<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 2025-26 کے آغاز پر معاشی استحکام برقرار، لیکن سیلابی نقصانات سے خطرات بڑھ گئے، اسٹیٹ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278243/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو کہا کہ مالی سال 2025-26 (مالی سال 26) کے آغاز میں ملک کے مجموعی معاشی حالات مجموعی طور پر مستحکم رہے، جبکہ محتاط مالیاتی پالیسی نے کاروباری طبقے اور گھریلو صارفین کے اعتماد کی بحالی میں مدد دی۔ تاہم، بینک نے خبردار کیا کہ زرعی شعبے اور بنیادی ڈھانچے کو حالیہ سیلاب سے پہنچنے والا نقصان مجموعی معاشی منظرنامے کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو جاری کردہ مالی سال 2024-25 کے لیے “پاکستان کی معیشت کی حالت پر سالانہ رپورٹ” کے مطابق، زرعی اور انفراسٹرکچر نقصانات کے باعث دہرے خسارے  اور مہنگائی کے تخمینوں میں اضافے کا  دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ شرحِ نمو مزید گرنے کے خطرات موجود ہیں۔ اسی طرح، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتِ حال عالمی اشیائے صرف کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی نمو و تجارت کے سست روی کے ذریعے بیرونی کھاتوں کے استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، معاشی سرگرمیوں میں معتدل توسیع اور زرعی اجناس کی سیلاب سے پیدا ہونے والی قلت سے درآمدات میں اضافے کا امکان ہے۔ دوسری جانب، عالمی طلب میں کمی اور زرعی پیداوار کو نقصان کے باعث برآمدات میں سست روی برقرار رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے آغاز میں پاکستان کے مجموعی معاشی حالات مستحکم رہے اور  مالیاتی نظم و ضبط پر مبنی پالیسیوں نے کاروبار اور گھریلو صارفین کے اعتماد کو بحال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، بیرونی کھاتوں کے استحکام، مالی نظم و ضبط کے تسلسل، اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اصلاحات کے نفاذ کے نتیجے میں اپریل تا اگست 2025 کے دوران تین بڑی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی۔ تاہم، زرعی اور انفراسٹرکچر شعبے کو حالیہ سیلابی نقصانات نے ملک کی بہتری کی سمت بڑھتی معیشت کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سیلاب سے سپلائی چین میں رکاوٹیں، اندرونی طلب میں کمی، اور زرعی خام مال کی دستیابی میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، جس سے زرعی صنعتوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق پالیسی ریٹ میں حالیہ کمی کے تاخیر سے اثرات معاشی رفتار کو سہارا دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گاڑیوں، سیمنٹ، اور پیٹرولیم مصنوعات  کی فروخت میں اضافہ اور مالی سال 26 کے جولائی تا اگست  کے دوران درآمدات کے حجم میں اضافے نے اس مثبت رجحان کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ترقیاتی اخراجات میں اضافہ اور سیلاب کے بعد تعمیرِ نو کی سرگرمیاں تعمیراتی شعبے کو فروغ دینے کا باعث بنیں گی، جبکہ حقیقی جی ڈی پی میں نمو مالی سال 2025-26 کے لیے 3.25 سے 4.25 فیصد کی حد کے نچلے حصے کے قریب رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے اخراجات میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ تاہم، مالیاتی نظم و ضبط کے تسلسل، توانائی شعبے کے گردشی قرضے پر قابو پانے کی کوششوں، ہدفی سبسڈی اور قرضوں کی ادائیگی میں اعتدال سے اخراجات میں تیزی کو قابو میں رکھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آمدنی کے محاذ پر رپورٹ میں کہا گیا کہ جاری ٹیکس اصلاحات اور معاشی دستاویزات میں اضافے کی کوششیں محصولات کو مضبوط بنانے میں مدد دیں گی۔ اس کے علاوہ، اگست 2025 میں اسٹیٹ بینک کے منافع کی بڑی منتقلی بھی مجموعی محصولات میں اضافہ کرے گی۔ ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2025-26 کے لیے مالی خسارہ جی ڈی پی کے 3.8 سے 4.8 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی سرگرمیوں میں توسیع اور زرعی اجناس کی ممکنہ قلت کے نتیجے میں مالی سال 26 میں درآمدات میں اضافے کا امکان ہے، جبکہ عالمی طلب میں کمی اور زرعی پیداوار کو نقصان کے باعث برآمدات پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی برآمدات پر امریکی ٹیرف میں کمی سے سیلاب اور عالمی منڈی کی منفی صورتحال کے اثرات کسی حد تک زائل ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، ترسیلاتِ زر کا تسلسل تجارتی خسارے میں بگاڑ کو جزوی طور پر متوازن رکھنے میں مدد دے گا۔ ان رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 26 میں جی ڈی پی کے 0 سے 1.0 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ سیلاب سے جلد خراب ہونے والی خوراک کی اشیا کی قلت خوراک کی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، خوراک اور توانائی کی افراطِ زر میں بھی اضافہ متوقع ہے کیونکہ پچھلے سال کی کم بنیاد کا اثر ختم ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2025 میں گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے اور بجلی کے نرخوں میں دی گئی سہولت کے اختتام کے باعث مالی سال 26 میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری رہنے کی توقع ہے۔ تاہم، اندرونی طلب میں اعتدال، عالمی اشیائے صرف کی قیمتوں میں استحکام، اور بیرونی کھاتوں میں توازن سے مجموعی مہنگائی کے دباؤ کو محدود رکھنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک نے تخمینہ لگایا کہ نیشنل کنزیومر پرائس انڈیکس (این سی پی آئی) کے مطابق مہنگائی مالی سال 26 کی دوسری ششماہی میں 5.0 تا 7.0 فیصد کے درمیانی ہدفی دائرے کی بالائی حد کو عبور کر سکتی ہے، تاہم مالی سال 27 میں یہ شرح دوبارہ ہدفی حد کے اندر واپس آنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ یہ منظرنامہ سیلاب کے اثرات، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، اور عالمی تجارت میں سست روی جیسے خطرات سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو کہا کہ مالی سال 2025-26 (مالی سال 26) کے آغاز میں ملک کے مجموعی معاشی حالات مجموعی طور پر مستحکم رہے، جبکہ محتاط مالیاتی پالیسی نے کاروباری طبقے اور گھریلو صارفین کے اعتماد کی بحالی میں مدد دی۔ تاہم، بینک نے خبردار کیا کہ زرعی شعبے اور بنیادی ڈھانچے کو حالیہ سیلاب سے پہنچنے والا نقصان مجموعی معاشی منظرنامے کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔</strong></p>
<p>جمعرات کو جاری کردہ مالی سال 2024-25 کے لیے “پاکستان کی معیشت کی حالت پر سالانہ رپورٹ” کے مطابق، زرعی اور انفراسٹرکچر نقصانات کے باعث دہرے خسارے  اور مہنگائی کے تخمینوں میں اضافے کا  دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ شرحِ نمو مزید گرنے کے خطرات موجود ہیں۔ اسی طرح، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتِ حال عالمی اشیائے صرف کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی نمو و تجارت کے سست روی کے ذریعے بیرونی کھاتوں کے استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، معاشی سرگرمیوں میں معتدل توسیع اور زرعی اجناس کی سیلاب سے پیدا ہونے والی قلت سے درآمدات میں اضافے کا امکان ہے۔ دوسری جانب، عالمی طلب میں کمی اور زرعی پیداوار کو نقصان کے باعث برآمدات میں سست روی برقرار رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے آغاز میں پاکستان کے مجموعی معاشی حالات مستحکم رہے اور  مالیاتی نظم و ضبط پر مبنی پالیسیوں نے کاروبار اور گھریلو صارفین کے اعتماد کو بحال کیا۔</p>
<p>مزید برآں، بیرونی کھاتوں کے استحکام، مالی نظم و ضبط کے تسلسل، اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اصلاحات کے نفاذ کے نتیجے میں اپریل تا اگست 2025 کے دوران تین بڑی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی۔ تاہم، زرعی اور انفراسٹرکچر شعبے کو حالیہ سیلابی نقصانات نے ملک کی بہتری کی سمت بڑھتی معیشت کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سیلاب سے سپلائی چین میں رکاوٹیں، اندرونی طلب میں کمی، اور زرعی خام مال کی دستیابی میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، جس سے زرعی صنعتوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق پالیسی ریٹ میں حالیہ کمی کے تاخیر سے اثرات معاشی رفتار کو سہارا دے سکتے ہیں۔</p>
<p>گاڑیوں، سیمنٹ، اور پیٹرولیم مصنوعات  کی فروخت میں اضافہ اور مالی سال 26 کے جولائی تا اگست  کے دوران درآمدات کے حجم میں اضافے نے اس مثبت رجحان کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ترقیاتی اخراجات میں اضافہ اور سیلاب کے بعد تعمیرِ نو کی سرگرمیاں تعمیراتی شعبے کو فروغ دینے کا باعث بنیں گی، جبکہ حقیقی جی ڈی پی میں نمو مالی سال 2025-26 کے لیے 3.25 سے 4.25 فیصد کی حد کے نچلے حصے کے قریب رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے اخراجات میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ تاہم، مالیاتی نظم و ضبط کے تسلسل، توانائی شعبے کے گردشی قرضے پر قابو پانے کی کوششوں، ہدفی سبسڈی اور قرضوں کی ادائیگی میں اعتدال سے اخراجات میں تیزی کو قابو میں رکھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔</p>
<p>آمدنی کے محاذ پر رپورٹ میں کہا گیا کہ جاری ٹیکس اصلاحات اور معاشی دستاویزات میں اضافے کی کوششیں محصولات کو مضبوط بنانے میں مدد دیں گی۔ اس کے علاوہ، اگست 2025 میں اسٹیٹ بینک کے منافع کی بڑی منتقلی بھی مجموعی محصولات میں اضافہ کرے گی۔ ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2025-26 کے لیے مالی خسارہ جی ڈی پی کے 3.8 سے 4.8 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔</p>
<p>معاشی سرگرمیوں میں توسیع اور زرعی اجناس کی ممکنہ قلت کے نتیجے میں مالی سال 26 میں درآمدات میں اضافے کا امکان ہے، جبکہ عالمی طلب میں کمی اور زرعی پیداوار کو نقصان کے باعث برآمدات پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>تاہم، رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی برآمدات پر امریکی ٹیرف میں کمی سے سیلاب اور عالمی منڈی کی منفی صورتحال کے اثرات کسی حد تک زائل ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، ترسیلاتِ زر کا تسلسل تجارتی خسارے میں بگاڑ کو جزوی طور پر متوازن رکھنے میں مدد دے گا۔ ان رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 26 میں جی ڈی پی کے 0 سے 1.0 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ سیلاب سے جلد خراب ہونے والی خوراک کی اشیا کی قلت خوراک کی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، خوراک اور توانائی کی افراطِ زر میں بھی اضافہ متوقع ہے کیونکہ پچھلے سال کی کم بنیاد کا اثر ختم ہو رہا ہے۔</p>
<p>جولائی 2025 میں گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے اور بجلی کے نرخوں میں دی گئی سہولت کے اختتام کے باعث مالی سال 26 میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری رہنے کی توقع ہے۔ تاہم، اندرونی طلب میں اعتدال، عالمی اشیائے صرف کی قیمتوں میں استحکام، اور بیرونی کھاتوں میں توازن سے مجموعی مہنگائی کے دباؤ کو محدود رکھنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>ان تمام رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک نے تخمینہ لگایا کہ نیشنل کنزیومر پرائس انڈیکس (این سی پی آئی) کے مطابق مہنگائی مالی سال 26 کی دوسری ششماہی میں 5.0 تا 7.0 فیصد کے درمیانی ہدفی دائرے کی بالائی حد کو عبور کر سکتی ہے، تاہم مالی سال 27 میں یہ شرح دوبارہ ہدفی حد کے اندر واپس آنے کی توقع ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ یہ منظرنامہ سیلاب کے اثرات، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، اور عالمی تجارت میں سست روی جیسے خطرات سے مشروط ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278243</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 09:06:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/170903362e72192.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/170903362e72192.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
