<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:26:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:26:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف ٹی او نے ٹیکس سال 2025 کیلئے کاغذی ریٹرن فارم اپ لوڈ نہ کرنے کو نا اہلی قرار دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278251/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیکس سال 2025 کے لیے مینول یا کاغذی انکم ٹیکس ریٹرن اپ لوڈ اور نوٹیفائی کرنے میں ناکام رہا ہے، جسے فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں غفلت اور نااہلی قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، ایف ٹی او کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ طرزِ عمل FTO آرڈیننس 2000 کی دفعہ 2(3)(ii) کے مطابق بدانتظامی  کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اس سے ایف بی آر حکام کی قانونی ذمہ داریوں سے لاپرواہی اور عدم توجہی ظاہر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ٹی او نے ممبر انکم ٹیکس (آپریشنز) کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر ٹیکس سال 2025 کے لیے مینول یا کاغذی ریٹرن فارم اپ لوڈ کرنے کو یقینی بنائیں اور اس بات پر زور دیا کہ قانونی قواعد کی پاسداری لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکایت گزار وحید شہزاد بٹ نے ایف ٹی او کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس رولز 2002 کے تحت مینول یا کاغذی ریٹرن فارم فراہم نہ کرنا ٹیکس دہندگان اور ٹیکس پریکٹیشنرز کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا کر رہا ہے، جو اب بھی مینول نظام کے تحت ریٹرن جمع کراتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ٹی او نے قرار دیا کہ یہ مداخلت انتظامی کوتاہیوں کے ازالے کے لیے ضروری اقدام ہے تاکہ ٹیکس کمپلائنس کے عمل میں رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ٹی او کے حکم نامے میں کہا گیا کہ
شکایت گزار نے مؤقف اپنایا کہ انکم ٹیکس رول 73(2DD) کے مطابق اگر کسی فرد کی آمدنی 10 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہو تو اس کے لیے ای فائلنگ لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، جن ٹیکس دہندگان کی آمدنی 10 لاکھ روپے سے کم ہے، وہ مینول انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے مجاز ہیں۔ تاہم، ایف بی آر نے ٹیکس سال 2025 کے لیے اہل ٹیکس دہندگان کے لیے مینول ریٹرن فارم جاری نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح قانونی تقاضے اور سابقہ عمل کے باوجود، بورڈ اس بار مینول یا کاغذی ریٹرن فارم اپ لوڈ یا نوٹیفائی کرنے میں ناکام رہا۔ ایف ٹی او نے کہا کہ یہ طرزِ عمل نااہلی اور غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں ہدایت دی گئی کہ ممبر انکم ٹیکس (آپریشنز) فوری طور پر ٹیکس سال 2025 کے لیے مینول یا کاغذی ریٹرن فارم اپ لوڈ کرنے کے اقدامات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیکس سال 2025 کے لیے مینول یا کاغذی انکم ٹیکس ریٹرن اپ لوڈ اور نوٹیفائی کرنے میں ناکام رہا ہے، جسے فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں غفلت اور نااہلی قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق، ایف ٹی او کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ طرزِ عمل FTO آرڈیننس 2000 کی دفعہ 2(3)(ii) کے مطابق بدانتظامی  کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اس سے ایف بی آر حکام کی قانونی ذمہ داریوں سے لاپرواہی اور عدم توجہی ظاہر ہوتی ہے۔</p>
<p>ایف ٹی او نے ممبر انکم ٹیکس (آپریشنز) کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر ٹیکس سال 2025 کے لیے مینول یا کاغذی ریٹرن فارم اپ لوڈ کرنے کو یقینی بنائیں اور اس بات پر زور دیا کہ قانونی قواعد کی پاسداری لازمی ہے۔</p>
<p>شکایت گزار وحید شہزاد بٹ نے ایف ٹی او کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس رولز 2002 کے تحت مینول یا کاغذی ریٹرن فارم فراہم نہ کرنا ٹیکس دہندگان اور ٹیکس پریکٹیشنرز کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا کر رہا ہے، جو اب بھی مینول نظام کے تحت ریٹرن جمع کراتے ہیں۔</p>
<p>ایف ٹی او نے قرار دیا کہ یہ مداخلت انتظامی کوتاہیوں کے ازالے کے لیے ضروری اقدام ہے تاکہ ٹیکس کمپلائنس کے عمل میں رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے۔</p>
<p>ایف ٹی او کے حکم نامے میں کہا گیا کہ
شکایت گزار نے مؤقف اپنایا کہ انکم ٹیکس رول 73(2DD) کے مطابق اگر کسی فرد کی آمدنی 10 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہو تو اس کے لیے ای فائلنگ لازمی ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس، جن ٹیکس دہندگان کی آمدنی 10 لاکھ روپے سے کم ہے، وہ مینول انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے مجاز ہیں۔ تاہم، ایف بی آر نے ٹیکس سال 2025 کے لیے اہل ٹیکس دہندگان کے لیے مینول ریٹرن فارم جاری نہیں کیا۔</p>
<p>واضح قانونی تقاضے اور سابقہ عمل کے باوجود، بورڈ اس بار مینول یا کاغذی ریٹرن فارم اپ لوڈ یا نوٹیفائی کرنے میں ناکام رہا۔ ایف ٹی او نے کہا کہ یہ طرزِ عمل نااہلی اور غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔</p>
<p>فیصلے میں ہدایت دی گئی کہ ممبر انکم ٹیکس (آپریشنز) فوری طور پر ٹیکس سال 2025 کے لیے مینول یا کاغذی ریٹرن فارم اپ لوڈ کرنے کے اقدامات کریں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278251</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 10:29:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/171027277e32124.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/171027277e32124.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
