<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف پروگرام، مالی استحکام اور مہنگائی میں کمی نے معیشت کو سنبھال لیا، اسٹیٹ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278242/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جمعرات کو کہا کہ محتاط مالیاتی پالیسی اور مسلسل مالی استحکام کے اقدامات نے مالی سال 2024-25(مالی سال 25)  میں معیشت کے استحکام کو مضبوط بنایا۔ مزید برآں، عالمی سطح پر اشیائے صرف کی سازگار قیمتوں اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام نے مجموعی معاشی حالات میں بہتری میں مدد دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2024-25 کے لیے “پاکستان کی معیشت کی حالت پر سالانہ رپورٹ” جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق  مالی سال 25 میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو بالخصوص سروسز سیکٹر اور صنعتی سرگرمیوں کی بحالی سے وابستہ تھا، حالانکہ اہم فصلوں کی پیداوار میں کمی اور بڑی  صنعتوں (ایل ایس ایم) میں سکڑاؤ دیکھنے میں آیا۔ معاشی سرگرمیوں میں اس توسیع کے ساتھ درآمدات میں بھی اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، عالمی خوراک کی قیمتوں میں کمی، غیر یقینی عالمی تجارتی ماحول اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے امتزاج نے مالی سال 25 کے دوران برآمدی نمو کو محدود رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ترسیلاتِ زر میں مضبوط اضافے نے تجارتی خسارے کے اضافے کو نہ صرف پورا کیا بلکہ کرنٹ اکاؤنٹ میں نمایاں سرپلس بھی پیدا کیا۔ رپورٹ کے مطابق، کرنٹ اکاؤنٹ کے اس بڑے سرپلس اور کثیرالجہتی و دوطرفہ قرض دہندگان سے بڑھتے ہوئے بیرونی مالیاتی بہاؤ نے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت کی مسلسل مالی استحکام کی کوششوں اور اسٹیٹ بینک کے منافع میں نمایاں اضافے کے باعث مالی خسارہ نو سال کی کم ترین سطح پر آ گیا، جبکہ پرائمری بیلنس میں سرپلس مسلسل دوسرے سال بجٹ تخمینے سے زیادہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ محتاط مالیاتی پالیسی اور مالی نظم و ضبط نے مالی سال 25 کے دوران اندرونی طلب کو قابو میں رکھا۔ اس کے ساتھ خوراک کی اشیا کی وافر دستیابی، مستحکم زرِ مبادلہ کی شرح، عالمی منڈی میں کم قیمتیں، اور توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے مثبت نتائج نے مہنگائی میں نمایاں کمی  میں کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کی شرح مالی سال 24 کے 23.4 فیصد سے گھٹ کر مالی سال 25 میں آٹھ سال کی کم ترین سطح 4.5 فیصد پر آ گئی۔ مہنگائی میں اس تیز کمی اور مضبوط بیرونی کھاتوں کے باعث مالیاتی پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے جون 2024 سے جون 2025 کے درمیان پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 1,100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ملک کی کم شرحِ بچت  نے طویل عرصے سے معیشت کی ترقی کی صلاحیت کو کمزور کیا ہے کیونکہ اس سے نجی اور سرکاری سرمایہ کاری دونوں متاثر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں، رپورٹ میں ایک خصوصی باب شامل کیا گیا ہے جس کا عنوان ہے “پاکستان میں کم شرحِ بچت کا چیلنج”۔ اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ کم فی کس آمدنی، بلند افراطِ زر، بڑے مالی خسارے، غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ، نوجوان آبادی پر انحصار اور ثقافتی و طرزِ عمل سے متعلق رکاوٹیں — سب نے ملک میں بچت کی شرح کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، ماضی کے مسلسل مالی خساروں نے سرکاری و نجی دونوں سطحوں پر بچت اور سرمایہ کاری کو محدود کیا ہے۔ مزید یہ کہ بینکوں سے مالیاتی خسارے کی تکمیل پر حکومت کا انحصار ایک مضبوط سوورن-بینک نیکسس پیدا کر چکا ہے، جو اکثر نجی شعبے کے قرضوں کو محدود کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے نہ صرف پیداواری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ مالی اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ بھی بڑھایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، سیاسی و معاشی عدم استحکام، بلند ٹیکس شرحیں، پیچیدہ ٹیکس قوانین و ضوابط، نقل و حمل کی رکاوٹیں، اور قانون و نظم کی مشکلات نے وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، ان ساختی مسائل  سے نمٹنے اور ملک کو پائیدار بنیادوں پر بلند ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے مربوط پالیسی اقدامات اور اصلاحات ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مجموعی معاشی استحکام، محتاط مالیاتی  پالیسیوں نے کاروباری طبقے اور گھریلو صارفین کا اعتماد بحال کیا ہے۔ بیرونی کھاتے کے استحکام، مالی نظم و ضبط اور آئی ایم ایف کے ای ایف ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کے تسلسل کے نتیجے میں تین بڑی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے اپریل تا اگست 2025 کے دوران پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جمعرات کو کہا کہ محتاط مالیاتی پالیسی اور مسلسل مالی استحکام کے اقدامات نے مالی سال 2024-25(مالی سال 25)  میں معیشت کے استحکام کو مضبوط بنایا۔ مزید برآں، عالمی سطح پر اشیائے صرف کی سازگار قیمتوں اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام نے مجموعی معاشی حالات میں بہتری میں مدد دی ہے۔</strong></p>
<p>جمعرات کو اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2024-25 کے لیے “پاکستان کی معیشت کی حالت پر سالانہ رپورٹ” جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق  مالی سال 25 میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو بالخصوص سروسز سیکٹر اور صنعتی سرگرمیوں کی بحالی سے وابستہ تھا، حالانکہ اہم فصلوں کی پیداوار میں کمی اور بڑی  صنعتوں (ایل ایس ایم) میں سکڑاؤ دیکھنے میں آیا۔ معاشی سرگرمیوں میں اس توسیع کے ساتھ درآمدات میں بھی اضافہ ہوا۔</p>
<p>دوسری جانب، عالمی خوراک کی قیمتوں میں کمی، غیر یقینی عالمی تجارتی ماحول اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے امتزاج نے مالی سال 25 کے دوران برآمدی نمو کو محدود رکھا۔</p>
<p>تاہم، ترسیلاتِ زر میں مضبوط اضافے نے تجارتی خسارے کے اضافے کو نہ صرف پورا کیا بلکہ کرنٹ اکاؤنٹ میں نمایاں سرپلس بھی پیدا کیا۔ رپورٹ کے مطابق، کرنٹ اکاؤنٹ کے اس بڑے سرپلس اور کثیرالجہتی و دوطرفہ قرض دہندگان سے بڑھتے ہوئے بیرونی مالیاتی بہاؤ نے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ کیا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت کی مسلسل مالی استحکام کی کوششوں اور اسٹیٹ بینک کے منافع میں نمایاں اضافے کے باعث مالی خسارہ نو سال کی کم ترین سطح پر آ گیا، جبکہ پرائمری بیلنس میں سرپلس مسلسل دوسرے سال بجٹ تخمینے سے زیادہ رہا۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ محتاط مالیاتی پالیسی اور مالی نظم و ضبط نے مالی سال 25 کے دوران اندرونی طلب کو قابو میں رکھا۔ اس کے ساتھ خوراک کی اشیا کی وافر دستیابی، مستحکم زرِ مبادلہ کی شرح، عالمی منڈی میں کم قیمتیں، اور توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے مثبت نتائج نے مہنگائی میں نمایاں کمی  میں کردار ادا کیا۔</p>
<p>مہنگائی کی شرح مالی سال 24 کے 23.4 فیصد سے گھٹ کر مالی سال 25 میں آٹھ سال کی کم ترین سطح 4.5 فیصد پر آ گئی۔ مہنگائی میں اس تیز کمی اور مضبوط بیرونی کھاتوں کے باعث مالیاتی پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے جون 2024 سے جون 2025 کے درمیان پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 1,100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی۔</p>
<p>رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ملک کی کم شرحِ بچت  نے طویل عرصے سے معیشت کی ترقی کی صلاحیت کو کمزور کیا ہے کیونکہ اس سے نجی اور سرکاری سرمایہ کاری دونوں متاثر ہوتی ہیں۔</p>
<p>اسی تناظر میں، رپورٹ میں ایک خصوصی باب شامل کیا گیا ہے جس کا عنوان ہے “پاکستان میں کم شرحِ بچت کا چیلنج”۔ اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ کم فی کس آمدنی، بلند افراطِ زر، بڑے مالی خسارے، غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ، نوجوان آبادی پر انحصار اور ثقافتی و طرزِ عمل سے متعلق رکاوٹیں — سب نے ملک میں بچت کی شرح کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، ماضی کے مسلسل مالی خساروں نے سرکاری و نجی دونوں سطحوں پر بچت اور سرمایہ کاری کو محدود کیا ہے۔ مزید یہ کہ بینکوں سے مالیاتی خسارے کی تکمیل پر حکومت کا انحصار ایک مضبوط سوورن-بینک نیکسس پیدا کر چکا ہے، جو اکثر نجی شعبے کے قرضوں کو محدود کر دیتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے نہ صرف پیداواری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ مالی اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ بھی بڑھایا ہے۔</p>
<p>مزید برآں، سیاسی و معاشی عدم استحکام، بلند ٹیکس شرحیں، پیچیدہ ٹیکس قوانین و ضوابط، نقل و حمل کی رکاوٹیں، اور قانون و نظم کی مشکلات نے وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، ان ساختی مسائل  سے نمٹنے اور ملک کو پائیدار بنیادوں پر بلند ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے مربوط پالیسی اقدامات اور اصلاحات ضروری ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مجموعی معاشی استحکام، محتاط مالیاتی  پالیسیوں نے کاروباری طبقے اور گھریلو صارفین کا اعتماد بحال کیا ہے۔ بیرونی کھاتے کے استحکام، مالی نظم و ضبط اور آئی ایم ایف کے ای ایف ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کے تسلسل کے نتیجے میں تین بڑی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے اپریل تا اگست 2025 کے دوران پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278242</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 08:49:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/17084433714018d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/17084433714018d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
