<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک جین ، لال پیر پاور بورڈز نے حصص کی واپسی کے منصوبے کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278275/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق  پاک جین پاور لمیٹڈ اور لال پیر پاور لمیٹڈ نے اپنے کیپیٹل بیس کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر حصص کی خریداری کے پروگرامز کی سفارش کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں کمپنیوں کے بورڈز نے بدھ کو الگ الگ اجلاسوں میں اس تجویز کی منظوری دی  جس کے تحت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے مشترکہ وقت میں موجودہ مارکیٹ قیمت پر حصص خریدے جائیں گے لیکن یہ پروگرامز شیئر ہولڈرز کی منظوری سے مشروط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک جین پاور نے 185 ملین حصص کی دوبارہ خریداری کی سفارش کی ہے، جو اس کے جاری کردہ اور ادا شدہ سرمائے کا تقریباً 49.72 فیصد بنتے ہیں، جبکہ لال پیر پاور نے 100 ملین حصص کی تجویز دی ہے، جو اس کے کل سرمائے کا 26.33 فیصد ہے۔ دونوں کمپنیوں کے حصص کی قیمت 10 روپے مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لال پیر پاور مئی 1994 میں قائم ہوئی اور مظفرگڑھ کے محمود کوٹ میں 362 میگاواٹ کے ایندھن سے چلنے والے پاور پلانٹ کی مالک ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ پاک جین پاور جون 1995 میں قائم ہوئی اور اسی علاقے میں 365 میگاواٹ کے پلانٹ کی مالک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حصص کی خریداری پاکستان کے پاور سیکٹر میں سب سے بڑے مشترکہ پروگراموں میں سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنیوں نے حکومت کی ٹاسک فورس کے تحت اپنے بجلی خریداری معاہدوں کے ختم ہونے سے لیکویڈیٹی کو استعمال کرتے ہوئے یہ منصوبہ شروع کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر  2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق  پاک جین پاور لمیٹڈ اور لال پیر پاور لمیٹڈ نے اپنے کیپیٹل بیس کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر حصص کی خریداری کے پروگرامز کی سفارش کی ہے۔</strong></p>
<p>دونوں کمپنیوں کے بورڈز نے بدھ کو الگ الگ اجلاسوں میں اس تجویز کی منظوری دی  جس کے تحت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے مشترکہ وقت میں موجودہ مارکیٹ قیمت پر حصص خریدے جائیں گے لیکن یہ پروگرامز شیئر ہولڈرز کی منظوری سے مشروط ہیں۔</p>
<p>پاک جین پاور نے 185 ملین حصص کی دوبارہ خریداری کی سفارش کی ہے، جو اس کے جاری کردہ اور ادا شدہ سرمائے کا تقریباً 49.72 فیصد بنتے ہیں، جبکہ لال پیر پاور نے 100 ملین حصص کی تجویز دی ہے، جو اس کے کل سرمائے کا 26.33 فیصد ہے۔ دونوں کمپنیوں کے حصص کی قیمت 10 روپے مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>لال پیر پاور مئی 1994 میں قائم ہوئی اور مظفرگڑھ کے محمود کوٹ میں 362 میگاواٹ کے ایندھن سے چلنے والے پاور پلانٹ کی مالک ہے</p>
<p>جبکہ پاک جین پاور جون 1995 میں قائم ہوئی اور اسی علاقے میں 365 میگاواٹ کے پلانٹ کی مالک ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حصص کی خریداری پاکستان کے پاور سیکٹر میں سب سے بڑے مشترکہ پروگراموں میں سے ہے۔</p>
<p>کمپنیوں نے حکومت کی ٹاسک فورس کے تحت اپنے بجلی خریداری معاہدوں کے ختم ہونے سے لیکویڈیٹی کو استعمال کرتے ہوئے یہ منصوبہ شروع کیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر  2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278275</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 16:17:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/17143739af9fcfd.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/17143739af9fcfd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
