<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:09:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:09:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا بحیرۂ عرب میں نایاب شارک کی اقسام کے تحفظ کیلئے قومی ایکشن پلان متعارف کرانے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278312/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ بحری امور نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ پاکستان بحیرۂ عرب میں خطرے سے دوچار شارک کی اقسام کے تحفظ کے لیے قومی ایکشن پلان متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جو پائیدار سمندری نظم و نسق اور عالمی ماحولیاتی معیار سے ہم آہنگ ایک اہم پیش رفت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق وفاقی حکومت قومی منصوبے کی تیاری کے لیے سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے بیان میں کہا کہ ’’ممنوعہ شارک اقسام، جن میں ریکوئیم، ہیمر ہیڈ، تھریشر، میکریل اور وہیل شارک شامل ہیں، کا مسلسل شکار سمندری حیاتیاتی تنوع اور پاکستان کی بین الاقوامی ماحولیاتی ذمہ داریوں، دونوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ بحری امور نے پائیدار سمندری طریقہ کار اپنانے اور عالمی ماحولیاتی تحفظ کے معیارات پر عمل درآمد کے حکومتی عزم پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ بحیرۂ عرب میں پائی جانے والی باسکنگ شارک، جو ایک طویل فاصلہ طے کرنے والی اقسام میں شمار ہوتی ہے، کو بین الاقوامی یونین برائے تحفظِ قدرت (آئی یو سی این) نے اپنی ریڈ لسٹ میں خطرے سے دوچار نسل کے طور پر درج کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’یہ نسل انسانی سرگرمیوں جیسے ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے اور کشتیوں سے ٹکرانے جیسے خطرات کے باعث خاص طور پر متاثر ہو رہی ہے، جبکہ اس کی سست افزائش اور کم تولیدی شرح اسے مزید غیر محفوظ بناتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے فوری اور منظم اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ غیر پائیدار ماہی گیری کے موجودہ طریقے نہ صرف ماحول بلکہ پاکستان کی سی فوڈ تجارت اور بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ خوراک و زراعت کی عالمی تنظیم ( ایف اے او ) کے شکار کے تحفظ و نظم و نسق کے بین الاقوامی ایکشن پلان ( آئی پی او اے شارکس ) کے تحت ممالک کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شارک کے تحفظ اور نظم و نسق کے لیے اپنے قومی منصوبے تیار کریں، فضلہ کم کریں اور پائیدار ماہی گیری کے اصول اپنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے کہا کہ ’’سمندری وسائل کا ذمہ دارانہ نظم و نسق اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور خطرے سے دوچار و ممنوعہ شارک اقسام کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وزارت صوبوں سے ممنوعہ اور خطرے سے دوچار شارک اقسام کے تحفظ سے متعلق موجودہ ایس او پیز، نگرانی کے طریقہ کار اور غیر قانونی شکار کی روک تھام پر تفصیلی رائے طلب کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ وفاقی و صوبائی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہتر نگرانی، قانون نافذ کرنے کے مؤثر نظام اور عوامی آگاہی سے شارک کی آبادی کے غیر ضروری شکار کا خاتمہ ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صوبائی فشریز محکموں پر زور دیا کہ وہ ماہی گیروں اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے اپنی آگاہی و تربیتی مہمات کی تفصیلات فراہم کریں، جن میں شارک اقسام کی شناخت اور ماحولیاتی ضوابط پر عمل کو مرکزی حیثیت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے شارک کی حادثاتی پکڑ ( بے کیچ ) اور اترائی کے ڈیٹا کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز اور پالیسیوں کے جائزے اور بہتری پر بھی زور دیا تاکہ معلومات میں شفافیت اور درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید انور نے میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ سندھ میرین اینڈ کوسٹل فشریز ڈویلپمنٹ آفس، بلوچستان فشریز ڈیپارٹمنٹ، کوئٹہ و کورنگی فش ہاربر اتھارٹیز اور متعلقہ لائیو اسٹاک و فشریز اداروں سے مشاورت شروع کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’یہ مشاورتیں شارک کی آبادی کے تحفظ کے لیے ایک متحد حکمتِ عملی تشکیل دینے میں مدد دیں گی، جبکہ پاکستان کی ماہی گیری کی صنعت کو عالمی پائیداری کے معیار سے ہم آہنگ کریں گی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکومت نے حالیہ مہینوں میں سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے اقدامات میں تیزی لائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے وزارتِ بحری امور نے نو کروڑ روپے کے منصوبے کا اعلان کیا، جس کا مقصد جھینگا پکڑنے کے دوران خطرے سے دوچار سمندری کچھوؤں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رہے اور پاکستان کی اعلیٰ معیار کی سی فوڈ برآمدی منڈیوں تک رسائی بحال ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے مزید اعلان کیا کہ وہ پاکستان میری ٹائم انویسٹمنٹ کانفرنس 2025 منعقد کرے گی، جس میں سمندری شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیش کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ بحری امور نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ پاکستان بحیرۂ عرب میں خطرے سے دوچار شارک کی اقسام کے تحفظ کے لیے قومی ایکشن پلان متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جو پائیدار سمندری نظم و نسق اور عالمی ماحولیاتی معیار سے ہم آہنگ ایک اہم پیش رفت ہے۔</strong></p>
<p>وزارت کے مطابق وفاقی حکومت قومی منصوبے کی تیاری کے لیے سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے گی۔</p>
<p>وزیرِ بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے بیان میں کہا کہ ’’ممنوعہ شارک اقسام، جن میں ریکوئیم، ہیمر ہیڈ، تھریشر، میکریل اور وہیل شارک شامل ہیں، کا مسلسل شکار سمندری حیاتیاتی تنوع اور پاکستان کی بین الاقوامی ماحولیاتی ذمہ داریوں، دونوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔‘‘</p>
<p>وزیرِ بحری امور نے پائیدار سمندری طریقہ کار اپنانے اور عالمی ماحولیاتی تحفظ کے معیارات پر عمل درآمد کے حکومتی عزم پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ بحیرۂ عرب میں پائی جانے والی باسکنگ شارک، جو ایک طویل فاصلہ طے کرنے والی اقسام میں شمار ہوتی ہے، کو بین الاقوامی یونین برائے تحفظِ قدرت (آئی یو سی این) نے اپنی ریڈ لسٹ میں خطرے سے دوچار نسل کے طور پر درج کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’یہ نسل انسانی سرگرمیوں جیسے ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے اور کشتیوں سے ٹکرانے جیسے خطرات کے باعث خاص طور پر متاثر ہو رہی ہے، جبکہ اس کی سست افزائش اور کم تولیدی شرح اسے مزید غیر محفوظ بناتی ہے۔‘‘</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے فوری اور منظم اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ غیر پائیدار ماہی گیری کے موجودہ طریقے نہ صرف ماحول بلکہ پاکستان کی سی فوڈ تجارت اور بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ خوراک و زراعت کی عالمی تنظیم ( ایف اے او ) کے شکار کے تحفظ و نظم و نسق کے بین الاقوامی ایکشن پلان ( آئی پی او اے شارکس ) کے تحت ممالک کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شارک کے تحفظ اور نظم و نسق کے لیے اپنے قومی منصوبے تیار کریں، فضلہ کم کریں اور پائیدار ماہی گیری کے اصول اپنائیں۔</p>
<p>وزیر نے کہا کہ ’’سمندری وسائل کا ذمہ دارانہ نظم و نسق اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور خطرے سے دوچار و ممنوعہ شارک اقسام کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ وزارت صوبوں سے ممنوعہ اور خطرے سے دوچار شارک اقسام کے تحفظ سے متعلق موجودہ ایس او پیز، نگرانی کے طریقہ کار اور غیر قانونی شکار کی روک تھام پر تفصیلی رائے طلب کرے گی۔</p>
<p>مشترکہ وفاقی و صوبائی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہتر نگرانی، قانون نافذ کرنے کے مؤثر نظام اور عوامی آگاہی سے شارک کی آبادی کے غیر ضروری شکار کا خاتمہ ممکن ہے۔</p>
<p>انہوں نے صوبائی فشریز محکموں پر زور دیا کہ وہ ماہی گیروں اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے اپنی آگاہی و تربیتی مہمات کی تفصیلات فراہم کریں، جن میں شارک اقسام کی شناخت اور ماحولیاتی ضوابط پر عمل کو مرکزی حیثیت دی جائے۔</p>
<p>وزیر نے شارک کی حادثاتی پکڑ ( بے کیچ ) اور اترائی کے ڈیٹا کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز اور پالیسیوں کے جائزے اور بہتری پر بھی زور دیا تاکہ معلومات میں شفافیت اور درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>جنید انور نے میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ سندھ میرین اینڈ کوسٹل فشریز ڈویلپمنٹ آفس، بلوچستان فشریز ڈیپارٹمنٹ، کوئٹہ و کورنگی فش ہاربر اتھارٹیز اور متعلقہ لائیو اسٹاک و فشریز اداروں سے مشاورت شروع کرے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’یہ مشاورتیں شارک کی آبادی کے تحفظ کے لیے ایک متحد حکمتِ عملی تشکیل دینے میں مدد دیں گی، جبکہ پاکستان کی ماہی گیری کی صنعت کو عالمی پائیداری کے معیار سے ہم آہنگ کریں گی۔‘‘</p>
<p>پاکستانی حکومت نے حالیہ مہینوں میں سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے اقدامات میں تیزی لائی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے وزارتِ بحری امور نے نو کروڑ روپے کے منصوبے کا اعلان کیا، جس کا مقصد جھینگا پکڑنے کے دوران خطرے سے دوچار سمندری کچھوؤں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رہے اور پاکستان کی اعلیٰ معیار کی سی فوڈ برآمدی منڈیوں تک رسائی بحال ہو۔</p>
<p>وزارت نے مزید اعلان کیا کہ وہ پاکستان میری ٹائم انویسٹمنٹ کانفرنس 2025 منعقد کرے گی، جس میں سمندری شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیش کیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278312</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Oct 2025 21:38:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/182129120d19d2c.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/182129120d19d2c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
