<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رفح کراسنگ کھولنے کی تیاری جاری ہے، تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائیگا، اسرائیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278228/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل کی فوجی امدادی ایجنسی سی او جی اے ٹی نے جمعرات کو کہا کہ مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کھولنے کی تیاری جاری ہے تاکہ غزہ کے لوگوں کی نقل و حرکت ممکن ہو سکے، تاہم کراسنگ کھلنے کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل اسرائیل نے خبردار کیا تھا کہ وہ رفح کراسنگ بند رکھ سکتا ہے اور فلسطینی علاقے میں امداد کم کر سکتا ہے کیونکہ حماس، اسرائیل کے مطابق، قیدیوں کے لاشوں کی واپسی میں سست روی کر رہا ہے۔ یہ امر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ دو سالہ تباہ کن جنگ کو ختم کرنے والے اور حماس کے زیرِقبضہ تمام زندہ قیدیوں کی رہائی کے بعد ہونے والے جنگ بندی کے خطرات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی او جی اے ٹی جو اسرائیلی فوج کی ذیلی شاخ ہے اور غزہ پٹی میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے، نے کہا کہ انسانی امداد جاری ہے اور یہ غزہ میں کریم شالوم کراسنگ اور دیگر کراسنگز کے ذریعے پہنچائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی او جی اے ٹی نے ایک بیان میں کہاکہ یہ واضح طور پر کہا جانا چاہیے کہ انسانی امداد رفح کراسنگ سے نہیں جائے گی۔ یہ کسی بھی مرحلے پر کبھی بھی طے نہیں پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو ذرائع نے بدھ کو روئٹرزکو بتایا کہ رفح کراسنگ جمعرات کو لوگوں کے لیے کھولنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ میں انسانی امداد کی روانی جاری رکھنے کے باوجود رفح کراسنگ کے کھلنے سے مقامی لوگوں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم ہو گی، جو دو سالہ جنگ کے بعد شدید انسانی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے سست روی سے لاشوں کی واپسی اور قیدیوں کی رہائی میں تعطل، امدادی اور سیاسی سرگرمیوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل اور مصر کی مشترکہ کوششیں اس بات کو یقینی بنانے پر مرکوز ہیں کہ رفح بارڈر کراسنگ محفوظ اور منظم انداز میں کھلے تاکہ انسانی امداد اور شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہ آئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل کی فوجی امدادی ایجنسی سی او جی اے ٹی نے جمعرات کو کہا کہ مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کھولنے کی تیاری جاری ہے تاکہ غزہ کے لوگوں کی نقل و حرکت ممکن ہو سکے، تاہم کراسنگ کھلنے کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>اس سے قبل اسرائیل نے خبردار کیا تھا کہ وہ رفح کراسنگ بند رکھ سکتا ہے اور فلسطینی علاقے میں امداد کم کر سکتا ہے کیونکہ حماس، اسرائیل کے مطابق، قیدیوں کے لاشوں کی واپسی میں سست روی کر رہا ہے۔ یہ امر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ دو سالہ تباہ کن جنگ کو ختم کرنے والے اور حماس کے زیرِقبضہ تمام زندہ قیدیوں کی رہائی کے بعد ہونے والے جنگ بندی کے خطرات موجود ہیں۔</p>
<p>سی او جی اے ٹی جو اسرائیلی فوج کی ذیلی شاخ ہے اور غزہ پٹی میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے، نے کہا کہ انسانی امداد جاری ہے اور یہ غزہ میں کریم شالوم کراسنگ اور دیگر کراسنگز کے ذریعے پہنچائی جا رہی ہے۔</p>
<p>سی او جی اے ٹی نے ایک بیان میں کہاکہ یہ واضح طور پر کہا جانا چاہیے کہ انسانی امداد رفح کراسنگ سے نہیں جائے گی۔ یہ کسی بھی مرحلے پر کبھی بھی طے نہیں پایا تھا۔</p>
<p>دو ذرائع نے بدھ کو روئٹرزکو بتایا کہ رفح کراسنگ جمعرات کو لوگوں کے لیے کھولنے کی توقع ہے۔</p>
<p>غزہ میں انسانی امداد کی روانی جاری رکھنے کے باوجود رفح کراسنگ کے کھلنے سے مقامی لوگوں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم ہو گی، جو دو سالہ جنگ کے بعد شدید انسانی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے سست روی سے لاشوں کی واپسی اور قیدیوں کی رہائی میں تعطل، امدادی اور سیاسی سرگرمیوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔</p>
<p>اسرائیل اور مصر کی مشترکہ کوششیں اس بات کو یقینی بنانے پر مرکوز ہیں کہ رفح بارڈر کراسنگ محفوظ اور منظم انداز میں کھلے تاکہ انسانی امداد اور شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہ آئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278228</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Oct 2025 13:55:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/16135407e264ee6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/16135407e264ee6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
