<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رفح بارڈر اگلے اعلان تک بند رہے گا،اسرائیل، امریکہ کا حماس پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278327/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ اگلے اعلان تک بند رہے گی، اور اس کے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کرنے پر منحصر ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب قاہرہ میں فلسطینی سفارتخانے نے اطلاع دی تھی کہ رفح کراسنگ پیر سے غزہ میں داخلے کے لیے کھولی جائے گی۔ تاہم، اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی ثالثی سے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر الزام تراشی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا کہ اسے حماس کی جانب سے ممکنہ جنگ بندی خلاف ورزی کی قابلِ اعتماد اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے تحت فلسطینی شہریوں پر حملے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایسا حملہ ہوا تو غزہ کے عوام کے تحفظ اور جنگ بندی کے تسلسل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر، حماس نے نیتن یاہو کے فیصلے کو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ رفح کراسنگ کی بندش سے لاشوں کی تلاش کے لیے درکار امدادی آلات کی آمد رک جائے گی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، ہفتے کے روز مزید دو لاشیں وصول کی گئیں، یوں مجموعی طور پر 28 میں سے 12 لاشیں اب تک حوالے کی جا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی ثالثی سے ہونے والے معاہدے کے تحت حماس نے 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا، جبکہ اسرائیل نے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔ معاہدے کے مطابق اسرائیل نے ہر اسرائیلی لاش کے بدلے 15 فلسطینی لاشیں واپس کرنے کا عمل بھی شروع کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رفح بارڈر مئی 2024 سے زیادہ تر بند ہے۔ جنگ بندی معاہدے میں غزہ کے لیے خوراک اور طبی امداد کی ترسیل میں اضافے کی شق بھی شامل ہے، تاہم یو این ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق، روزانہ اوسطاً 560 میٹرک ٹن خوراک پہنچائی جا رہی ہے جو ضرورت سے اب بھی بہت کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے نفاذ میں اب بھی بڑی رکاوٹیں موجود ہیں، جن میں حماس کا غیر مسلح ہونا، غزہ کی آئندہ حکمرانی، بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل، اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام جیسے معاملات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ اگلے اعلان تک بند رہے گی، اور اس کے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کرنے پر منحصر ہوگا۔</strong></p>
<p>یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب قاہرہ میں فلسطینی سفارتخانے نے اطلاع دی تھی کہ رفح کراسنگ پیر سے غزہ میں داخلے کے لیے کھولی جائے گی۔ تاہم، اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی ثالثی سے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر الزام تراشی جاری ہے۔</p>
<p>واشنگٹن میں امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا کہ اسے حماس کی جانب سے ممکنہ جنگ بندی خلاف ورزی کی قابلِ اعتماد اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے تحت فلسطینی شہریوں پر حملے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایسا حملہ ہوا تو غزہ کے عوام کے تحفظ اور جنگ بندی کے تسلسل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔</p>
<p>ادھر، حماس نے نیتن یاہو کے فیصلے کو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ رفح کراسنگ کی بندش سے لاشوں کی تلاش کے لیے درکار امدادی آلات کی آمد رک جائے گی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، ہفتے کے روز مزید دو لاشیں وصول کی گئیں، یوں مجموعی طور پر 28 میں سے 12 لاشیں اب تک حوالے کی جا چکی ہیں۔</p>
<p>امریکہ کی ثالثی سے ہونے والے معاہدے کے تحت حماس نے 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا، جبکہ اسرائیل نے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔ معاہدے کے مطابق اسرائیل نے ہر اسرائیلی لاش کے بدلے 15 فلسطینی لاشیں واپس کرنے کا عمل بھی شروع کیا ہے۔</p>
<p>رفح بارڈر مئی 2024 سے زیادہ تر بند ہے۔ جنگ بندی معاہدے میں غزہ کے لیے خوراک اور طبی امداد کی ترسیل میں اضافے کی شق بھی شامل ہے، تاہم یو این ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق، روزانہ اوسطاً 560 میٹرک ٹن خوراک پہنچائی جا رہی ہے جو ضرورت سے اب بھی بہت کم ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے نفاذ میں اب بھی بڑی رکاوٹیں موجود ہیں، جن میں حماس کا غیر مسلح ہونا، غزہ کی آئندہ حکمرانی، بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل، اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام جیسے معاملات شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278327</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Oct 2025 12:13:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/19121033ed498e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/19121033ed498e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
