<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متحدہ عرب امارات کی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی نے فرسٹ ویمن بینک کے 82.64 فیصد حصص خرید لیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278295/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات کی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) نے جمعہ کو فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ (ایف ڈبلیو بی ایل) کے 82.64 فیصد حصص 4.1 ارب روپے میں حاصل کر لیے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ پاکستان کے انٹرگورنمنٹل کمرشل ٹرانزیکشنز ایکٹ 2022ء کے تحت طے پایا ہے  جس کے نتیجے میں یہ ملک کی پہلی بینک نجکاری بن گئی جو دوطرفہ فریم ورک کے ذریعے مکمل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستخطی تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، اور دیگر اعلیٰ سرکاری و عسکری حکام نے شرکت کی۔ تقریب میں شیخ زاید بن حمدان بن زاید آل نہیان، چیئرمین ٹوپوائنٹ زیرو، اور انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) کے نمائندے بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان قریبی معاشی تعلقات کی ایک ابتدائی علامت قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام مستقبل میں مزید دوطرفہ سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس معاہدے کو پاکستان کے وسیع تر نجکاری پروگرام سے جوڑا جس کا مقصد خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے بتایا کہ یہ معاہدہ دونوں حکومتوں کے براہِ راست روابط کے ذریعے ممکن ہوا جس میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے قیادت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ (ایف ڈبلیو بی ایل) کی بنیاد 1989ء میں اُس وقت کی وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے خواتین کی مالی شمولیت کے فروغ کے مقصد سے رکھی تھی۔ یہ بینک ملک بھر میں 42 برانچز کے ذریعے رٹیل، ایس ایم ای اور کارپوریٹ بینکنگ کی خدمات فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند برسوں میں بینک کو سرمائے کی کمی اور عملی مشکلات کا سامنا رہا جس کے باعث اسے حکومت کی نجکاری فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریداری کے بعد انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) کی جانب سے بینک میں نیا سرمایہ شامل کیے جانے کی توقع ہے تاکہ کم از کم سرمایہ جاتی تقاضے پورے کیے جاسکیں اور بینک کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعلامیے کے مطابق کمپنی بینک کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں آٹومیشن، اے آئی اور ڈیجیٹل بینکنگ ٹولز کا استعمال شامل ہوگا۔ بینک کی دوبارہ برانڈنگ (Re-branding) بھی متوقع ہے جو اس کے دائرہ کار میں وسعت اور وسیع عوامی طبقے کی خدمت کی جانب ایک تبدیلی کی علامت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) کے چیف ایگزیکٹو سید باسر شعیب نے کہا کہ یہ خریداری پاکستان کے مالیاتی شعبے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے اور آئی ایچ سی کی تیزی سے ترقی پذیر منڈیوں میں سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کے مطابق ہے۔انہوں نے کہا  کہ ہم بینک کی جدید کاری میں ٹیکنالوجی کے انضمام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مالیاتی فیصلوں کے نظام کے ذریعے تعاون کے منتظر ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ عرب امارات کی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) نے جمعہ کو فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ (ایف ڈبلیو بی ایل) کے 82.64 فیصد حصص 4.1 ارب روپے میں حاصل کر لیے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔</strong></p>
<p>یہ معاہدہ پاکستان کے انٹرگورنمنٹل کمرشل ٹرانزیکشنز ایکٹ 2022ء کے تحت طے پایا ہے  جس کے نتیجے میں یہ ملک کی پہلی بینک نجکاری بن گئی جو دوطرفہ فریم ورک کے ذریعے مکمل کی گئی۔</p>
<p>دستخطی تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، اور دیگر اعلیٰ سرکاری و عسکری حکام نے شرکت کی۔ تقریب میں شیخ زاید بن حمدان بن زاید آل نہیان، چیئرمین ٹوپوائنٹ زیرو، اور انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) کے نمائندے بھی موجود تھے۔</p>
<p>تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان قریبی معاشی تعلقات کی ایک ابتدائی علامت قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام مستقبل میں مزید دوطرفہ سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے اس معاہدے کو پاکستان کے وسیع تر نجکاری پروگرام سے جوڑا جس کا مقصد خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم نے بتایا کہ یہ معاہدہ دونوں حکومتوں کے براہِ راست روابط کے ذریعے ممکن ہوا جس میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے قیادت کی۔</p>
<p>فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ (ایف ڈبلیو بی ایل) کی بنیاد 1989ء میں اُس وقت کی وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے خواتین کی مالی شمولیت کے فروغ کے مقصد سے رکھی تھی۔ یہ بینک ملک بھر میں 42 برانچز کے ذریعے رٹیل، ایس ایم ای اور کارپوریٹ بینکنگ کی خدمات فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ چند برسوں میں بینک کو سرمائے کی کمی اور عملی مشکلات کا سامنا رہا جس کے باعث اسے حکومت کی نجکاری فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔</p>
<p>خریداری کے بعد انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) کی جانب سے بینک میں نیا سرمایہ شامل کیے جانے کی توقع ہے تاکہ کم از کم سرمایہ جاتی تقاضے پورے کیے جاسکیں اور بینک کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا سکے۔</p>
<p>سرکاری اعلامیے کے مطابق کمپنی بینک کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں آٹومیشن، اے آئی اور ڈیجیٹل بینکنگ ٹولز کا استعمال شامل ہوگا۔ بینک کی دوبارہ برانڈنگ (Re-branding) بھی متوقع ہے جو اس کے دائرہ کار میں وسعت اور وسیع عوامی طبقے کی خدمت کی جانب ایک تبدیلی کی علامت ہوگی۔</p>
<p>انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) کے چیف ایگزیکٹو سید باسر شعیب نے کہا کہ یہ خریداری پاکستان کے مالیاتی شعبے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے اور آئی ایچ سی کی تیزی سے ترقی پذیر منڈیوں میں سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کے مطابق ہے۔انہوں نے کہا  کہ ہم بینک کی جدید کاری میں ٹیکنالوجی کے انضمام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مالیاتی فیصلوں کے نظام کے ذریعے تعاون کے منتظر ہیں۔‘</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278295</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Oct 2025 11:57:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/18115204e4f7616.webp" type="image/webp" medium="image" height="281" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/18115204e4f7616.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
