعات کا حصہ بنایا گیا  اور کئی اداروں نے اسی طرز پر عمل شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُن کی قیادت کی کامیابی کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان  اور سندھ کے دور افتادہ علاقوں سے بھی اب درخواستیں موصول ہونے لگیں  اور انصاف اُن علاقوں تک بھی پہنچا جو کبھی نظرانداز کیے جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد محمود کھوکھر کا نظریہ سادہ مگر پُراثر تھا ادارے فائلوں سے نہیں  انسانوں سے بنتے ہیں۔ اگر ہم انسان کو مطمئن کریں تو ادارہ خود بخود مضبوط ہو جاتا ہے۔یہی اصول اُن کے ہر فیصلے ہر ملاقات اور ہر اقدام میں نظر آتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;شاہد محمود کھوکھر وہ نام ہیں جنہوں نے انصاف کو فائلوں کا نہیں دلوں کا معاملہ بنا دیا۔ اُن کا دورِ قیادت صرف انتظامی کامیابی نہیں تھا  بلکہ ایک تحریک تھی ایسی تحریک جو خدمت، قانون اور انسانیت کے امتزاج سے جنم لیتی ہے جب کبھی آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے حقوق یا انصاف کی بات ہو گی اُن کا نام احترام سے لیا جائے گا۔ اُن کے فیصلے، اصلاحات اور سچائی ہمیشہ رہنمائی کا چراغ بنے رہیں گے۔ وہ صرف ایک چیئرمین نہیں تھے، بلکہ ایک رہنما، استاد اور محافظ تھے جن کی خدمات کو آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اُن کی دیانتداری کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی تنخواہ سے زیادہ ادارے کے ملازمین کی فلاح کو اہمیت دیتے۔ انہوں نے آئی ٹی این ای کے اندرونی اسٹاف کے لیے سہولتوں اور تربیتی  پروگرامز متعارف کروائے ، تاکہ ادارہ اندر سے بھی مضبوط ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد محمود کی زندگی اور خدمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ جب نیت صاف ہو، علم پختہ ہو  اور ارادہ مضبوط ہو تو نظام بدلنا ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد محمود کھوکھر صرف ایک نام نہیں  بلکہ ایک نظریہ ہے ، جس میں خدمت، قانون اور انسانیت ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ ٹربیونل(آئی ٹی این ای)کے چیئرمین شاہد محمود کھوکھر کی خدمات کو یاد رکھنا محض  رسمی بیان نہیں  بلکہ وہ حقیقت ہے جو ہر اُس صحافی اور میڈیا کارکن کے دل میں رقم ہے جس نے انصاف، عزت نفس اور پیشہ ورانہ وقار کے لیے کبھی جدوجہد کی ہو۔</strong></p>
<p>بطور چیئرمین آئی ٹی این ای انہوں نے ایسے وقت میں ادارے کی قیادت سنبھالی جب صحافیوں اور میڈیا ملازمین کو اپنے حقوق کے حصول میں بے شمار قانونی رکاوٹوں کا سامنا تھا لیکن اُن کی بصیرت، خلوص اور قانون پر گہری گرفت نے نہ صرف آئی ٹی این ای  کو فعال بنایا  بلکہ اس کے وقار کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔</p>
<p>یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اُن کے دور میں آئی ٹی این ای  نے وہ کام کر دکھائے جو برسوں سے فائلوں کی گرد میں دفن تھے۔ چاہے مالکان اور ملازمین کے درمیان تنازعات ہوں  یا تنخواہوں اور مراعات کا معاملہ، کھوکھر صاحب نے ہر کیس کو صرف قانون کی روشنی میں نہیں  بلکہ انسانی ہمدردی کے اصولوں کے تحت پرکھا۔</p>
<p>وہ یقین رکھتے تھے کہ میڈیا ورکرز ریاست کی آواز ہیں  اور اُن کے حقوق کا تحفظ دراصل جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہے۔ اسی سوچ کے تحت اُنہوں نے ادارے میں شفافیت، غیر جانبداری  اور فوری فیصلوں کو بنیادی حیثیت دی۔</p>
<p>ان کے فیصلے صرف عدالتی تکنیکی نکات پر نہیں  بلکہ انسانی درد، انصاف کی روح  اور دل کے اطمینان پر مبنی ہوتے تھے۔ ایک کیس میں نجی چینل کے درجنوں ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھیں اور عمومی تاثر یہی تھا کہ یہ فیصلہ برسوں زیر التوا   رہے گا۔</p>
<p>مگر شاہد محمود کھوکھر نے ذاتی دلچسپی لی روزانہ کیس کی پیش رفت کا جائزہ لیا، وکلا کے دلائل سنے، ریکارڈ کا معائنہ کیا  اور آخرکار ایسا فیصلہ صادر کیا جس نے کئی گھروں کے چراغ روشن کیے۔</p>
<p>ایک خاتون رپورٹر کا کیس بھی سامنے آیا، جو جنسی ہراسانی اور ناانصافی کا شکار ہوئیں، شاید ماضی میں نظرانداز ہو جاتا مگر کھوکھر صاحب نے اسے نہ صرف سنا بلکہ مکمل غیر جانبداری کے ساتھ خاتون کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس فیصلے نے میڈیا میں خواتین کے تحفظ کا نیا باب کھولا۔</p>
<p>ایسے کئی کیسز ہیں جہاں انہوں نے  فیصلہ دینے کے ساتھ ساتھ  انصاف کو یقینی بنایا۔ چاہے کسی ریٹائرڈ فوٹو جرنلسٹ کا مقدمہ ہو یا دور دراز علاقوں کے صحافیوں کی آواز، ان کی رہنمائی میں آئی ٹی این ای صرف ایک ادارہ نہیں رہا بلکہ ایک پناہ گاہ بن گیا۔</p>
<p>انہوں نے پہلی مرتبہ آئی ٹی این ای میں آن لائن شکایتی نظام متعارف کروایا تاکہ دور دراز کے صحافی بھی اپنی شکایات پہنچا سکیں۔ انہوں نے  انصاف میں تاخیر انصاف کی نفی ہے کے اصول پر سختی سے عمل کرتے ہوئے تاخیری ہتھکنڈوں کا راستہ روکا اور فیصلوں کی شرح 65 فیصد تک پہنچائی جو ادارے کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔</p>
<p>ان کی شفافیت کی ایک مثال وہ کیس ہے جہاں دونوں فریقین کے وکلاء کو کمرہ عدالت میں بٹھا کر دستاویزات کی اوپن ویری فکیشن کروائی گئی، نہ کسی طاقتور کو رعایت ملی نہ کسی کمزور کو نظرانداز کیا گیا۔</p>
<p>اگر کوئی وکیل اخلاقی حد پار کرتا  تو وہ احترام کے ساتھ اُسے واپس قانونی دائرے میں لے آتے، جو اُن کے وقار اور ادارے کی ساکھ کا مظہر تھا۔</p>
<p>اُن کا ایک اور اہم کارنامہ میڈیا ورکرز کے لیے قومی سطح پر تنخواہوں اور مراعات کے معیار کو مرتب کرنا تھا۔ انہوں نے وزارت اطلاعات، پی ایف یو جے  اور مختلف اداروں سے مشاورت کر کے ایک فریم ورک تیار کیا جو آج بھی آئی ٹی این ای  کی اصلاحات کا بنیادی ستون ہے۔</p>
<p>ان کی شخصیت میں وقار، متانت  اور قانون کی سچائی نظر آتی تھی۔ وہ کہتے تھے  قانون کا اصل مقصد انصاف ہے اور انصاف وہی ہے جو دل کو مطمئن کرے۔ یہی فلسفہ اُن کے ہر فیصلے میں جھلکتا تھا۔</p>
<p>کھوکھر صاحب ہمیشہ نوجوان صحافیوں کی تربیت اور رہنمائی کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا  اور وہ اکثر کہا کرتے صحافت کی بنیاد تحقیق، صبر اور پیشہ ورانہ اصولوں پر ہے۔ وہ اکثر میڈیا ہاؤسز جا کر ٹریننگ سیشنز میں خطاب کرتے اور صحافت کی اخلاقی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے۔</p>
<p>اُن کی شخصیت میں ایک مقناطیسی اثر تھا، بظاہر نرم خو، مگر باطن میں پختہ عزم کا پیکر۔ اُن کے فیصلے مدلل ہوتے اور وہ کسی دباؤ یا سفارش کو خاطر میں نہ لاتے۔ اسی لیے آج بھی ان کے فیصلے بطور نظیر پیش کیے جاتے ہیں۔
؎
انہوں نے خواتین صحافیوں کے لیے  علیحدہ ڈیسک قائم کروائی، جہاں شکایات کو احترام، رازداری اور سنجیدگی سے سنا جاتا تھا۔ اُن کی اس کاوش نے ادارے پر خواتین کا اعتماد بحال کیا۔</p>
<p>آئی ٹی این ای کی پہلی سالانہ رپورٹ کی اشاعت بھی اُنہی کی قیادت کا نتیجہ تھی، جس نے دیگر اداروں کے لیے بھی شفافیت کی ایک مثال قائم کی۔اس رپورٹ کو وزارت اطلاعات کا حصہ بنایا گیا  اور کئی اداروں نے اسی طرز پر عمل شروع کیا۔</p>
<p>اُن کی قیادت کی کامیابی کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان  اور سندھ کے دور افتادہ علاقوں سے بھی اب درخواستیں موصول ہونے لگیں  اور انصاف اُن علاقوں تک بھی پہنچا جو کبھی نظرانداز کیے جاتے تھے۔</p>
<p>شاہد محمود کھوکھر کا نظریہ سادہ مگر پُراثر تھا ادارے فائلوں سے نہیں  انسانوں سے بنتے ہیں۔ اگر ہم انسان کو مطمئن کریں تو ادارہ خود بخود مضبوط ہو جاتا ہے۔یہی اصول اُن کے ہر فیصلے ہر ملاقات اور ہر اقدام میں نظر آتا تھا۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>شاہد محمود کھوکھر وہ نام ہیں جنہوں نے انصاف کو فائلوں کا نہیں دلوں کا معاملہ بنا دیا۔ اُن کا دورِ قیادت صرف انتظامی کامیابی نہیں تھا  بلکہ ایک تحریک تھی ایسی تحریک جو خدمت، قانون اور انسانیت کے امتزاج سے جنم لیتی ہے جب کبھی آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے حقوق یا انصاف کی بات ہو گی اُن کا نام احترام سے لیا جائے گا۔ اُن کے فیصلے، اصلاحات اور سچائی ہمیشہ رہنمائی کا چراغ بنے رہیں گے۔ وہ صرف ایک چیئرمین نہیں تھے، بلکہ ایک رہنما، استاد اور محافظ تھے جن کی خدمات کو آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔</p>
</blockquote>
<p>اُن کی دیانتداری کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی تنخواہ سے زیادہ ادارے کے ملازمین کی فلاح کو اہمیت دیتے۔ انہوں نے آئی ٹی این ای کے اندرونی اسٹاف کے لیے سہولتوں اور تربیتی  پروگرامز متعارف کروائے ، تاکہ ادارہ اندر سے بھی مضبوط ہو۔</p>
<p>شاہد محمود کی زندگی اور خدمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ جب نیت صاف ہو، علم پختہ ہو  اور ارادہ مضبوط ہو تو نظام بدلنا ممکن ہے۔</p>
<p>شاہد محمود کھوکھر صرف ایک نام نہیں  بلکہ ایک نظریہ ہے ، جس میں خدمت، قانون اور انسانیت ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278332</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Oct 2025 13:26:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید مجتبی رضوان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/191218315421f29.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/191218315421f29.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
