<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:41:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:41:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر خزانہ کی ورلڈ بینک کے صدر سے ملاقات، سیلاب کے بعد بحالی اور معاشی اصلاحات پر گفتگو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278290/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا سے ملاقات کی جس میں انہوں نے پاکستان کی سیلاب کے بعد بحالی کی کوششوں، جاری معاشی اصلاحات اور مستقبل کی ترقیاتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی کے دورے کے پانچویں روز بھی اپنی اہم ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جہاں وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک گروپ کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجے بانگا سے اہم ملاقات کے دوران، وزیرِ خزانہ نے وزیرِ اعظم کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ان سے ہونے والی نتیجہ خیز ملاقات کو یاد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ورلڈ بینک کے صدر کو حکومت کے سیلاب سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی اور نقصانات کے بعد کے تخمینے کی تکمیل پر بینک کی معاونت کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے چھوٹے کسانوں تک رسائی کے لیے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور کوآپریٹوز کے استعمال کی تجویز کی حمایت کی اور پاکستان کی ٹیرف پالیسی کی تیاری میں ورلڈ بینک کی تکنیکی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ورلڈ بینک کے صدر کو اس بارے میں بھی آگاہ کیا کہ صوبوں کے ساتھ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کے نفاذ کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں اور کم فنڈز کے تناظر میں آئی ڈی اے  ونڈو کے تحت اضافی معاونت کی درخواست کی۔ دونوں فریقین نے گیس اور توانائی شعبوں میں اصلاحات کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں محمد اورنگزیب نے فنانسنگ اِن اے فریگمنٹڈ ورلڈ کے عنوان سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے 2025-26 کے لیے عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی، جن میں بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹیں اور توانائی کی گرتی ہوئی قیمتیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں عائد کی جانے والی باہمی ٹیرف پالیسیوں کے باوجود، 2025 کے آغاز میں عالمی معیشت توقعات سے زیادہ مستحکم ثابت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات، چینی قیادت سے رابطے، سعودی عرب کے ساتھ نئے سیکیورٹی انتظامات اور سی پیک 2.0 کے آغاز جیسے اقدامات پاکستان کے اقتصادی منظرنامے پر مثبت جغرافیائی و سیاسی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تجارت میں تقسیم کے رجحان نے ممالک کو علاقائی راہداریوں کو مضبوط کرنے اور اپنے تجارتی شراکت داروں میں تنوع پیدا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے فِچ ریٹنگز کے حکام سے بھی ملاقات کی اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو مستحکم آؤٹ لک کے ساتھ B- تک بہتر کرنے پر عالمی ریٹنگ ایجنسی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اطمینان ظاہر کیا کہ اب تینوں بڑی ریٹنگ ایجنسیوں کے تجزیے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فِچ ٹیم کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے حالیہ اسٹاف لیول معاہدے ، امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی و ٹیرف مذاکرات اور ٹیکسیشن، توانائی، نجکاری اور سرکاری اداروں  میں اصلاحات کے عمل سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حکومت نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے اور پانڈا بانڈز کے ذریعے مالیاتی ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری آئے گی اور فِچ ٹیم کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی اسلامک بینک  کے گروپ سی ای او ڈاکٹر عدنان چلوَان سے ملاقات میں وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے لیے خودمختار سکوک کے اجرا میں ڈی آئی بی کے بطور عالمی رہنما کردار کو سراہا۔ انہوں نے فسٹ ویمن بینک سمیت نجکاری کے مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا ذکر کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی فنڈنگ کے ذرائع کو امریکی ڈالر، پانڈا اور سکوک مارکیٹس میں متنوع بنانے پر مرکوز رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے شارجہ اسلامک بینک اور اجمان بینک کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں اور مشترکہ مالیاتی انتظامات  میں ان کی شمولیت پر شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بینکوں کو بتایا کہ پاکستان اپنی مالیاتی تنوع کی حکمتِ عملی کے تحت چینی مارکیٹ میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور مستقبل میں تعاون کے مواقع کے لیے ڈیٹ مینجمنٹ آفس کے ساتھ مزید روابط بڑھانے کی ترغیب دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا سے ملاقات کی جس میں انہوں نے پاکستان کی سیلاب کے بعد بحالی کی کوششوں، جاری معاشی اصلاحات اور مستقبل کی ترقیاتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔</strong></p>
<p>فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی کے دورے کے پانچویں روز بھی اپنی اہم ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جہاں وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک گروپ کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔</p>
<p>اجے بانگا سے اہم ملاقات کے دوران، وزیرِ خزانہ نے وزیرِ اعظم کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ان سے ہونے والی نتیجہ خیز ملاقات کو یاد کیا۔</p>
<p>انہوں نے ورلڈ بینک کے صدر کو حکومت کے سیلاب سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی اور نقصانات کے بعد کے تخمینے کی تکمیل پر بینک کی معاونت کو سراہا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے چھوٹے کسانوں تک رسائی کے لیے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور کوآپریٹوز کے استعمال کی تجویز کی حمایت کی اور پاکستان کی ٹیرف پالیسی کی تیاری میں ورلڈ بینک کی تکنیکی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>انہوں نے ورلڈ بینک کے صدر کو اس بارے میں بھی آگاہ کیا کہ صوبوں کے ساتھ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کے نفاذ کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں اور کم فنڈز کے تناظر میں آئی ڈی اے  ونڈو کے تحت اضافی معاونت کی درخواست کی۔ دونوں فریقین نے گیس اور توانائی شعبوں میں اصلاحات کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>بعد ازاں محمد اورنگزیب نے فنانسنگ اِن اے فریگمنٹڈ ورلڈ کے عنوان سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے 2025-26 کے لیے عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی، جن میں بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹیں اور توانائی کی گرتی ہوئی قیمتیں شامل ہیں۔</p>
<p>اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں عائد کی جانے والی باہمی ٹیرف پالیسیوں کے باوجود، 2025 کے آغاز میں عالمی معیشت توقعات سے زیادہ مستحکم ثابت ہوئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات، چینی قیادت سے رابطے، سعودی عرب کے ساتھ نئے سیکیورٹی انتظامات اور سی پیک 2.0 کے آغاز جیسے اقدامات پاکستان کے اقتصادی منظرنامے پر مثبت جغرافیائی و سیاسی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تجارت میں تقسیم کے رجحان نے ممالک کو علاقائی راہداریوں کو مضبوط کرنے اور اپنے تجارتی شراکت داروں میں تنوع پیدا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے فِچ ریٹنگز کے حکام سے بھی ملاقات کی اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو مستحکم آؤٹ لک کے ساتھ B- تک بہتر کرنے پر عالمی ریٹنگ ایجنسی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اطمینان ظاہر کیا کہ اب تینوں بڑی ریٹنگ ایجنسیوں کے تجزیے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔</p>
<p>انہوں نے فِچ ٹیم کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے حالیہ اسٹاف لیول معاہدے ، امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی و ٹیرف مذاکرات اور ٹیکسیشن، توانائی، نجکاری اور سرکاری اداروں  میں اصلاحات کے عمل سے آگاہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حکومت نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے اور پانڈا بانڈز کے ذریعے مالیاتی ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری آئے گی اور فِچ ٹیم کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔</p>
<p>دبئی اسلامک بینک  کے گروپ سی ای او ڈاکٹر عدنان چلوَان سے ملاقات میں وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے لیے خودمختار سکوک کے اجرا میں ڈی آئی بی کے بطور عالمی رہنما کردار کو سراہا۔ انہوں نے فسٹ ویمن بینک سمیت نجکاری کے مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا ذکر کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی فنڈنگ کے ذرائع کو امریکی ڈالر، پانڈا اور سکوک مارکیٹس میں متنوع بنانے پر مرکوز رہے گا۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے شارجہ اسلامک بینک اور اجمان بینک کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں اور مشترکہ مالیاتی انتظامات  میں ان کی شمولیت پر شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>انہوں نے بینکوں کو بتایا کہ پاکستان اپنی مالیاتی تنوع کی حکمتِ عملی کے تحت چینی مارکیٹ میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور مستقبل میں تعاون کے مواقع کے لیے ڈیٹ مینجمنٹ آفس کے ساتھ مزید روابط بڑھانے کی ترغیب دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278290</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Oct 2025 10:52:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/18104758658a30c.webp" type="image/webp" medium="image" height="916" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/18104758658a30c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
