<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غربت دوبارہ سر اٹھانے لگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278215/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان  غربت کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ کئی سالوں کی بتدریج پیش رفت کے بعد، اب ایک بار پھر اُن لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی 2025 کی غربت، مساوات اور لچک کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں غربت 2001 میں 64.3 فیصد سے کم ہو کر 2018 میں 21.9 فیصد تک آگئی تھی، مگر اب دوبارہ بڑھ کر تقریباً 25.3 فیصد تک جا پہنچی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صرف کووڈ-19، سیلاب یا مہنگائی جیسے جھٹکوں کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ اس سے ملک کی اقتصادی ساخت کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی برسوں تک پاکستان میں غربت میں کمی کا دار و مدار غیر رسمی شعبے کی ملازمتوں اور بیرونِ ملک مقیم کارکنوں کی ترسیلاتِ زر پر رہا۔ ان عوامل نے وقتی ریلیف تو دیا، مگر پائیدار معاشی طاقت پیدا نہیں کی۔ لوگ اگرچہ کچھ وقت کے لیے غربت کی لکیر سے اوپر آگئے، مگر جیسے ہی معیشت سست پڑی یا کوئی جھٹکا لگا، وہ دوبارہ نیچے گر گئے۔ اُن شعبوں میں اجرتیں جن میں زیادہ تر غریب طبقہ کام کرتا ہے، تقریباً ٹھہری ہوئی ہیں، اور خود معیشت بھی زیادہ پیداواری نہیں بن سکی۔ ترقی کمزور، غیر مستحکم، اور زیادہ تر کھپت پر مبنی رہی ہے، نہ کہ سرمایہ کاری یا برآمدات پر مبنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاشی کمزوری انسانی ترقی کی پسماندگی سے مزید بڑھ گئی ہے۔ تقریباً 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں۔ چار میں سے ایک بچہ جو پرائمری اسکول کی عمر میں ہے، تعلیم سے محروم ہے، اور زیادہ تر 10 سالہ بچے ایک سادہ کہانی بھی نہیں پڑھ سکتے۔ بہت سے گھروں کو صاف پانی اور صفائی کے نظام تک رسائی حاصل نہیں۔ یہ صرف سماجی مسائل نہیں بلکہ معاشی رکاوٹیں ہیں۔ کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا، جب تک اس کی اعداد و شمار کے لحاظ سے بڑی آبادی غیر تعلیم یافتہ اور غیر صحت مند رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ عدم مساوات گہری اور مستقل ہے۔ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں دوگنا ہے، اور بلوچستان جیسے صوبے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ کئی غریب اضلاع ایسے ہیں جو دہائیوں سے غربت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ شہروں کی طرف منتقلی، جو عموماً معاشی مواقع لاتی ہے، یہاں فائدہ نہیں دے سکی کیونکہ شہروں کی انتظامیہ کمزور اور انفراسٹرکچر ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی پالیسی ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے، اکثر انہیں مزید بگاڑ دیتی ہے۔ زیادہ تر ٹیکس بالواسطہ ہیں، جو غریب طبقے پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں، جبکہ سبسڈیز کا زیادہ تر فائدہ امیر طبقے کو ملتا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے سماجی تحفظ کے منصوبے اگرچہ غربت کے فرق کو کچھ کم کرتے ہیں، لیکن بڑی تعداد میں لوگوں کو غربت سے باہر نہیں نکال پاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی نے حالات کو اور بگاڑ دیا ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں افراد کو مشکلات میں ڈال دیا اور معیشت کی حقیقی کمزوری کو بے نقاب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک نے چار بڑے اقدامات تجویز کیے ہیں:
1 . انسانوں اور علاقوں میں سرمایہ کاری کریں،
2. بہتر سماجی تحفظ کا نظام بنائیں،
3. مالیاتی پالیسی کو منصفانہ بنائیں،
4. بہتر ڈیٹا کے ذریعے فیصلے کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر یہ تجاویز نئی نہیں ہیں۔ اصل مسئلہ حلوں کی کمی نہیں بلکہ سیاسی عزم کی کمی ہے۔ اشرافیہ کے مفادات، کمزور طرزِ حکمرانی، اور مختصر المدتی سوچ نے اصلاحات کو برسوں سے روک رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب پاکستان ایک واضح انتخاب کے سامنے ہے:
یا تو وہ اپنی معیشت کو زیادہ مضبوط بنیادوں پر دوبارہ استوار کرے — جس کی بنیاد پیداواری صلاحیت، شمولیت، اور لچک ہو — یا پھر اسی غیر یقینی راستے پر چلتا رہے اور اپنی ماضی کی کامیابیاں کھو دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غربت کا مقابلہ صرف عارضی اقدامات اور سفٹی نیٹس سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ڈھانچہ جاتی تبدیلی اور سیاسی جرات درکار ہے تاکہ ملک ایک بار پھر خوشحالی کی سمت بڑھ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان  غربت کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ کئی سالوں کی بتدریج پیش رفت کے بعد، اب ایک بار پھر اُن لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی 2025 کی غربت، مساوات اور لچک کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں غربت 2001 میں 64.3 فیصد سے کم ہو کر 2018 میں 21.9 فیصد تک آگئی تھی، مگر اب دوبارہ بڑھ کر تقریباً 25.3 فیصد تک جا پہنچی ہے۔</strong></p>
<p>یہ صرف کووڈ-19، سیلاب یا مہنگائی جیسے جھٹکوں کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ اس سے ملک کی اقتصادی ساخت کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔</p>
<p>کئی برسوں تک پاکستان میں غربت میں کمی کا دار و مدار غیر رسمی شعبے کی ملازمتوں اور بیرونِ ملک مقیم کارکنوں کی ترسیلاتِ زر پر رہا۔ ان عوامل نے وقتی ریلیف تو دیا، مگر پائیدار معاشی طاقت پیدا نہیں کی۔ لوگ اگرچہ کچھ وقت کے لیے غربت کی لکیر سے اوپر آگئے، مگر جیسے ہی معیشت سست پڑی یا کوئی جھٹکا لگا، وہ دوبارہ نیچے گر گئے۔ اُن شعبوں میں اجرتیں جن میں زیادہ تر غریب طبقہ کام کرتا ہے، تقریباً ٹھہری ہوئی ہیں، اور خود معیشت بھی زیادہ پیداواری نہیں بن سکی۔ ترقی کمزور، غیر مستحکم، اور زیادہ تر کھپت پر مبنی رہی ہے، نہ کہ سرمایہ کاری یا برآمدات پر مبنی۔</p>
<p>یہ معاشی کمزوری انسانی ترقی کی پسماندگی سے مزید بڑھ گئی ہے۔ تقریباً 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں۔ چار میں سے ایک بچہ جو پرائمری اسکول کی عمر میں ہے، تعلیم سے محروم ہے، اور زیادہ تر 10 سالہ بچے ایک سادہ کہانی بھی نہیں پڑھ سکتے۔ بہت سے گھروں کو صاف پانی اور صفائی کے نظام تک رسائی حاصل نہیں۔ یہ صرف سماجی مسائل نہیں بلکہ معاشی رکاوٹیں ہیں۔ کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا، جب تک اس کی اعداد و شمار کے لحاظ سے بڑی آبادی غیر تعلیم یافتہ اور غیر صحت مند رہے۔</p>
<p>رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ عدم مساوات گہری اور مستقل ہے۔ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں دوگنا ہے، اور بلوچستان جیسے صوبے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ کئی غریب اضلاع ایسے ہیں جو دہائیوں سے غربت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ شہروں کی طرف منتقلی، جو عموماً معاشی مواقع لاتی ہے، یہاں فائدہ نہیں دے سکی کیونکہ شہروں کی انتظامیہ کمزور اور انفراسٹرکچر ناکافی ہے۔</p>
<p>مالیاتی پالیسی ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے، اکثر انہیں مزید بگاڑ دیتی ہے۔ زیادہ تر ٹیکس بالواسطہ ہیں، جو غریب طبقے پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں، جبکہ سبسڈیز کا زیادہ تر فائدہ امیر طبقے کو ملتا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے سماجی تحفظ کے منصوبے اگرچہ غربت کے فرق کو کچھ کم کرتے ہیں، لیکن بڑی تعداد میں لوگوں کو غربت سے باہر نہیں نکال پاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی نے حالات کو اور بگاڑ دیا ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں افراد کو مشکلات میں ڈال دیا اور معیشت کی حقیقی کمزوری کو بے نقاب کیا۔</p>
<p>ورلڈ بینک نے چار بڑے اقدامات تجویز کیے ہیں:
1 . انسانوں اور علاقوں میں سرمایہ کاری کریں،
2. بہتر سماجی تحفظ کا نظام بنائیں،
3. مالیاتی پالیسی کو منصفانہ بنائیں،
4. بہتر ڈیٹا کے ذریعے فیصلے کریں۔</p>
<p>مگر یہ تجاویز نئی نہیں ہیں۔ اصل مسئلہ حلوں کی کمی نہیں بلکہ سیاسی عزم کی کمی ہے۔ اشرافیہ کے مفادات، کمزور طرزِ حکمرانی، اور مختصر المدتی سوچ نے اصلاحات کو برسوں سے روک رکھا ہے۔</p>
<p>اب پاکستان ایک واضح انتخاب کے سامنے ہے:
یا تو وہ اپنی معیشت کو زیادہ مضبوط بنیادوں پر دوبارہ استوار کرے — جس کی بنیاد پیداواری صلاحیت، شمولیت، اور لچک ہو — یا پھر اسی غیر یقینی راستے پر چلتا رہے اور اپنی ماضی کی کامیابیاں کھو دے۔</p>
<p>غربت کا مقابلہ صرف عارضی اقدامات اور سفٹی نیٹس سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ڈھانچہ جاتی تبدیلی اور سیاسی جرات درکار ہے تاکہ ملک ایک بار پھر خوشحالی کی سمت بڑھ سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278215</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Oct 2025 12:01:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/161159329c5c586.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/161159329c5c586.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
