<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی معیشت غیر یقینی کے دور میں داخل، آئی ایم ایف کا اقتصادی جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278258/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی معیشت اس وقت ایک ہنگامہ خیز تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، جو پالیسیوں کی از سرِ نو ترتیب، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور ساختیاتی تبدیلیوں سے تشکیل پا رہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تازہ ترین رپورٹ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک جس کا عنوان ہے ”غیر مستحکم عالمی معیشت: امکانات بدستور مدھم“، ایک مایوس کن تصویر پیش کرتی ہے — ایک ایسے بعد از ٹیرف عالمی نظام کی، جہاں لچک رفتہ رفتہ کمزور پڑتی جا رہی ہے اور خطرے کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی معیشت کی کہانی اب کمزور شرح نمو، غیر متوازن مہنگائی میں کمی، اور مالیاتی و ادارہ جاتی ساکھ پر بڑھتے ہوئے شکوک کے گرد گھوم رہی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق، عالمی پیداوار کی شرح نمو 2024 میں 3.3 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 3.2 فیصد اور 2026 میں 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں میں نمو تقریباً 1.5 فیصد کے آس پاس رہے گی جبکہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں کی شرح نمو 4 فیصد سے کچھ زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
عالمی تجارت 2025-26 میں صرف 2.9 فیصد بڑھے گی، جو وبا سے پہلے کی سطح سے کم ہے، جس کی بنیادی وجوہات ٹیرف میں اضافہ اور پالیسی سے متعلق چیلنجز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے مطابق، دنیا کی معیشت اب ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں پالیسی سمت، میعاری معاشی اصولوں کی نسبت زیادہ بازار کے اعتماد کو متعین کرتی ہے۔
نئی تحفظاتی پالیسیوں کی لہر، پیشگی سرمایہ کاری، اور منقسم تجارتی ماحول نے ایسا ماڈل تشکیل دیا ہے جہاں قلیل مدتی لچک دراصل طویل مدتی کمزوری کو چھپا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ 2025 کے آغاز میں دکھائی دینے والی وقتی معاشی بہتری دراصل پیشگی تجارتی سرگرمیوں اور سپلائی چین کی از سرِ نو تشکیل کا نتیجہ تھی، حقیقی توسیع نہیں۔ جیسے ہی یہ عارضی عوامل ختم ہوں گے، عالمی طلب کی بنیادی کمزوری بے نقاب ہو جائے گی۔
امریکا کی جانب سے ٹیرف میں اضافے اور اس کے تجارتی شراکت داروں کے جوابی اقدامات نے پیداواری صلاحیت اور کارکردگی پر مستقل بوجھ ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ اگرچہ عالمی سطح پر مہنگائی میں کمی آئی ہے، مگر امریکا میں یہ ابھی تک ہدف سے زیادہ ہے اور دیگر خطوں میں غیر متوازن ہے۔
آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ پالیسی کی غیر یقینی صورتحال، مالیاتی کمزوریاں، اور مرکزی بینکوں کی خودمختاری پر دباؤ معیشت کے لیے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
تاہم رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ سب کچھ مایوس کن نہیں — ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کارکردگی توقعات سے بہتر رہی ہے۔
ان ممالک نے بہتر مالیاتی نظم و ضبط اور پختہ مانیٹری فریم ورک کی بدولت عالمی چیلنجز کا مقابلہ پچھلے بحرانوں کی نسبت زیادہ مؤثر انداز میں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے زور دیا کہ یہ اقتصادی لچک اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک اداروں کی ساکھ اور پائیدار معاشی فریم ورک برقرار رہیں۔
اس نے خبردار کیا کہ اگر پالیسی کی شفافیت یا ادارہ جاتی خودمختاری کو نقصان پہنچا تو پچھلی دہائی میں قائم ہونے والا نرم اعتماد تیزی سے ختم ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی سفارشات واضح ہیں:
پالیسی سازوں کو قابلِ اعتماد مالیاتی اصلاحات کے ذریعے پیش گوئی کے قابل ماحول بحال کرنا چاہیے، مرکزی بینکوں کی خودمختاری برقرار رکھنی چاہیے، اور شفاف ڈیٹا پریکٹسز اپنانی چاہییں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد قائم رہ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے تخمینے بھی اسی عالمی پس منظر میں پیش کیے گئے ہیں، جس میں کمزوری اور محتاط امید دونوں شامل ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو کے اندازے کو مالی سال 2024–25 کے لیے 2.7 فیصد اور 2025–26 کے لیے 3.6 فیصد کر دیا ہے، جو کہ حکومت کے 4.2 فیصد ہدف سے نمایاں طور پر کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ان تخمینوں میں ابھی تک 2025 کے ممکنہ مون سون سیلابوں کے معاشی اثرات شامل نہیں کیے گئے، جو زرعی پیداوار اور دیہی آمدن کو متاثر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے منظرنامے کو بھی اضافے کی طرف تبدیل کیا گیا ہے، جس کے مطابق صارف قیمتیں 2025 میں 4.5 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 6 فیصد تک پہنچ سکتی ہیں۔
بے روزگاری کی شرح میں معمولی کمی کا اندازہ ہے — 8 فیصد سے گھٹ کر 7.5 فیصد — جو روزگار کی منڈی میں معمولی بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم، کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس 2025 میں 0.5 فیصد سرپلس سے کم ہو کر 2026 میں 0.4 فیصد خسارے میں جانے کی توقع ہے۔
مالیاتی خسارہ 5.3 فیصد سے گھٹ کر 4.1 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی ہے، جو حکومت کی جاری مالیاتی نظم و ضبط کی پالیسیوں کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے علاقائی تجزیے میں پاکستان کو ان معیشتوں میں شامل کیا گیا ہے جو شرح نمو کے اہداف اور میکرو اکنامک استحکام کے درمیان توازن قائم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔
آئی ایم ایف نے ادارہ جاتی ساکھ اور ڈیٹا کی شفافیت کو برقرار رکھنے پر خاص زور دیا ہے، کیونکہ تجارتی اعداد و شمار اور مالیاتی کھاتوں میں تضادات ماضی میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے مطابق، اگرچہ پاکستان نے بیرونی استحکام کے میدان میں کچھ پیش رفت کی ہے، تاہم درمیانی مدت کی معاشی بحالی کا انحصار ڈھانچہ جاتی اصلاحات، برآمدات میں تنوع، اور مالیاتی نظم و ضبط پر ہے۔
آئی ایم ایف کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ پاکستان موجودہ پالیسی فریم ورک برقرار رکھے گا، تاہم کسی بھی قسم کی سیاسی عدم استحکام یا ڈیٹا میں بے قاعدگی اس راہ کو بدل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے حالیہ تجارتی اعداد و شمار اس کی پیش رفت اور کمزوری دونوں کی جھلک دکھاتے ہیں۔
مالی سال 2025 کے دوران کل برآمدات تقریباً 33 ارب امریکی ڈالر جبکہ درآمدات 58 ارب ڈالر رہیں، جس سے 25 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ سامنے آیا۔
تاہم ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور درآمدات پر سخت نگرانی کی بدولت، پاکستان نے 14 سال بعد 2.1 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا — جو 22 سال میں سب سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کامیابی اگرچہ اہم ہے، لیکن اس نے ماہرینِ معیشت کے درمیان اس کی پائیداری کے حوالے سے ایک تنقیدی بحث کو جنم دیا ہے۔ محتاط تجزیہ کاروں کا متفقہ خیال ہے کہ موجودہ سرپلس (فاضل توازن) دراصل درآمدات میں کمی، سخت انتظامی اقدامات، اور ادائیگیوں پر عائد پابندیوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے مصنوعی طور پر طلب کو محدود کیا ہے، نہ کہ برآمدات میں اضافے یا پیداواری صلاحیت میں بہتری سے حاصل ہوا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ صرف درآمدی پابندیاں طویل مدتی بیرونی استحکام کو یقینی نہیں بنا سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی شعبے میں بظاہر نظر آنے والی بہتری نے واقعی قلیل مدت میں زرِ مبادلہ کی شرح کو مستحکم اور افراطِ زر کو کم کیا ہے، تاہم ساختی کمزوریاں بدستور موجود ہیں۔ پاکستانی روپیہ بہتر کرنٹ اکاؤنٹ کارکردگی کے باعث مستحکم ہوا ہے، لیکن طویل مدت میں پاکستان کے بیرونی شعبے کی مضبوطی کا انحصار عارضی درآمدی پابندیوں پر نہیں، بلکہ برآمدات میں تنوع، زیادہ ویلیو ایڈڈ پیداوار، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مستحکم سرمایہ کاری ماحول پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں اقتصادی اعداد و شمار کی شفافیت ایک نہایت اہم پالیسی مسئلہ بن چکی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے درمیان تجارتی اعداد و شمار میں نمایاں تضادات سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2020 سے جون 2025 کے پانچ سالہ عرصے میں، پی ایس ڈبلیو کے مطابق 321 ارب ڈالر کی درآمدات ریکارڈ ہوئیں، جبکہ اسٹیٹ بینک نے بینکنگ چینلز کے ذریعے صرف 291 ارب ڈالر کی درآمدات کلیئر کیں، جس سے 30 ارب ڈالر کا فرق ظاہر ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ فرق مالی سال 2021-22 میں سامنے آیا، جب پی ایس ڈبلیو کے مطابق 82.3 ارب ڈالر کی درآمدات ہوئیں، جبکہ اسٹیٹ بینک نے صرف 71.5 ارب ڈالر ظاہر کیے — یعنی 10.8 ارب ڈالر کا فرق۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے اپنے اعداد و شمار کے دفاع میں کہا ہے کہ اس کے اعداد و شمار قابلِ تصدیق مالی لین دین پر مبنی ہیں، نہ کہ انتظامی تجارتی ریکارڈز پر۔ بینک نے مزید واضح کیا ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے کسی بھی قسم کی نظرثانی کرنٹ اکاؤنٹ کے شائع شدہ اعداد و شمار پر نمایاں اثر نہیں ڈالے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ تضاد طریقہ کار کی مطابقت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انتظامی اور مالیاتی ڈیٹا کے درمیان یہ تضاد پاکستان کے اقتصادی نظم و نسق میں موجود ساختی مسائل کو اجاگر کرتا ہے — جن میں اداروں کے درمیان کمزور رابطہ کاری، پرانے شماریاتی نظام، اور ڈیٹا سے متعلق اداروں کی محدود خودمختاری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں آئی ایم ایف کی جانب سے ادارہ جاتی ساکھ اور شفاف ڈیٹا فریم ورک پر زور خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ قومی اعداد و شمار کی ساکھ محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں، بلکہ یہ ریاستی مالیاتی ساکھ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد، اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضوں تک رسائی پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر تجارتی اور مالیاتی اعداد و شمار کی درستگی پر شبہات برقرار رہے تو یہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے رکاوٹ اور پالیسی سازی کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں — خصوصاً ایسے عالمی ماحول میں جہاں اعتماد کی ساکھ خود ترقی جتنی قیمتی سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کا عالمی پیغام پاکستان کی داخلی حقیقت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ادارہ اس بات سے خبردار کرتا ہے کہ اداروں کی خودمختاری میں کمی اور پالیسیوں کی غیر شفافیت ابھرتی ہوئی معیشتوں کی استحکام پذیری کے لیے بڑا خطرہ ہیں — اور یہ انتباہ باآسانی پاکستان پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ ملک کی اقتصادی بحالی کی حکمتِ عملی کا انحصار ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پائیدار اعتماد پر ہے، جو بدلے میں درست اعداد و شمار اور قابلِ اعتبار پالیسی سازی سے وابستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی قابلِ اعتماد، شفاف اور پائیدار پالیسیوں کی اپیل دراصل وہی ہے جس کی پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے: پالیسی میں پیش بینی، ادارہ جاتی دیانت داری، اور حقیقت پسندی پر مبنی میکرو اکنامک استحکام۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا وسیع تر اقتصادی ماحول محتاط تبدیلی کے مرحلے میں ہے۔ حکومت کا بحالی کا دعویٰ بظاہر میکرو سطح کے استحکام کے اشاروں سے تقویت پاتا ہے، تاہم بنیادی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔ اگرچہ آئی ایم ایف کی پیش گوئیاں محتاط ہیں، لیکن وہ اس امکان کو تسلیم کرتی ہیں کہ اگر موجودہ مالیاتی و مانیٹری فریم ورک برقرار رہا تو بتدریج بہتری ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی خسارے میں کمی، افراطِ زر میں اعتدال، اور بے روزگاری میں کمی گزشتہ برسوں کی عدم استحکام سے جزوی بحالی کی عکاسی کرتے ہیں۔ بیرونی شعبے کا توازن اگرچہ نازک ہے، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے عارضی طور پر سانس لینے کی گنجائش حاصل کر لی ہے۔ تاہم، خود اطمینانی کا خطرہ اب بھی شدید طور پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ساختی اصلاحات کے بغیر معاشی استحکام پائیدار نہیں ہو سکتا۔ معیشت کا انحصار ترسیلاتِ زر، درآمدات میں کمی، اور وقتی مالیاتی اقدامات پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ اسے ایک ایسے ترقیاتی ماڈل میں ڈھلنا ہوگا جو پیداواری صلاحیت، برآمدات اور مسابقت کی بنیاد پر استوار ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق موجودہ عالمی معاشی حالات پاکستان کے لیے بیک وقت ایک چیلنج بھی ہیں اور موقع بھی۔ عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ میں سست روی اس امر کی متقاضی ہے کہ پاکستان اپنی برآمدی اور صنعتی پالیسیوں کو ازسرِ نو ترتیب دے اور انہیں بدلتے ہوئے عالمی رجحانات سے ہم آہنگ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی سفارشات — جن میں ساختی اصلاحات اپنانے، مالیاتی (مانیٹری) خودمختاری کے تحفظ، اور گورننس کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے — پاکستان کے لیے ایک واضح لائحہ عمل فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کی معیشت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہ کس حد تک اپنی داخلی اصلاحات کو عالمی حقیقتوں سے ہم آہنگ کر سکتا ہے، تاکہ شفافیت، ساکھ، اور لچک پیدا کی جا سکے — ایک ایسے دور میں جہاں غیر یقینی صورتحال ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لمحہ اس امر کا متقاضی ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز عارضی استحکام کے اقدامات سے آگے بڑھ کر حقیقی ساختی اصلاحات کی طرف پیش رفت کریں۔ اعداد و شمار کی ساکھ کی بحالی، ادارہ جاتی خودمختاری، اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی تعمیر مستقبل کی پالیسی کا بنیادی ستون بننے چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی یہ یاد دہانی کہ قابلِ اعتماد، پیش بینی پر مبنی، اور پائیدار پالیسیاں ہی اعتماد بحال کرتی ہیں آج کے پاکستان کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ پاکستان کے لیے اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ وقتی سرپلس حاصل کر لے یا ایک سال کی عارضی ترقی دکھا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ شفافیت، نظم و ضبط، اور دوراندیشی کو اپنی معاشی گورننس کے بنیادی ڈھانچے میں جذب کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;پائیدار ترقی کی سمت میں آگے بڑھنے کا موقع اب بھی موجود ہے — لیکن صرف اس صورت میں جب پاکستان وہ اصلاحات اختیار کرے جو اس کے قومی اہداف کو نئی عالمی معاشی حقیقتوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی معیشت اس وقت ایک ہنگامہ خیز تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، جو پالیسیوں کی از سرِ نو ترتیب، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور ساختیاتی تبدیلیوں سے تشکیل پا رہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تازہ ترین رپورٹ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک جس کا عنوان ہے ”غیر مستحکم عالمی معیشت: امکانات بدستور مدھم“، ایک مایوس کن تصویر پیش کرتی ہے — ایک ایسے بعد از ٹیرف عالمی نظام کی، جہاں لچک رفتہ رفتہ کمزور پڑتی جا رہی ہے اور خطرے کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔</strong></p>
<p>عالمی معیشت کی کہانی اب کمزور شرح نمو، غیر متوازن مہنگائی میں کمی، اور مالیاتی و ادارہ جاتی ساکھ پر بڑھتے ہوئے شکوک کے گرد گھوم رہی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق، عالمی پیداوار کی شرح نمو 2024 میں 3.3 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 3.2 فیصد اور 2026 میں 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں میں نمو تقریباً 1.5 فیصد کے آس پاس رہے گی جبکہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں کی شرح نمو 4 فیصد سے کچھ زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
عالمی تجارت 2025-26 میں صرف 2.9 فیصد بڑھے گی، جو وبا سے پہلے کی سطح سے کم ہے، جس کی بنیادی وجوہات ٹیرف میں اضافہ اور پالیسی سے متعلق چیلنجز ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے مطابق، دنیا کی معیشت اب ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں پالیسی سمت، میعاری معاشی اصولوں کی نسبت زیادہ بازار کے اعتماد کو متعین کرتی ہے۔
نئی تحفظاتی پالیسیوں کی لہر، پیشگی سرمایہ کاری، اور منقسم تجارتی ماحول نے ایسا ماڈل تشکیل دیا ہے جہاں قلیل مدتی لچک دراصل طویل مدتی کمزوری کو چھپا رہی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ 2025 کے آغاز میں دکھائی دینے والی وقتی معاشی بہتری دراصل پیشگی تجارتی سرگرمیوں اور سپلائی چین کی از سرِ نو تشکیل کا نتیجہ تھی، حقیقی توسیع نہیں۔ جیسے ہی یہ عارضی عوامل ختم ہوں گے، عالمی طلب کی بنیادی کمزوری بے نقاب ہو جائے گی۔
امریکا کی جانب سے ٹیرف میں اضافے اور اس کے تجارتی شراکت داروں کے جوابی اقدامات نے پیداواری صلاحیت اور کارکردگی پر مستقل بوجھ ڈال دیا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ اگرچہ عالمی سطح پر مہنگائی میں کمی آئی ہے، مگر امریکا میں یہ ابھی تک ہدف سے زیادہ ہے اور دیگر خطوں میں غیر متوازن ہے۔
آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ پالیسی کی غیر یقینی صورتحال، مالیاتی کمزوریاں، اور مرکزی بینکوں کی خودمختاری پر دباؤ معیشت کے لیے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
تاہم رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ سب کچھ مایوس کن نہیں — ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کارکردگی توقعات سے بہتر رہی ہے۔
ان ممالک نے بہتر مالیاتی نظم و ضبط اور پختہ مانیٹری فریم ورک کی بدولت عالمی چیلنجز کا مقابلہ پچھلے بحرانوں کی نسبت زیادہ مؤثر انداز میں کیا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے زور دیا کہ یہ اقتصادی لچک اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک اداروں کی ساکھ اور پائیدار معاشی فریم ورک برقرار رہیں۔
اس نے خبردار کیا کہ اگر پالیسی کی شفافیت یا ادارہ جاتی خودمختاری کو نقصان پہنچا تو پچھلی دہائی میں قائم ہونے والا نرم اعتماد تیزی سے ختم ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی سفارشات واضح ہیں:
پالیسی سازوں کو قابلِ اعتماد مالیاتی اصلاحات کے ذریعے پیش گوئی کے قابل ماحول بحال کرنا چاہیے، مرکزی بینکوں کی خودمختاری برقرار رکھنی چاہیے، اور شفاف ڈیٹا پریکٹسز اپنانی چاہییں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد قائم رہ سکے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے تخمینے بھی اسی عالمی پس منظر میں پیش کیے گئے ہیں، جس میں کمزوری اور محتاط امید دونوں شامل ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو کے اندازے کو مالی سال 2024–25 کے لیے 2.7 فیصد اور 2025–26 کے لیے 3.6 فیصد کر دیا ہے، جو کہ حکومت کے 4.2 فیصد ہدف سے نمایاں طور پر کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ان تخمینوں میں ابھی تک 2025 کے ممکنہ مون سون سیلابوں کے معاشی اثرات شامل نہیں کیے گئے، جو زرعی پیداوار اور دیہی آمدن کو متاثر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>مہنگائی کے منظرنامے کو بھی اضافے کی طرف تبدیل کیا گیا ہے، جس کے مطابق صارف قیمتیں 2025 میں 4.5 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 6 فیصد تک پہنچ سکتی ہیں۔
بے روزگاری کی شرح میں معمولی کمی کا اندازہ ہے — 8 فیصد سے گھٹ کر 7.5 فیصد — جو روزگار کی منڈی میں معمولی بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم، کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس 2025 میں 0.5 فیصد سرپلس سے کم ہو کر 2026 میں 0.4 فیصد خسارے میں جانے کی توقع ہے۔
مالیاتی خسارہ 5.3 فیصد سے گھٹ کر 4.1 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی ہے، جو حکومت کی جاری مالیاتی نظم و ضبط کی پالیسیوں کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے علاقائی تجزیے میں پاکستان کو ان معیشتوں میں شامل کیا گیا ہے جو شرح نمو کے اہداف اور میکرو اکنامک استحکام کے درمیان توازن قائم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔
آئی ایم ایف نے ادارہ جاتی ساکھ اور ڈیٹا کی شفافیت کو برقرار رکھنے پر خاص زور دیا ہے، کیونکہ تجارتی اعداد و شمار اور مالیاتی کھاتوں میں تضادات ماضی میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے مطابق، اگرچہ پاکستان نے بیرونی استحکام کے میدان میں کچھ پیش رفت کی ہے، تاہم درمیانی مدت کی معاشی بحالی کا انحصار ڈھانچہ جاتی اصلاحات، برآمدات میں تنوع، اور مالیاتی نظم و ضبط پر ہے۔
آئی ایم ایف کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ پاکستان موجودہ پالیسی فریم ورک برقرار رکھے گا، تاہم کسی بھی قسم کی سیاسی عدم استحکام یا ڈیٹا میں بے قاعدگی اس راہ کو بدل سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے حالیہ تجارتی اعداد و شمار اس کی پیش رفت اور کمزوری دونوں کی جھلک دکھاتے ہیں۔
مالی سال 2025 کے دوران کل برآمدات تقریباً 33 ارب امریکی ڈالر جبکہ درآمدات 58 ارب ڈالر رہیں، جس سے 25 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ سامنے آیا۔
تاہم ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور درآمدات پر سخت نگرانی کی بدولت، پاکستان نے 14 سال بعد 2.1 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا — جو 22 سال میں سب سے زیادہ ہے۔</p>
<p>یہ کامیابی اگرچہ اہم ہے، لیکن اس نے ماہرینِ معیشت کے درمیان اس کی پائیداری کے حوالے سے ایک تنقیدی بحث کو جنم دیا ہے۔ محتاط تجزیہ کاروں کا متفقہ خیال ہے کہ موجودہ سرپلس (فاضل توازن) دراصل درآمدات میں کمی، سخت انتظامی اقدامات، اور ادائیگیوں پر عائد پابندیوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے مصنوعی طور پر طلب کو محدود کیا ہے، نہ کہ برآمدات میں اضافے یا پیداواری صلاحیت میں بہتری سے حاصل ہوا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ صرف درآمدی پابندیاں طویل مدتی بیرونی استحکام کو یقینی نہیں بنا سکتیں۔</p>
<p>بیرونی شعبے میں بظاہر نظر آنے والی بہتری نے واقعی قلیل مدت میں زرِ مبادلہ کی شرح کو مستحکم اور افراطِ زر کو کم کیا ہے، تاہم ساختی کمزوریاں بدستور موجود ہیں۔ پاکستانی روپیہ بہتر کرنٹ اکاؤنٹ کارکردگی کے باعث مستحکم ہوا ہے، لیکن طویل مدت میں پاکستان کے بیرونی شعبے کی مضبوطی کا انحصار عارضی درآمدی پابندیوں پر نہیں، بلکہ برآمدات میں تنوع، زیادہ ویلیو ایڈڈ پیداوار، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مستحکم سرمایہ کاری ماحول پر ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں اقتصادی اعداد و شمار کی شفافیت ایک نہایت اہم پالیسی مسئلہ بن چکی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے درمیان تجارتی اعداد و شمار میں نمایاں تضادات سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>جولائی 2020 سے جون 2025 کے پانچ سالہ عرصے میں، پی ایس ڈبلیو کے مطابق 321 ارب ڈالر کی درآمدات ریکارڈ ہوئیں، جبکہ اسٹیٹ بینک نے بینکنگ چینلز کے ذریعے صرف 291 ارب ڈالر کی درآمدات کلیئر کیں، جس سے 30 ارب ڈالر کا فرق ظاہر ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ فرق مالی سال 2021-22 میں سامنے آیا، جب پی ایس ڈبلیو کے مطابق 82.3 ارب ڈالر کی درآمدات ہوئیں، جبکہ اسٹیٹ بینک نے صرف 71.5 ارب ڈالر ظاہر کیے — یعنی 10.8 ارب ڈالر کا فرق۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے اپنے اعداد و شمار کے دفاع میں کہا ہے کہ اس کے اعداد و شمار قابلِ تصدیق مالی لین دین پر مبنی ہیں، نہ کہ انتظامی تجارتی ریکارڈز پر۔ بینک نے مزید واضح کیا ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے کسی بھی قسم کی نظرثانی کرنٹ اکاؤنٹ کے شائع شدہ اعداد و شمار پر نمایاں اثر نہیں ڈالے گی۔</p>
<p>تاہم، یہ تضاد طریقہ کار کی مطابقت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انتظامی اور مالیاتی ڈیٹا کے درمیان یہ تضاد پاکستان کے اقتصادی نظم و نسق میں موجود ساختی مسائل کو اجاگر کرتا ہے — جن میں اداروں کے درمیان کمزور رابطہ کاری، پرانے شماریاتی نظام، اور ڈیٹا سے متعلق اداروں کی محدود خودمختاری شامل ہیں۔</p>
<p>اس پس منظر میں آئی ایم ایف کی جانب سے ادارہ جاتی ساکھ اور شفاف ڈیٹا فریم ورک پر زور خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ قومی اعداد و شمار کی ساکھ محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں، بلکہ یہ ریاستی مالیاتی ساکھ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد، اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضوں تک رسائی پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر تجارتی اور مالیاتی اعداد و شمار کی درستگی پر شبہات برقرار رہے تو یہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے رکاوٹ اور پالیسی سازی کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں — خصوصاً ایسے عالمی ماحول میں جہاں اعتماد کی ساکھ خود ترقی جتنی قیمتی سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کا عالمی پیغام پاکستان کی داخلی حقیقت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ادارہ اس بات سے خبردار کرتا ہے کہ اداروں کی خودمختاری میں کمی اور پالیسیوں کی غیر شفافیت ابھرتی ہوئی معیشتوں کی استحکام پذیری کے لیے بڑا خطرہ ہیں — اور یہ انتباہ باآسانی پاکستان پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ ملک کی اقتصادی بحالی کی حکمتِ عملی کا انحصار ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پائیدار اعتماد پر ہے، جو بدلے میں درست اعداد و شمار اور قابلِ اعتبار پالیسی سازی سے وابستہ ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی قابلِ اعتماد، شفاف اور پائیدار پالیسیوں کی اپیل دراصل وہی ہے جس کی پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے: پالیسی میں پیش بینی، ادارہ جاتی دیانت داری، اور حقیقت پسندی پر مبنی میکرو اکنامک استحکام۔</p>
<p>پاکستان کا وسیع تر اقتصادی ماحول محتاط تبدیلی کے مرحلے میں ہے۔ حکومت کا بحالی کا دعویٰ بظاہر میکرو سطح کے استحکام کے اشاروں سے تقویت پاتا ہے، تاہم بنیادی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔ اگرچہ آئی ایم ایف کی پیش گوئیاں محتاط ہیں، لیکن وہ اس امکان کو تسلیم کرتی ہیں کہ اگر موجودہ مالیاتی و مانیٹری فریم ورک برقرار رہا تو بتدریج بہتری ممکن ہے۔</p>
<p>مالی خسارے میں کمی، افراطِ زر میں اعتدال، اور بے روزگاری میں کمی گزشتہ برسوں کی عدم استحکام سے جزوی بحالی کی عکاسی کرتے ہیں۔ بیرونی شعبے کا توازن اگرچہ نازک ہے، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے عارضی طور پر سانس لینے کی گنجائش حاصل کر لی ہے۔ تاہم، خود اطمینانی کا خطرہ اب بھی شدید طور پر موجود ہے۔</p>
<p>گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ساختی اصلاحات کے بغیر معاشی استحکام پائیدار نہیں ہو سکتا۔ معیشت کا انحصار ترسیلاتِ زر، درآمدات میں کمی، اور وقتی مالیاتی اقدامات پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ اسے ایک ایسے ترقیاتی ماڈل میں ڈھلنا ہوگا جو پیداواری صلاحیت، برآمدات اور مسابقت کی بنیاد پر استوار ہو۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق موجودہ عالمی معاشی حالات پاکستان کے لیے بیک وقت ایک چیلنج بھی ہیں اور موقع بھی۔ عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ میں سست روی اس امر کی متقاضی ہے کہ پاکستان اپنی برآمدی اور صنعتی پالیسیوں کو ازسرِ نو ترتیب دے اور انہیں بدلتے ہوئے عالمی رجحانات سے ہم آہنگ کرے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی سفارشات — جن میں ساختی اصلاحات اپنانے، مالیاتی (مانیٹری) خودمختاری کے تحفظ، اور گورننس کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے — پاکستان کے لیے ایک واضح لائحہ عمل فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کی معیشت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہ کس حد تک اپنی داخلی اصلاحات کو عالمی حقیقتوں سے ہم آہنگ کر سکتا ہے، تاکہ شفافیت، ساکھ، اور لچک پیدا کی جا سکے — ایک ایسے دور میں جہاں غیر یقینی صورتحال ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے۔</p>
<p>یہ لمحہ اس امر کا متقاضی ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز عارضی استحکام کے اقدامات سے آگے بڑھ کر حقیقی ساختی اصلاحات کی طرف پیش رفت کریں۔ اعداد و شمار کی ساکھ کی بحالی، ادارہ جاتی خودمختاری، اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی تعمیر مستقبل کی پالیسی کا بنیادی ستون بننے چاہییں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>آئی ایم ایف کی یہ یاد دہانی کہ قابلِ اعتماد، پیش بینی پر مبنی، اور پائیدار پالیسیاں ہی اعتماد بحال کرتی ہیں آج کے پاکستان کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ پاکستان کے لیے اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ وقتی سرپلس حاصل کر لے یا ایک سال کی عارضی ترقی دکھا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ شفافیت، نظم و ضبط، اور دوراندیشی کو اپنی معاشی گورننس کے بنیادی ڈھانچے میں جذب کر سکے۔</p>
</blockquote>
<p>پائیدار ترقی کی سمت میں آگے بڑھنے کا موقع اب بھی موجود ہے — لیکن صرف اس صورت میں جب پاکستان وہ اصلاحات اختیار کرے جو اس کے قومی اہداف کو نئی عالمی معاشی حقیقتوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278258</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 11:26:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹراکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/17112433185e5d0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/17112433185e5d0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
