<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:33:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:33:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ بندی معاہدہ اسرائیل کی عالمی ساکھ کی بحالی کا موقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278261/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ میں جنگ بندی کے بعد اسرائیل میں اس امید نے جنم لیا ہے کہ ملک عالمی سطح پر اپنی ساکھ کی بحالی کا عمل شروع کر سکتا ہے، جو دو سالہ جنگ کے دوران بڑھتی ہوئی تنہائی اور انسانی جانی نقصان کے باعث شدید متاثر ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد سے مغربی دنیا میں عوامی رائے اسرائیل کے خلاف نمایاں طور پر بدلی ہے۔ اس حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ تاہم، اسرائیلی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اب تک غزہ میں 67,000 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جس نے عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف سخت ردعمل کو جنم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ، اسپین اور آئرلینڈ سمیت کئی مغربی ممالک نے حالیہ مہینوں میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو اور واشنگٹن اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ متعدد اسرائیلی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ انسانی نقصان نے اسرائیل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، حالیہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اسرائیل کی عالمی شبیہ کی بحالی کا آغاز بن سکتی ہے۔ تاہم، سابق فوجی ترجمان پیٹر لرنر نے کہا کہ اس کے لیے نیتن یاہو حکومت کو محض بیانات نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہوگی، جن میں امن، بے گناہ جانوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کا احترام شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائے عامہ کے تازہ سروے کے مطابق، 66 فیصد اسرائیلی ممکنہ عالمی تنہائی سے خوفزدہ ہیں، جبکہ مغرب میں اسرائیل کے خلاف عوامی ہمدردی کم ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، اسرائیلی تجزیہ کار پنینا شرویت باروخ نے زور دیا کہ اسرائیل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے پر عمل کرتے ہوئے علاقائی استحکام اور اعتدال پسند عرب ممالک سے تعلقات کی بحالی کے اقدامات کرنے چاہییں، تاکہ اسرائیل اپنی بین الاقوامی ساکھ اور سفارتی حیثیت دوبارہ قائم کر سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ میں جنگ بندی کے بعد اسرائیل میں اس امید نے جنم لیا ہے کہ ملک عالمی سطح پر اپنی ساکھ کی بحالی کا عمل شروع کر سکتا ہے، جو دو سالہ جنگ کے دوران بڑھتی ہوئی تنہائی اور انسانی جانی نقصان کے باعث شدید متاثر ہوئی۔</strong></p>
<p>اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد سے مغربی دنیا میں عوامی رائے اسرائیل کے خلاف نمایاں طور پر بدلی ہے۔ اس حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ تاہم، اسرائیلی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اب تک غزہ میں 67,000 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جس نے عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف سخت ردعمل کو جنم دیا۔</p>
<p>برطانیہ، اسپین اور آئرلینڈ سمیت کئی مغربی ممالک نے حالیہ مہینوں میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو اور واشنگٹن اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ متعدد اسرائیلی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ انسانی نقصان نے اسرائیل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق، حالیہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اسرائیل کی عالمی شبیہ کی بحالی کا آغاز بن سکتی ہے۔ تاہم، سابق فوجی ترجمان پیٹر لرنر نے کہا کہ اس کے لیے نیتن یاہو حکومت کو محض بیانات نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہوگی، جن میں امن، بے گناہ جانوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کا احترام شامل ہے۔</p>
<p>رائے عامہ کے تازہ سروے کے مطابق، 66 فیصد اسرائیلی ممکنہ عالمی تنہائی سے خوفزدہ ہیں، جبکہ مغرب میں اسرائیل کے خلاف عوامی ہمدردی کم ہو رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، اسرائیلی تجزیہ کار پنینا شرویت باروخ نے زور دیا کہ اسرائیل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے پر عمل کرتے ہوئے علاقائی استحکام اور اعتدال پسند عرب ممالک سے تعلقات کی بحالی کے اقدامات کرنے چاہییں، تاکہ اسرائیل اپنی بین الاقوامی ساکھ اور سفارتی حیثیت دوبارہ قائم کر سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278261</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 12:01:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/17120020ad817cb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/17120020ad817cb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
