<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بامقصد صنعتی پالیسی کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278279/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حال ہی میں اپنی ششماہی رپورٹ ”ورلڈ اکنامک آؤٹ لک“ (ڈبلیو ای او) جاری کی ہے، جس کے اکتوبر ایڈیشن کا عنوان تھا ”عالمی معیشت تغیر پذیر، امکانات کمزور“، جبکہ رواں سال کا پہلا ایڈیشن اپریل میں شائع ہوا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مصنفین نے درست طور پر نشاندہی کی ہے کہ ”عالمی معیشت کے اصول تغیر کا شکار ہیں“ اور یہ کہ ”عالمی معیشت کے استحکام اور سمت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بدستور شدید ہے“۔ تاہم، ڈبلیو ای او رپورٹ میں ایک پوشیدہ تضاد بھی موجود ہے، اور وہ یہ کہ بار بار وہی غلطی دہرائی جا رہی ہے کہ حل نیولبرل نظام کے اندر تلاش کیے جائیں، جو بذاتِ خود اس ”تغیر“ اور ”غیر یقینی صورتحال“ کی بنیادی وجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں میں واضح طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ موجودہ بحران کی جڑ نیولبرل پالیسیوں میں ہے، جن میں غیر متوازن کفایت شعاری، معیشت کے چکروں کے مطابق ردِعمل دینے والی پالیسیاں  اور ترقی پذیر ممالک کو غیر مستحکم سرمائے کی آمد و رفت سے تحفظ دینے والے موثر ضابطہ جاتی نظام کی کمی شامل ہے۔ نتیجتاً جب معاشی سست روی کے دوران سرمایہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، تو وہ ترقی یافتہ معیشتوں کے محفوظ مراکز کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں مجموعی طور پر یہ نیولبرل پالیسی، جو بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں متعدد منفی اثرات پیدا کر چکی ہے، عوامی شعبے کی خدمات کی فراہمی کی صلاحیت کو حد سے زیادہ نجی ٹھیکوں اور آؤٹ سورسنگ کے باعث کمزور کرتی ہے، حکومت کے کردار کو صرف نجی شعبے کے معاون تک محدود کر دیتی ہے، مالیاتی گنجائش کو غیر معمولی شرحِ سود کی ادائیگیوں کے بوجھ سے متاثر کرتی ہے اور ریاستی سطح پر لچک میں بہتری کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے کیونکہ حکومت کا کردار مسلسل غیر فعال ہوتا جا رہا ہے۔ بیرونی محاذ پر یہی پالیسی کثیرالجہتی جذبے کی کمی پیدا کرتی ہے کیونکہ نجی شعبے کی زیرِ قیادت معیشتیں قلیل المدتی منافع پر زیادہ توجہ دیتی ہیں اور ان وجودی نوعیت کے خطرات سے نمٹنے میں کم دلچسپی رکھتی ہیں جو سرحدوں اور شعبوں سے ماورا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ماحول میں تشکیل پانے والی صنعتی پالیسی بھی پس منظر میں چلی جاتی ہے کیونکہ دولت مند مفادات، جو سیاست میں بڑھتے ہوئے مالی اثر و رسوخ کے باعث عوامی پالیسی پر غلبہ حاصل کر چکے ہیں، دباؤ کے گروہوں کے طور پر کام کرتے ہیں تاکہ پالیسیوں کو قومی مفاد کے بجائے اپنے محدود اور قلیل المدتی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ نتیجتاً ملک گیر سطح پر ایسی صنعتی پالیسی کی تشکیل ممکن نہیں ہو پاتی جو ہدف پر مبنی اور مقصدی نوعیت کی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں صنعتی پالیسی کو عالمی سطح پر دوسرے ممالک کے ساتھ بھی موثر روابط حاصل نہیں ہو پاتے کیونکہ کمزور کثیرالجہتی نظام کے باعث علم و ٹیکنالوجی کے تبادلے میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں جو حقوقِ دانش“ یا “دانشورانہ املاک کے حقوق ( آئی پی آرز) اور  پیٹنٹ کی قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے مزید بڑھ جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مصنفین کے طرزِ فکر سے جنم لینے والا ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ صنعتی پالیسی کے کردار کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، ایک ایسی پالیسی جو طویل عرصے تک مرکزی معاشی پالیسیوں کے دائرے سے باہر رہی، لیکن نیولبرل پالیسیوں کی بڑی ناکامیوں کے باعث، جو مجموعی طور پر ایک مضبوط اور لچکدار عالمی معیشت تشکیل دینے میں ناکام رہیں، صنعتی پالیسی پر وہ اعتماد اب بھی نہیں کیا جا رہا جو موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ رپورٹ میں صنعتی پالیسی کے موضوع پر ایک مکمل باب شامل کیا گیا ہے، تاہم مجموعی طور پر اس میں دی گئی سفارشات انتہائی محتاط رویّے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، آئی ایم ایف کے معاشی مشیر نے رپورٹ کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ”اگرچہ ممالک اپنی معیشتوں کی تشکیلِ نو کے لیے صنعتی پالیسی کا بڑھتا ہوا استعمال کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ مالیاتی اور پوشیدہ لاگتیں بھی وابستہ ہوتی ہیں… اگرچہ شعبہ جاتی صنعتی پالیسیاں اپنانا پرکشش لگ سکتا ہے، تاہم شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی موثریت محدود اور ضمنی اثرات خاطرخواہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے بجائے افقی نوعیت کی پالیسیوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ حل تلاش کرنے کا رجحان اب بھی زیادہ تر نیولبرل روایت کے اندر ہی محدود ہے، اس لیے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بامقصد اور مشن پر مبنی عوامی پالیسی، بالخصوص ملکی سطح پر صنعتی پالیسی، کے سکڑتے ہوئے کردار نے ہی پیداواری اور تخصیصی استعداد میں مطلوبہ سطح حاصل نہ ہونے اور نتیجتاً معیشتی لچک کے کمزور نتائج سامنے آنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی پالیسی کی اشد ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے 2021 میں شائع ہونے والی کتاب ”پبلک پرپز: انڈسٹریل پالیسی کی واپسی اور مشترکہ خوشحالی میں حکومت کا کردار“ میں کہا گیا ہے کہ ”یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک اس نظریے کی جانب بڑھ رہے ہیں کہ حکومتوں کو بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صنعتی پالیسی استعمال کرنی چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی رجحان کو تسلیم کرتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 2019 میں ایک رپورٹ جاری کی جس کا عنوان تھا: ”اس پالیسی کی واپسی جس کا نام لینا منع تھا: صنعتی پالیسی کے اصول“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پالیسی ”نام لینے کے لائق“ کیوں نہ تھی؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ صنعتی پالیسی اُن بہت سی پالیسیوں میں سے ایک تھی جو 1980 کی دہائی میں شروع ہونے والی عالمی معاشی تبدیلیوں کی نذر ہو گئیں۔ یہ ابھرنے والا نظریہ، جسے آج نیولبرل ازم کہا جاتا ہے، 1989 میں واشنگٹن کنسنسس کے ذریعے باقاعدہ شکل اختیار کر گیا، جس نے نجکاری، ضابطہ بندی کے خاتمے اور آزاد تجارت کو فروغ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بنیادی ستونوں کے ساتھ کم بجٹ خسارے، کم افراطِ زر پر مرکوز آزاد مرکزی بینک اور تجارت و غیرملکی براہِ راست سرمایہ کاری کی آزادانہ پالیسیوں پر زور دیا گیا۔ یہ نقطہ نظر منڈی پر غیر معمولی اعتماد اور حکومتی کردار پر شدید شکوک و شبہات پر مبنی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں لکھا ہے کہ ”ترقی پذیر معیشتوں کے گزشتہ تیس برسوں کے تجربات کے تفصیلی جائزے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مارکیٹ میکانزم کے بغیر وسائل کی تقسیم کی کوششیں عام طور پر معاشی کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام رہی ہیں۔ آج وہی ’مارکیٹ طریقے‘ اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آئی ایم ایف نے حالیہ برسوں میں اپنی عالمی رپورٹوں میں صنعتی پالیسی کے کردار کو کچھ اہمیت دی ہے لیکن ملکی سطح کے پروگراموں، مثلاً پاکستان کے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف ) پروگرام، میں صنعتی پالیسی کی تشکیل پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ آئی ایم ایف کے نزدیک صنعتی پالیسی کی موثریت اب بھی محدود ہے کیونکہ جس فلسفیانہ بنیاد پر وہ صنعتی پالیسی کو دیکھتا ہے، وہ بدستور نیولبرل ماحول میں جکڑی ہوئی ہے، جہاں حکومت اور ریگولیشن کا کردار کم سے کم اور نجی شعبے کا کردار زیادہ سے زیادہ ہے۔ نتیجتاً، منافع پر مبنی منڈی کے اشاروں کے تابع نجی شعبہ ایسے ”بڑے چیلنجز“ سے نمٹنے میں موثر کردار ادا نہیں کر پاتا جو عالمی نوعیت کے ہوں، جیسے ماحولیاتی خطرات، عدم مساوات اور غربت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ غیر ضروری کفایت شعاری کی پالیسی نہ صرف قرض لینے کو مہنگا بنا دیتی ہے بلکہ شرحِ سود کی ادائیگیوں سے متعلق اخراجات میں غیر ضروری اضافہ کر کے مالی گنجائش کو متاثر کرتی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتی ہے، جو ایک موثر صنعتی پالیسی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حال ہی میں اپنی ششماہی رپورٹ ”ورلڈ اکنامک آؤٹ لک“ (ڈبلیو ای او) جاری کی ہے، جس کے اکتوبر ایڈیشن کا عنوان تھا ”عالمی معیشت تغیر پذیر، امکانات کمزور“، جبکہ رواں سال کا پہلا ایڈیشن اپریل میں شائع ہوا تھا۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مصنفین نے درست طور پر نشاندہی کی ہے کہ ”عالمی معیشت کے اصول تغیر کا شکار ہیں“ اور یہ کہ ”عالمی معیشت کے استحکام اور سمت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بدستور شدید ہے“۔ تاہم، ڈبلیو ای او رپورٹ میں ایک پوشیدہ تضاد بھی موجود ہے، اور وہ یہ کہ بار بار وہی غلطی دہرائی جا رہی ہے کہ حل نیولبرل نظام کے اندر تلاش کیے جائیں، جو بذاتِ خود اس ”تغیر“ اور ”غیر یقینی صورتحال“ کی بنیادی وجہ ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں میں واضح طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ موجودہ بحران کی جڑ نیولبرل پالیسیوں میں ہے، جن میں غیر متوازن کفایت شعاری، معیشت کے چکروں کے مطابق ردِعمل دینے والی پالیسیاں  اور ترقی پذیر ممالک کو غیر مستحکم سرمائے کی آمد و رفت سے تحفظ دینے والے موثر ضابطہ جاتی نظام کی کمی شامل ہے۔ نتیجتاً جب معاشی سست روی کے دوران سرمایہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، تو وہ ترقی یافتہ معیشتوں کے محفوظ مراکز کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>یوں مجموعی طور پر یہ نیولبرل پالیسی، جو بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں متعدد منفی اثرات پیدا کر چکی ہے، عوامی شعبے کی خدمات کی فراہمی کی صلاحیت کو حد سے زیادہ نجی ٹھیکوں اور آؤٹ سورسنگ کے باعث کمزور کرتی ہے، حکومت کے کردار کو صرف نجی شعبے کے معاون تک محدود کر دیتی ہے، مالیاتی گنجائش کو غیر معمولی شرحِ سود کی ادائیگیوں کے بوجھ سے متاثر کرتی ہے اور ریاستی سطح پر لچک میں بہتری کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے کیونکہ حکومت کا کردار مسلسل غیر فعال ہوتا جا رہا ہے۔ بیرونی محاذ پر یہی پالیسی کثیرالجہتی جذبے کی کمی پیدا کرتی ہے کیونکہ نجی شعبے کی زیرِ قیادت معیشتیں قلیل المدتی منافع پر زیادہ توجہ دیتی ہیں اور ان وجودی نوعیت کے خطرات سے نمٹنے میں کم دلچسپی رکھتی ہیں جو سرحدوں اور شعبوں سے ماورا ہیں۔</p>
<p>اسی ماحول میں تشکیل پانے والی صنعتی پالیسی بھی پس منظر میں چلی جاتی ہے کیونکہ دولت مند مفادات، جو سیاست میں بڑھتے ہوئے مالی اثر و رسوخ کے باعث عوامی پالیسی پر غلبہ حاصل کر چکے ہیں، دباؤ کے گروہوں کے طور پر کام کرتے ہیں تاکہ پالیسیوں کو قومی مفاد کے بجائے اپنے محدود اور قلیل المدتی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ نتیجتاً ملک گیر سطح پر ایسی صنعتی پالیسی کی تشکیل ممکن نہیں ہو پاتی جو ہدف پر مبنی اور مقصدی نوعیت کی ہو۔</p>
<p>مزید برآں صنعتی پالیسی کو عالمی سطح پر دوسرے ممالک کے ساتھ بھی موثر روابط حاصل نہیں ہو پاتے کیونکہ کمزور کثیرالجہتی نظام کے باعث علم و ٹیکنالوجی کے تبادلے میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں جو حقوقِ دانش“ یا “دانشورانہ املاک کے حقوق ( آئی پی آرز) اور  پیٹنٹ کی قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے مزید بڑھ جاتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مصنفین کے طرزِ فکر سے جنم لینے والا ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ صنعتی پالیسی کے کردار کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، ایک ایسی پالیسی جو طویل عرصے تک مرکزی معاشی پالیسیوں کے دائرے سے باہر رہی، لیکن نیولبرل پالیسیوں کی بڑی ناکامیوں کے باعث، جو مجموعی طور پر ایک مضبوط اور لچکدار عالمی معیشت تشکیل دینے میں ناکام رہیں، صنعتی پالیسی پر وہ اعتماد اب بھی نہیں کیا جا رہا جو موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔</p>
<p>اگرچہ رپورٹ میں صنعتی پالیسی کے موضوع پر ایک مکمل باب شامل کیا گیا ہے، تاہم مجموعی طور پر اس میں دی گئی سفارشات انتہائی محتاط رویّے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، آئی ایم ایف کے معاشی مشیر نے رپورٹ کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ”اگرچہ ممالک اپنی معیشتوں کی تشکیلِ نو کے لیے صنعتی پالیسی کا بڑھتا ہوا استعمال کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ مالیاتی اور پوشیدہ لاگتیں بھی وابستہ ہوتی ہیں… اگرچہ شعبہ جاتی صنعتی پالیسیاں اپنانا پرکشش لگ سکتا ہے، تاہم شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی موثریت محدود اور ضمنی اثرات خاطرخواہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے بجائے افقی نوعیت کی پالیسیوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔“</p>
<p>چونکہ حل تلاش کرنے کا رجحان اب بھی زیادہ تر نیولبرل روایت کے اندر ہی محدود ہے، اس لیے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بامقصد اور مشن پر مبنی عوامی پالیسی، بالخصوص ملکی سطح پر صنعتی پالیسی، کے سکڑتے ہوئے کردار نے ہی پیداواری اور تخصیصی استعداد میں مطلوبہ سطح حاصل نہ ہونے اور نتیجتاً معیشتی لچک کے کمزور نتائج سامنے آنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>صنعتی پالیسی کی اشد ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے 2021 میں شائع ہونے والی کتاب ”پبلک پرپز: انڈسٹریل پالیسی کی واپسی اور مشترکہ خوشحالی میں حکومت کا کردار“ میں کہا گیا ہے کہ ”یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک اس نظریے کی جانب بڑھ رہے ہیں کہ حکومتوں کو بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صنعتی پالیسی استعمال کرنی چاہیے۔“</p>
<p>اسی رجحان کو تسلیم کرتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 2019 میں ایک رپورٹ جاری کی جس کا عنوان تھا: ”اس پالیسی کی واپسی جس کا نام لینا منع تھا: صنعتی پالیسی کے اصول“۔</p>
<p>یہ پالیسی ”نام لینے کے لائق“ کیوں نہ تھی؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ صنعتی پالیسی اُن بہت سی پالیسیوں میں سے ایک تھی جو 1980 کی دہائی میں شروع ہونے والی عالمی معاشی تبدیلیوں کی نذر ہو گئیں۔ یہ ابھرنے والا نظریہ، جسے آج نیولبرل ازم کہا جاتا ہے، 1989 میں واشنگٹن کنسنسس کے ذریعے باقاعدہ شکل اختیار کر گیا، جس نے نجکاری، ضابطہ بندی کے خاتمے اور آزاد تجارت کو فروغ دیا۔</p>
<p>ان بنیادی ستونوں کے ساتھ کم بجٹ خسارے، کم افراطِ زر پر مرکوز آزاد مرکزی بینک اور تجارت و غیرملکی براہِ راست سرمایہ کاری کی آزادانہ پالیسیوں پر زور دیا گیا۔ یہ نقطہ نظر منڈی پر غیر معمولی اعتماد اور حکومتی کردار پر شدید شکوک و شبہات پر مبنی تھا۔</p>
<p>عالمی بینک نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں لکھا ہے کہ ”ترقی پذیر معیشتوں کے گزشتہ تیس برسوں کے تجربات کے تفصیلی جائزے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مارکیٹ میکانزم کے بغیر وسائل کی تقسیم کی کوششیں عام طور پر معاشی کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام رہی ہیں۔ آج وہی ’مارکیٹ طریقے‘ اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔“</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>اگرچہ آئی ایم ایف نے حالیہ برسوں میں اپنی عالمی رپورٹوں میں صنعتی پالیسی کے کردار کو کچھ اہمیت دی ہے لیکن ملکی سطح کے پروگراموں، مثلاً پاکستان کے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف ) پروگرام، میں صنعتی پالیسی کی تشکیل پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔</p>
</blockquote>
<p>مزید یہ کہ آئی ایم ایف کے نزدیک صنعتی پالیسی کی موثریت اب بھی محدود ہے کیونکہ جس فلسفیانہ بنیاد پر وہ صنعتی پالیسی کو دیکھتا ہے، وہ بدستور نیولبرل ماحول میں جکڑی ہوئی ہے، جہاں حکومت اور ریگولیشن کا کردار کم سے کم اور نجی شعبے کا کردار زیادہ سے زیادہ ہے۔ نتیجتاً، منافع پر مبنی منڈی کے اشاروں کے تابع نجی شعبہ ایسے ”بڑے چیلنجز“ سے نمٹنے میں موثر کردار ادا نہیں کر پاتا جو عالمی نوعیت کے ہوں، جیسے ماحولیاتی خطرات، عدم مساوات اور غربت۔</p>
<p>اس کے علاوہ غیر ضروری کفایت شعاری کی پالیسی نہ صرف قرض لینے کو مہنگا بنا دیتی ہے بلکہ شرحِ سود کی ادائیگیوں سے متعلق اخراجات میں غیر ضروری اضافہ کر کے مالی گنجائش کو متاثر کرتی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتی ہے، جو ایک موثر صنعتی پالیسی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278279</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 16:54:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر عمر جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/171653362c18162.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/171653362c18162.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
