<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی نیو ڈیولپمنٹ بینک میں شمولیت کیلئے چین کی حمایت طلب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278263/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے نیو ڈیولپمنٹ بینک (این ڈی بی) جسے پہلے برِکس ڈیولپمنٹ بینک کہا جاتا تھا کی رکنیت کے حصول کے لیے چین کی حمایت طلب کی ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی جانب سے کثیرالجہتی مالیاتی ذرائع تک رسائی بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور چین کے نائب وزیرِ خزانہ لیاؤ من کے درمیان ملاقات کے دوران ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ملاقات میں محمد اورنگزیب نے پاکستان کی نیو ڈیولپمنٹ بینک میں شمولیت کے لیے چین کی حمایت کی درخواست کی اور اطلاعات و مواصلات کی ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت اور معدنیات جیسے اہم شعبوں میں چینی سرمایہ کاری میں اضافے کا خیرمقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو ڈیولپمنٹ بینک ایک کثیرالجہتی ترقیاتی ادارہ ہے جو برِکس ممالک نے ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے قائم کیا تھا۔ ابتدا میں اسے برِکس ڈیولپمنٹ بینک کہا جاتا تھا، تاہم اب یہ اپنے ابتدائی پانچ رکن ممالک سے آگے بڑھ کر کئی دیگر ممالک کو بھی اپنی رکنیت میں شامل کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے ملاقات کے دوران لیاؤ من کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدے سے آگاہ کیا اور اسے حکومت کے جاری معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کی بین الاقوامی توثیق قرار دیا۔ انہوں نے چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجراء سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر بھی بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے حالیہ بورڈ اجلاسوں کے دوران پاکستان کی بھرپور حمایت پر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے دفتر کا شکریہ ادا کیا اور لیاؤ من کو باہمی طور پر موزوں وقت پر پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وزیرِ خزانہ نے ورلڈ اکنامک فورم  کے فیوچر آف گروتھ انیشی ایٹو ڈائیلاگ میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو شمولیت اور لچک پر مبنی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے کردار کو اجاگر کیا جو کارکردگی اور پیداواریت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سیٹلائٹ امیجری جیسی اے آئی ٹیکنالوجی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی ایپلی کیشنز نے ترقی پذیر ممالک میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے نیو ڈیولپمنٹ بینک (این ڈی بی) جسے پہلے برِکس ڈیولپمنٹ بینک کہا جاتا تھا کی رکنیت کے حصول کے لیے چین کی حمایت طلب کی ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی جانب سے کثیرالجہتی مالیاتی ذرائع تک رسائی بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور چین کے نائب وزیرِ خزانہ لیاؤ من کے درمیان ملاقات کے دوران ہوئی۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ملاقات میں محمد اورنگزیب نے پاکستان کی نیو ڈیولپمنٹ بینک میں شمولیت کے لیے چین کی حمایت کی درخواست کی اور اطلاعات و مواصلات کی ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت اور معدنیات جیسے اہم شعبوں میں چینی سرمایہ کاری میں اضافے کا خیرمقدم کیا۔</p>
<p>نیو ڈیولپمنٹ بینک ایک کثیرالجہتی ترقیاتی ادارہ ہے جو برِکس ممالک نے ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے قائم کیا تھا۔ ابتدا میں اسے برِکس ڈیولپمنٹ بینک کہا جاتا تھا، تاہم اب یہ اپنے ابتدائی پانچ رکن ممالک سے آگے بڑھ کر کئی دیگر ممالک کو بھی اپنی رکنیت میں شامل کر چکا ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے ملاقات کے دوران لیاؤ من کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدے سے آگاہ کیا اور اسے حکومت کے جاری معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کی بین الاقوامی توثیق قرار دیا۔ انہوں نے چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجراء سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر بھی بریفنگ دی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے حالیہ بورڈ اجلاسوں کے دوران پاکستان کی بھرپور حمایت پر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے دفتر کا شکریہ ادا کیا اور لیاؤ من کو باہمی طور پر موزوں وقت پر پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔</p>
<p>بعد ازاں وزیرِ خزانہ نے ورلڈ اکنامک فورم  کے فیوچر آف گروتھ انیشی ایٹو ڈائیلاگ میں شرکت کی۔</p>
<p>اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو شمولیت اور لچک پر مبنی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے کردار کو اجاگر کیا جو کارکردگی اور پیداواریت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے سیٹلائٹ امیجری جیسی اے آئی ٹیکنالوجی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی ایپلی کیشنز نے ترقی پذیر ممالک میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278263</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 12:19:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/171210485d8c3d1.webp" type="image/webp" medium="image" height="854" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/171210485d8c3d1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
