<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:09:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:09:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہمارے پاسپورٹ کی مشکلات کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278305/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افسوسناک خبر یہ ہے کہ ’’ایک بار پھر پاکستان کا پاسپورٹ عالمی نقل و حرکت کی درجہ بندی میں نچلے درجے پر جا پہنچا ہے۔‘‘ خوش آئند خبر یہ ہے کہ ’’پاکستان کے پاس اس مسئلے کو درست کرنے کی اندرونی صلاحیتیں موجود ہیں۔‘‘ یہ کالم انہی دونوں پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان 109 ممالک میں سے 103 ویں نمبر پر ہے، ایک ایسی درجہ بندی جو محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ دیرپا ساختی، معاشی اور جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ مسلسل پانچواں سال ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ درجہ بندی کے نچلے حصے میں موجود ہے، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاسپورٹ محض سفر کا دستاویز نہیں بلکہ کسی ملک کی عالمی حیثیت، طرزِ حکمرانی اور استحکام کے بارے میں دنیا کے تاثر کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، یہ درجہ بندی بظاہر قبول کرنے کے بجائے اس کے پس منظر میں موجود سوالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، بالخصوص وہ عوامل جو اس درجہ بندی اور اس کی ساکھ کو متعین کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسپورٹ کی درجہ بندی کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا یہ درجہ بندیاں واقعی منصفانہ اور حقائق پر مبنی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا پاسپورٹ اتنا نیچے کیوں ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ درجہ بندی پاکستان کی عالمی ساکھ کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہی سوالات سے وہ جوابات سامنے آئیں گے جو پاکستان کی درجہ بندی بہتر بنانے کا راستہ دکھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن کی فرم ہینلے اینڈ پارٹنرز کی جانب سے تیار کردہ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس دنیا بھر کے 227 مقامات کے مقابلے میں 199 پاسپورٹس کا جائزہ لیتا ہے۔ اس درجہ بندی کا انحصار مکمل طور پر اس بات پر ہوتا ہے کہ ایک پاسپورٹ اپنے حامل کو کتنے ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول رسائی فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انڈیکس اپنا ڈیٹا انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) سے حاصل کرتا ہے، تاکہ درجہ بندی حقیقی وقت کی سفری پالیسیوں اور عالمی نقل و حرکت کے انتظامات پر مبنی ہو۔ ہر وہ ملک جہاں پاسپورٹ کے حامل کو پیشگی ویزا کی ضرورت نہیں ہوتی، ایک پوائنٹ شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی ملک کی جی ڈی پی، تجارتی حجم یا سفارتی تعلقات کو وزن نہیں دیا جاتا — یہ صرف نقل و حرکت کی آزادی کی پیمائش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس اعداد و شمار پر مبنی اور قابلِ تصدیق ہے، کیونکہ یہ بنیادی طور پر  آئی اے ٹی اے(ایاٹا) کی سرکاری معلومات پر انحصار کرتا ہے، تاہم یہ کسی ملک کی بین الاقوامی حیثیت کا مکمل تناظر نہیں دکھاتا۔ اس کا طریقہ کار نتیجہ، یعنی ویزا فری رسائی، کو ناپتا ہے، اس کے اسباب کو نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سلامتی کے تاثر، عالمی میڈیا کے بیانیے اور سفارتی تعصبات جیسے وسیع عوامل بالواسطہ طور پر ان نتائج کو متاثر کرتے ہیں۔ انڈیکس تکنیکی طور پر درست ہے، مگر ویزا پابندیاں طے کرنے والی پالیسیاں اکثر مفروضات، تاثر اور تصویر پر مبنی ہوتی ہیں، زمینی حقائق پر نہیں۔ چنانچہ اگر کوئی ملک اپنی داخلی سلامتی یا طرزِ حکمرانی بہتر بھی کر لے، تب بھی دیگر ریاستوں کو ویزا پالیسیوں پر نظرثانی میں برسوں لگ سکتے ہیں، بشرطیکہ متعلقہ ملک خود اس عمل کو تیز کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی مسلسل کمزور درجہ بندی اس کی عالمی ساکھ اور جغرافیائی، سلامتی و حکمرانی سے جڑے عوامل کے مجموعے کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;بہت سے ممالک پاکستان کو ماضی میں دہشت گردی، غیر قانونی ہجرت اور سفری دستاویزات کی ساکھ کے مسائل کے باعث ایک ’ہائی رسک‘ ملک سمجھتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت انسدادِ دہشت گردی میں نمایاں بہتری کے باوجود پاکستان کی داخلی سلامتی کے بارے میں عالمی تاثر پرانا اور منفی ہے۔ ویزا پالیسیوں کی تشکیل اس بنیاد پر ہوتی ہے کہ کسی ملک کے مسافر کتنے محفوظ، ذمہ دار اور قواعد کے پابند سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی زیادہ تر ردِعمل پر مبنی رہی ہے، حکمتِ عملی پر نہیں۔ اگرچہ چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات مضبوط ہیں، لیکن مغربی، آسیان اور ترقی یافتہ معیشتوں تک اس کی سفارتی رسائی محدود رہی ہے، وہی ممالک جو قابلِ اعتماد شراکت داروں کو وسیع ویزا فری سہولتیں دیتے ہیں۔ ملائیشیا یا ترکی جیسے ممالک نے باہمی سفری معاہدوں کے ذریعے نقل و حرکت میں آسانی حاصل کی ہے جبکہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں ’موبیلیٹی ڈپلومیسی‘ کو کبھی موثر انداز میں اپنایا نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویزا فری داخلے کی سہولت دینے والے ممالک شراکت دار ملک کے شناختی و سرحدی نظام پر اعتماد کو اہمیت دیتے ہیں۔ پاکستان کے بائیومیٹرک پاسپورٹ، الیکٹرانک ڈیٹا بیسز اور نادرا کی جدیدیت عالمی معیار کی حامل ہے، مگر پاسپورٹ کے غلط استعمال اور جعلی شناخت کے خدشات تاحال موجود ہیں۔ انسانی اسمگلنگ کے خلاف کمزور کارروائی اور ماضی کی کوتاہیوں کے باعث پاکستان کے سفری دستاویزات پر بین الاقوامی اعتماد اب بھی نازک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی ملک کی معاشی پائیداری اور اس کے شہریوں کے بیرونِ ملک روزگار کے لیے ویزا سے تجاوز کرنے کے امکانات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی اور کرنسی کی گراوٹ کے باعث امیر ممالک پاکستان کے لیے سخت ویزا پالیسی اختیار کرتے ہیں، تاکہ غیر قانونی ہجرت سے بچا جا سکے۔ یوں معاشی عدم استحکام براہِ راست محدود نقل و حرکت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی حقیقی پیش رفت کے باوجود اس کی عالمی ساکھ نے قدم نہیں ملایا۔ بین الاقوامی میڈیا تاحال خطرے اور غیر یقینی کے بیانیے کو اجاگر کرتا ہے۔ تاثر ہمیشہ حقیقت سے پیچھے رہتا ہے، اور عالمی نقل و حرکت میں تاثر ہی پالیسی بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کا اثر محض سفری آزادی ناپنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس بات کا پیمانہ بن چکا ہے کہ دنیا کسی ملک کی ساکھ، حکمرانی اور عالمی انضمام کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ کمزور پاسپورٹ علامتی اور معاشی طور پر گہرے اثرات رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں کی نقل و حرکت براہِ راست کسی قوم کی نرم طاقت (سافٹ پاور) پر اثر انداز ہوتی ہے۔ طلبہ، کاروباری افراد اور پیشہ ور حضرات جو طویل ویزا عمل یا انکار کا سامنا کرتے ہیں، بین الاقوامی مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جب پاکستانی مسافروں کو ضرورت سے زیادہ جانچ پڑتال سے گزرنا پڑتا ہے تو پاکستان کی بطور ذمہ دار اور پُراعتماد ریاست تصویر کمزور پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفر کی محدود آزادی تجارت، سرمایہ کاری اور ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت کو متاثر کرتی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت یا برآمدی معاہدوں تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔ ہنرمند کارکن بیرونِ ملک منصوبوں یا تربیت کے مواقع سے محروم رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ سیاحتی اخراجات، جو کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے زرمبادلہ کا بڑا ذریعہ ہیں، بھی متاثر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی ملک کے پاسپورٹ کی طاقت اس کی عالمی حیثیت کے تاثر کو خاموشی سے تشکیل دیتی ہے۔ مضبوط پاسپورٹ رکھنے والے ممالک کو مستحکم، قابلِ اعتماد اور تعاون پر آمادہ شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مسلسل نچلی درجہ بندی یہ تصور مضبوط کرتی ہے کہ پاکستان عالمی انضمام کے کنارے پر ہے، جو بین الاقوامی تعلقات میں باہمی اعتبار اور پیش گوئی کے تقاضے پورے نہیں کر پاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام پاکستانیوں کے لیے یہ درجہ بندی جذباتی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ یہ طے کرتی ہے کہ ان کے ساتھ ہوائی اڈوں، سفارت خانوں اور بیرونِ ملک کام کی جگہوں پر کس طرح کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ یہ قومی وقار کے احساس پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، کہ ان کے ملک کی ساکھ ان کے ذاتی تجربے کو کیسے متاثر کرتی ہے۔ ایک مضبوط پاسپورٹ فخر اور مواقع، دونوں میں اضافہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس اپنے پاسپورٹ کی درجہ بندی بہتر بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے لیے محض انتظامی اصلاحات کافی نہیں، بلکہ سفارت کاری، طرزِ حکمرانی اور تاثر کی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سفارت خانوں کو چاہیے کہ وہ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور مشرقی یورپ کے دوست ممالک کے ساتھ ویزا میں نرمی یا استثنیٰ کے معاہدے طے کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کریں۔ انڈونیشیا، ملائیشیا اور آذربائیجان جیسے ممالک نے باہمی اعتماد اور دستاویزی اصلاحات کے ذریعے علاقائی نقل و حرکت کے شراکت داری ماڈل قائم کیے ہیں۔ ’موبیلیٹی ڈپلومیسی‘ کو وزارتِ خارجہ کی کارکردگی کے اہداف (کے پی آئیز) کا حصہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نادرا کے نظامِ تصدیق، بائیومیٹرک پاسپورٹ اور داخلہ و اخراج کی نگرانی جیسے شناختی نظاموں پر عالمی اعتماد کو بڑھانا ناگزیر ہے۔ ڈیٹا شیئرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف بین الاقوامی تعاون سے دیگر ممالک کو یقین دلایا جا سکتا ہے کہ پاکستان محفوظ اور قابلِ نگرانی سفر کو یقینی بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس اور جعلی ٹریول ایجنٹس کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی جو اس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ غیر قانونی ہجرت کے خلاف موثر اقدامات دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ پاکستان ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی ہے، جس کے نتیجے میں ویزا پابندیوں میں نرمی ممکن ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹریٹجک ابلاغ بھی اہم ہے۔ پاکستان کو اپنی سلامتی، ٹیکنالوجی اور سیاحت میں پیش رفت کو اجاگر کرنے کے لیے قومی برانڈنگ مہم شروع کرنی چاہیے۔ ثقافتی سفارت کاری، اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ روابط اور بین الاقوامی میڈیا شراکت داری کے ذریعے مثبت بیانیہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی استحکام، کرنسی کی مضبوطی اور اصلاحاتی نظم کے تحت معیشت کی بحالی سے پاکستان کا اعتبار بطور مستحکم شراکت دار بڑھے گا۔ معاشی لچک خود بخود سفری استحکام کے تاثر میں بدلتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او )، ای سی او اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے علاقائی سفری سہولتوں کے معاہدوں پر غور کرنا چاہیے۔ ایسے تدریجی اقدامات سے عالمی درجہ بندی میں بہتری ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی نقل و حرکت کی درجہ بندی میں اوپر آنے کے لیے پاکستان کو اعتماد بحال کرنا، استحکام کا تاثر دینا اور شفاف حکمرانی و متحرک سفارت کاری کے ذریعے دنیا سے ازسرِ نو روابط قائم کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مضبوط پاسپورٹ نہ صرف دنیا کے دروازے کھولے گا بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہوگا کہ پاکستان اب ان اقوام میں شامل ہونے کو تیار ہے جن کے شہری وقار اور اعتماد کے ساتھ سفر کرتے ہیں، اور خوش آمدید کہے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افسوسناک خبر یہ ہے کہ ’’ایک بار پھر پاکستان کا پاسپورٹ عالمی نقل و حرکت کی درجہ بندی میں نچلے درجے پر جا پہنچا ہے۔‘‘ خوش آئند خبر یہ ہے کہ ’’پاکستان کے پاس اس مسئلے کو درست کرنے کی اندرونی صلاحیتیں موجود ہیں۔‘‘ یہ کالم انہی دونوں پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہے۔</strong></p>
<p>ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان 109 ممالک میں سے 103 ویں نمبر پر ہے، ایک ایسی درجہ بندی جو محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ دیرپا ساختی، معاشی اور جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ مسلسل پانچواں سال ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ درجہ بندی کے نچلے حصے میں موجود ہے، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاسپورٹ محض سفر کا دستاویز نہیں بلکہ کسی ملک کی عالمی حیثیت، طرزِ حکمرانی اور استحکام کے بارے میں دنیا کے تاثر کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود، یہ درجہ بندی بظاہر قبول کرنے کے بجائے اس کے پس منظر میں موجود سوالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، بالخصوص وہ عوامل جو اس درجہ بندی اور اس کی ساکھ کو متعین کرتے ہیں۔</p>
<p>پاسپورٹ کی درجہ بندی کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں؟</p>
<p>کیا یہ درجہ بندیاں واقعی منصفانہ اور حقائق پر مبنی ہیں؟</p>
<p>پاکستان کا پاسپورٹ اتنا نیچے کیوں ہے؟</p>
<p>یہ درجہ بندی پاکستان کی عالمی ساکھ کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟</p>
<p>انہی سوالات سے وہ جوابات سامنے آئیں گے جو پاکستان کی درجہ بندی بہتر بنانے کا راستہ دکھا سکتے ہیں۔</p>
<p>لندن کی فرم ہینلے اینڈ پارٹنرز کی جانب سے تیار کردہ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس دنیا بھر کے 227 مقامات کے مقابلے میں 199 پاسپورٹس کا جائزہ لیتا ہے۔ اس درجہ بندی کا انحصار مکمل طور پر اس بات پر ہوتا ہے کہ ایک پاسپورٹ اپنے حامل کو کتنے ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول رسائی فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>یہ انڈیکس اپنا ڈیٹا انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) سے حاصل کرتا ہے، تاکہ درجہ بندی حقیقی وقت کی سفری پالیسیوں اور عالمی نقل و حرکت کے انتظامات پر مبنی ہو۔ ہر وہ ملک جہاں پاسپورٹ کے حامل کو پیشگی ویزا کی ضرورت نہیں ہوتی، ایک پوائنٹ شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی ملک کی جی ڈی پی، تجارتی حجم یا سفارتی تعلقات کو وزن نہیں دیا جاتا — یہ صرف نقل و حرکت کی آزادی کی پیمائش ہے۔</p>
<p>اگرچہ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس اعداد و شمار پر مبنی اور قابلِ تصدیق ہے، کیونکہ یہ بنیادی طور پر  آئی اے ٹی اے(ایاٹا) کی سرکاری معلومات پر انحصار کرتا ہے، تاہم یہ کسی ملک کی بین الاقوامی حیثیت کا مکمل تناظر نہیں دکھاتا۔ اس کا طریقہ کار نتیجہ، یعنی ویزا فری رسائی، کو ناپتا ہے، اس کے اسباب کو نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سلامتی کے تاثر، عالمی میڈیا کے بیانیے اور سفارتی تعصبات جیسے وسیع عوامل بالواسطہ طور پر ان نتائج کو متاثر کرتے ہیں۔ انڈیکس تکنیکی طور پر درست ہے، مگر ویزا پابندیاں طے کرنے والی پالیسیاں اکثر مفروضات، تاثر اور تصویر پر مبنی ہوتی ہیں، زمینی حقائق پر نہیں۔ چنانچہ اگر کوئی ملک اپنی داخلی سلامتی یا طرزِ حکمرانی بہتر بھی کر لے، تب بھی دیگر ریاستوں کو ویزا پالیسیوں پر نظرثانی میں برسوں لگ سکتے ہیں، بشرطیکہ متعلقہ ملک خود اس عمل کو تیز کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کرے۔</p>
<p>پاکستان کی مسلسل کمزور درجہ بندی اس کی عالمی ساکھ اور جغرافیائی، سلامتی و حکمرانی سے جڑے عوامل کے مجموعے کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>بہت سے ممالک پاکستان کو ماضی میں دہشت گردی، غیر قانونی ہجرت اور سفری دستاویزات کی ساکھ کے مسائل کے باعث ایک ’ہائی رسک‘ ملک سمجھتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت انسدادِ دہشت گردی میں نمایاں بہتری کے باوجود پاکستان کی داخلی سلامتی کے بارے میں عالمی تاثر پرانا اور منفی ہے۔ ویزا پالیسیوں کی تشکیل اس بنیاد پر ہوتی ہے کہ کسی ملک کے مسافر کتنے محفوظ، ذمہ دار اور قواعد کے پابند سمجھے جاتے ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی زیادہ تر ردِعمل پر مبنی رہی ہے، حکمتِ عملی پر نہیں۔ اگرچہ چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات مضبوط ہیں، لیکن مغربی، آسیان اور ترقی یافتہ معیشتوں تک اس کی سفارتی رسائی محدود رہی ہے، وہی ممالک جو قابلِ اعتماد شراکت داروں کو وسیع ویزا فری سہولتیں دیتے ہیں۔ ملائیشیا یا ترکی جیسے ممالک نے باہمی سفری معاہدوں کے ذریعے نقل و حرکت میں آسانی حاصل کی ہے جبکہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں ’موبیلیٹی ڈپلومیسی‘ کو کبھی موثر انداز میں اپنایا نہیں کیا۔</p>
<p>ویزا فری داخلے کی سہولت دینے والے ممالک شراکت دار ملک کے شناختی و سرحدی نظام پر اعتماد کو اہمیت دیتے ہیں۔ پاکستان کے بائیومیٹرک پاسپورٹ، الیکٹرانک ڈیٹا بیسز اور نادرا کی جدیدیت عالمی معیار کی حامل ہے، مگر پاسپورٹ کے غلط استعمال اور جعلی شناخت کے خدشات تاحال موجود ہیں۔ انسانی اسمگلنگ کے خلاف کمزور کارروائی اور ماضی کی کوتاہیوں کے باعث پاکستان کے سفری دستاویزات پر بین الاقوامی اعتماد اب بھی نازک ہے۔</p>
<p>کسی ملک کی معاشی پائیداری اور اس کے شہریوں کے بیرونِ ملک روزگار کے لیے ویزا سے تجاوز کرنے کے امکانات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی اور کرنسی کی گراوٹ کے باعث امیر ممالک پاکستان کے لیے سخت ویزا پالیسی اختیار کرتے ہیں، تاکہ غیر قانونی ہجرت سے بچا جا سکے۔ یوں معاشی عدم استحکام براہِ راست محدود نقل و حرکت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی حقیقی پیش رفت کے باوجود اس کی عالمی ساکھ نے قدم نہیں ملایا۔ بین الاقوامی میڈیا تاحال خطرے اور غیر یقینی کے بیانیے کو اجاگر کرتا ہے۔ تاثر ہمیشہ حقیقت سے پیچھے رہتا ہے، اور عالمی نقل و حرکت میں تاثر ہی پالیسی بن جاتا ہے۔</p>
<p>ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کا اثر محض سفری آزادی ناپنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس بات کا پیمانہ بن چکا ہے کہ دنیا کسی ملک کی ساکھ، حکمرانی اور عالمی انضمام کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ کمزور پاسپورٹ علامتی اور معاشی طور پر گہرے اثرات رکھتا ہے۔</p>
<p>شہریوں کی نقل و حرکت براہِ راست کسی قوم کی نرم طاقت (سافٹ پاور) پر اثر انداز ہوتی ہے۔ طلبہ، کاروباری افراد اور پیشہ ور حضرات جو طویل ویزا عمل یا انکار کا سامنا کرتے ہیں، بین الاقوامی مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جب پاکستانی مسافروں کو ضرورت سے زیادہ جانچ پڑتال سے گزرنا پڑتا ہے تو پاکستان کی بطور ذمہ دار اور پُراعتماد ریاست تصویر کمزور پڑتی ہے۔</p>
<p>سفر کی محدود آزادی تجارت، سرمایہ کاری اور ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت کو متاثر کرتی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت یا برآمدی معاہدوں تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔ ہنرمند کارکن بیرونِ ملک منصوبوں یا تربیت کے مواقع سے محروم رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ سیاحتی اخراجات، جو کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے زرمبادلہ کا بڑا ذریعہ ہیں، بھی متاثر ہوتے ہیں۔</p>
<p>کسی ملک کے پاسپورٹ کی طاقت اس کی عالمی حیثیت کے تاثر کو خاموشی سے تشکیل دیتی ہے۔ مضبوط پاسپورٹ رکھنے والے ممالک کو مستحکم، قابلِ اعتماد اور تعاون پر آمادہ شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مسلسل نچلی درجہ بندی یہ تصور مضبوط کرتی ہے کہ پاکستان عالمی انضمام کے کنارے پر ہے، جو بین الاقوامی تعلقات میں باہمی اعتبار اور پیش گوئی کے تقاضے پورے نہیں کر پاتا۔</p>
<p>عام پاکستانیوں کے لیے یہ درجہ بندی جذباتی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ یہ طے کرتی ہے کہ ان کے ساتھ ہوائی اڈوں، سفارت خانوں اور بیرونِ ملک کام کی جگہوں پر کس طرح کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ یہ قومی وقار کے احساس پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، کہ ان کے ملک کی ساکھ ان کے ذاتی تجربے کو کیسے متاثر کرتی ہے۔ ایک مضبوط پاسپورٹ فخر اور مواقع، دونوں میں اضافہ کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے پاس اپنے پاسپورٹ کی درجہ بندی بہتر بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے لیے محض انتظامی اصلاحات کافی نہیں، بلکہ سفارت کاری، طرزِ حکمرانی اور تاثر کی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی درکار ہے۔</p>
<p>پاکستانی سفارت خانوں کو چاہیے کہ وہ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور مشرقی یورپ کے دوست ممالک کے ساتھ ویزا میں نرمی یا استثنیٰ کے معاہدے طے کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کریں۔ انڈونیشیا، ملائیشیا اور آذربائیجان جیسے ممالک نے باہمی اعتماد اور دستاویزی اصلاحات کے ذریعے علاقائی نقل و حرکت کے شراکت داری ماڈل قائم کیے ہیں۔ ’موبیلیٹی ڈپلومیسی‘ کو وزارتِ خارجہ کی کارکردگی کے اہداف (کے پی آئیز) کا حصہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>نادرا کے نظامِ تصدیق، بائیومیٹرک پاسپورٹ اور داخلہ و اخراج کی نگرانی جیسے شناختی نظاموں پر عالمی اعتماد کو بڑھانا ناگزیر ہے۔ ڈیٹا شیئرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف بین الاقوامی تعاون سے دیگر ممالک کو یقین دلایا جا سکتا ہے کہ پاکستان محفوظ اور قابلِ نگرانی سفر کو یقینی بنا سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس اور جعلی ٹریول ایجنٹس کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی جو اس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ غیر قانونی ہجرت کے خلاف موثر اقدامات دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ پاکستان ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی ہے، جس کے نتیجے میں ویزا پابندیوں میں نرمی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p>اسٹریٹجک ابلاغ بھی اہم ہے۔ پاکستان کو اپنی سلامتی، ٹیکنالوجی اور سیاحت میں پیش رفت کو اجاگر کرنے کے لیے قومی برانڈنگ مہم شروع کرنی چاہیے۔ ثقافتی سفارت کاری، اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ روابط اور بین الاقوامی میڈیا شراکت داری کے ذریعے مثبت بیانیہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>معاشی استحکام، کرنسی کی مضبوطی اور اصلاحاتی نظم کے تحت معیشت کی بحالی سے پاکستان کا اعتبار بطور مستحکم شراکت دار بڑھے گا۔ معاشی لچک خود بخود سفری استحکام کے تاثر میں بدلتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او )، ای سی او اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے علاقائی سفری سہولتوں کے معاہدوں پر غور کرنا چاہیے۔ ایسے تدریجی اقدامات سے عالمی درجہ بندی میں بہتری ممکن ہے۔</p>
<p>عالمی نقل و حرکت کی درجہ بندی میں اوپر آنے کے لیے پاکستان کو اعتماد بحال کرنا، استحکام کا تاثر دینا اور شفاف حکمرانی و متحرک سفارت کاری کے ذریعے دنیا سے ازسرِ نو روابط قائم کرنا ہوں گے۔</p>
<p>ایک مضبوط پاسپورٹ نہ صرف دنیا کے دروازے کھولے گا بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہوگا کہ پاکستان اب ان اقوام میں شامل ہونے کو تیار ہے جن کے شہری وقار اور اعتماد کے ساتھ سفر کرتے ہیں، اور خوش آمدید کہے جاتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278305</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Oct 2025 16:28:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/18155254fd0517a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/18155254fd0517a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
