<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:26:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:26:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اچانک اسٹاف لیول معاہدہ: پسِ پردہ کہانی کیا ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278213/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے 14 اکتوبر 2025 کو اپنی ویب سائٹ پر دوسری جائزہ رپورٹ سے متعلق اسٹاف لیول معاہدے (ایس ایل اے) کا اعلان کیا, یہ اعلان مشن کے 8 اکتوبر 2024 کو ملک چھوڑنے کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا۔اس پیش رفت نے یہ قیاس آرائیاں جنم دی ہیں کہ ان 7 دنوں میں آخر کیا تبدیلی آئی، کیونکہ اس دوران کوئی نئی مالی یا مانیٹری پالیسی کا فیصلہ نہیں کیا گیا جو کسی پریئر کنڈیشن (پیشگی شرط) کی تکمیل کی وضاحت کر سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ تاخیر کی ممکنہ وجہ مشن لیڈر کی تبدیلی ہو سکتی ہے، جس کے باعث نئے سربراہ کو بریفنگ دینا اور بعد ازاں آئی ایم ایف کے شعبہ جاتی سربراہ جہاد ازعور سے منظوری لینا ضروری تھا، جنہوں نے سالانہ آئی ایم ایف/ورلڈ بینک اجلاس کے موقع پر پاکستانی وزیر خزانہ سے ملاقات بھی کی۔ دوسری رائے یہ ہے کہ تاخیر پاکستانی حکام کی درخواست پر ہوئی تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ معاہدہ وزیر خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر  دونوں اقتصادی ٹیم لیڈرز  کی کامیاب مذاکراتی کوششوں کے نتیجے میں طے پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاخیر کی جو بھی وجہ رہی ہو، 8 اکتوبر کو مشن کی روانگی کے موقع پر جاری کردہ پریس ریلیز اور 14 اکتوبر کی پریس ریلیز میں ایک نمایاں فرق پایا جاتا ہے: بعد والی ریلیز میں ”فِسکل کنسولیڈیشن“ (مالی استحکام) کے ساتھ ”فِسکل اسٹرکچرل ریفارمز“ (مالیاتی ڈھانچے کی اصلاحات کو آگے بڑھانے) کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف محصولات میں اضافے کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے جبکہ یف بی آر  پہلے ہی پہلی سہ ماہی میں 198 ارب روپے کے ہدف سے کمی تسلیم کر چکا ہے  بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم کو بھی وسیع کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کا موجودہ ٹیکس ڈھانچہ اب بھی بالواسطہ ٹیکسز پر انحصار کرتا ہے جو بجٹ میں تقریباً 75 سے 80 فیصد تک ہیں  اور ان کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ نفاذی اقدامات (enforcement measures) سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی بنیادی طور پر چینی اور دیگر صنعتوں پر سیلز ٹیکس سے متعلق ہے، جو ایک رجعتی (regressive) ٹیکس ہے اور بالآخر صارفین تک منتقل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلا شبہ  آئی ایم ایف کی تشویش کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں::(i) صوبائی بجٹ کا وفاقی منتقلیوں پر حد سے زیادہ انحصار ، پنجاب 76 فیصد، سندھ 61 فیصد (سروسز پر سیلز ٹیکس کی اپنی وصولیوں کی بدولت)، خیبر پختونخوا 79 فیصد اور بلوچستان 78 فیصد۔(ii) صوبائی سرپلس کا تخمینہ غیر معمولی طور پر 1,464 ارب روپے رکھا گیا، پنجاب نے 629.6 ارب روپے کے اپنے حصے کے مقابلے میں 740 ارب روپے کا سرپلس بجٹ کیا، سندھ نے 36 ارب روپے کے خسارے کا بجٹ پیش کیا، خیبر پختونخوا نے 170.6 ارب روپے کے حصے کے مقابلے میں 157 ارب روپے کا کم سرپلس رکھا، جبکہ بلوچستان نے 110.6 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 37 ارب روپے کا سرپلس بجٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کے بجٹ میں رکھا گیا تخمینہ تباہ کن سیلاب کے بعد شدید متاثر ہونے کا امکان ہے، کیونکہ صوبائی حکومت اپنے وسائل سے ہی بحالی کے لیے فنڈز مختص کر رہی ہے۔(iii) اس کے علاوہ، تمام چاروں صوبوں نے زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کی شرط  جسے رواں سال کے آغاز میں قانون سازی اور مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے مؤثر بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا  انتہائی معمولی شرح پر نافذ کی، جس سے حاصل ہونے والی متوقع آمدنی اندازوں سے کہیں کم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاف لیول معاہدے  میں توانائی شعبے کی بحالی کی بھی شرط شامل ہے۔ معاہدے میں اگرچہ گردشی قرضے کے مزید بڑھنے سے بچنے کی حکومتی کوششوں کا اعتراف کیا گیا ہے، تاہم اسی جملے میں وقتاً فوقتاً ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ مکمل لاگت کی وصولی ممکن ہو، خاص طور پر اس صورت میں جب شرحِ سود میں اضافہ ہو  جس کے بارے میں آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ وہ مناسب حد تک سخت اور اعداد و شمار پر مبنی ہونی چاہیے۔ یہ اشارہ مبہم طور پر ان 1.25 ٹریلین روپے کی جانب ہے جو کمرشل بینکوں سے قرض لیے گئے ہیں۔ مزید برآں معاہدے میں ترقی پسند ٹیرف ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی شرط بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی نجکاری پر غیر معمولی توجہ  جسے پاکستان کی مسلسل آنے والی اقتصادی ٹیموں نے بھی دہرایا ہے موجودہ حالات میں غیر موزوں اور قبل از وقت ہے، کیونکہ ملکی معیشت اس وقت نہایت نازک حالت میں ہے۔ اس کی جھلک اس بات سے ملتی ہے کہ پبلک سیکٹر اب بھی نجی شعبے کے لیے قرضوں کے حصول میں رکاوٹ بنا ہوا ہے جہاں یکم جولائی 2025 سے 12 ستمبر 2025 تک نجی شعبے کے قرضوں کا بہاؤ منفی 170 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ علاوہ ازیں زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار کیا جارہا ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے نجی شعبے کی ترقی کے لیے کاروباری ماحول بہتر بنانے پر زور جبکہ اسی وقت سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کا نفاذ جاری ہے، درحقیقت ایک صریح تضاد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 اکتوبر کی پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ نئی قائم شدہ ٹیکس پالیسی آفس کے قیام کے ساتھ پالیسی ڈیزائن کو مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جو درمیانی مدت کی اصلاحات کی راہ ہموار کرے گی۔ تاہم، ماضی کے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ اس نوعیت کے نئے دفاتر کا قیام شاذونادر ہی مثبت نتائج دے سکا ہے، لہٰذا ان فنڈ کی سرپرستی میں کیے گئے اقدامات کی حقیقی کامیابی دیکھنے کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف بدستور پرانے سرمایہ دارانہ اصولوں کو فروغ دیتا رہا ہے، جن میں نمایاں طور پر معیشت میں ریاست کے کردار کو محدود کرنا، سرکاری مداخلت میں کمی، عالمی سطح پر مسابقتی زرعی شعبے کا فروغ جو غذائی تحفظ کی ضروریات پوری کرے، بین الاقوامی تجارت میں اضافہ، اور قومی ٹیرف پالیسی کا نفاذ شامل ہیں۔ یہ اقدامات اگرچہ کاغذوں پر موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہایت کمزور رہا ہے۔ تاہم، عالمی جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کے باعث ان پالیسیوں کی مؤثریت شدید دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے 14 اکتوبر 2025 کو اپنی ویب سائٹ پر دوسری جائزہ رپورٹ سے متعلق اسٹاف لیول معاہدے (ایس ایل اے) کا اعلان کیا, یہ اعلان مشن کے 8 اکتوبر 2024 کو ملک چھوڑنے کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا۔اس پیش رفت نے یہ قیاس آرائیاں جنم دی ہیں کہ ان 7 دنوں میں آخر کیا تبدیلی آئی، کیونکہ اس دوران کوئی نئی مالی یا مانیٹری پالیسی کا فیصلہ نہیں کیا گیا جو کسی پریئر کنڈیشن (پیشگی شرط) کی تکمیل کی وضاحت کر سکے۔</strong></p>
<p>کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ تاخیر کی ممکنہ وجہ مشن لیڈر کی تبدیلی ہو سکتی ہے، جس کے باعث نئے سربراہ کو بریفنگ دینا اور بعد ازاں آئی ایم ایف کے شعبہ جاتی سربراہ جہاد ازعور سے منظوری لینا ضروری تھا، جنہوں نے سالانہ آئی ایم ایف/ورلڈ بینک اجلاس کے موقع پر پاکستانی وزیر خزانہ سے ملاقات بھی کی۔ دوسری رائے یہ ہے کہ تاخیر پاکستانی حکام کی درخواست پر ہوئی تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ معاہدہ وزیر خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر  دونوں اقتصادی ٹیم لیڈرز  کی کامیاب مذاکراتی کوششوں کے نتیجے میں طے پایا۔</p>
<p>تاخیر کی جو بھی وجہ رہی ہو، 8 اکتوبر کو مشن کی روانگی کے موقع پر جاری کردہ پریس ریلیز اور 14 اکتوبر کی پریس ریلیز میں ایک نمایاں فرق پایا جاتا ہے: بعد والی ریلیز میں ”فِسکل کنسولیڈیشن“ (مالی استحکام) کے ساتھ ”فِسکل اسٹرکچرل ریفارمز“ (مالیاتی ڈھانچے کی اصلاحات کو آگے بڑھانے) کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف محصولات میں اضافے کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے جبکہ یف بی آر  پہلے ہی پہلی سہ ماہی میں 198 ارب روپے کے ہدف سے کمی تسلیم کر چکا ہے  بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم کو بھی وسیع کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کا موجودہ ٹیکس ڈھانچہ اب بھی بالواسطہ ٹیکسز پر انحصار کرتا ہے جو بجٹ میں تقریباً 75 سے 80 فیصد تک ہیں  اور ان کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ نفاذی اقدامات (enforcement measures) سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی بنیادی طور پر چینی اور دیگر صنعتوں پر سیلز ٹیکس سے متعلق ہے، جو ایک رجعتی (regressive) ٹیکس ہے اور بالآخر صارفین تک منتقل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>بلا شبہ  آئی ایم ایف کی تشویش کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں::(i) صوبائی بجٹ کا وفاقی منتقلیوں پر حد سے زیادہ انحصار ، پنجاب 76 فیصد، سندھ 61 فیصد (سروسز پر سیلز ٹیکس کی اپنی وصولیوں کی بدولت)، خیبر پختونخوا 79 فیصد اور بلوچستان 78 فیصد۔(ii) صوبائی سرپلس کا تخمینہ غیر معمولی طور پر 1,464 ارب روپے رکھا گیا، پنجاب نے 629.6 ارب روپے کے اپنے حصے کے مقابلے میں 740 ارب روپے کا سرپلس بجٹ کیا، سندھ نے 36 ارب روپے کے خسارے کا بجٹ پیش کیا، خیبر پختونخوا نے 170.6 ارب روپے کے حصے کے مقابلے میں 157 ارب روپے کا کم سرپلس رکھا، جبکہ بلوچستان نے 110.6 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 37 ارب روپے کا سرپلس بجٹ کیا۔</p>
<p>پنجاب کے بجٹ میں رکھا گیا تخمینہ تباہ کن سیلاب کے بعد شدید متاثر ہونے کا امکان ہے، کیونکہ صوبائی حکومت اپنے وسائل سے ہی بحالی کے لیے فنڈز مختص کر رہی ہے۔(iii) اس کے علاوہ، تمام چاروں صوبوں نے زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کی شرط  جسے رواں سال کے آغاز میں قانون سازی اور مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے مؤثر بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا  انتہائی معمولی شرح پر نافذ کی، جس سے حاصل ہونے والی متوقع آمدنی اندازوں سے کہیں کم رہی۔</p>
<p>اسٹاف لیول معاہدے  میں توانائی شعبے کی بحالی کی بھی شرط شامل ہے۔ معاہدے میں اگرچہ گردشی قرضے کے مزید بڑھنے سے بچنے کی حکومتی کوششوں کا اعتراف کیا گیا ہے، تاہم اسی جملے میں وقتاً فوقتاً ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ مکمل لاگت کی وصولی ممکن ہو، خاص طور پر اس صورت میں جب شرحِ سود میں اضافہ ہو  جس کے بارے میں آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ وہ مناسب حد تک سخت اور اعداد و شمار پر مبنی ہونی چاہیے۔ یہ اشارہ مبہم طور پر ان 1.25 ٹریلین روپے کی جانب ہے جو کمرشل بینکوں سے قرض لیے گئے ہیں۔ مزید برآں معاہدے میں ترقی پسند ٹیرف ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی شرط بھی شامل ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی نجکاری پر غیر معمولی توجہ  جسے پاکستان کی مسلسل آنے والی اقتصادی ٹیموں نے بھی دہرایا ہے موجودہ حالات میں غیر موزوں اور قبل از وقت ہے، کیونکہ ملکی معیشت اس وقت نہایت نازک حالت میں ہے۔ اس کی جھلک اس بات سے ملتی ہے کہ پبلک سیکٹر اب بھی نجی شعبے کے لیے قرضوں کے حصول میں رکاوٹ بنا ہوا ہے جہاں یکم جولائی 2025 سے 12 ستمبر 2025 تک نجی شعبے کے قرضوں کا بہاؤ منفی 170 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ علاوہ ازیں زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار کیا جارہا ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے نجی شعبے کی ترقی کے لیے کاروباری ماحول بہتر بنانے پر زور جبکہ اسی وقت سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کا نفاذ جاری ہے، درحقیقت ایک صریح تضاد ہے۔</p>
<p>14 اکتوبر کی پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ نئی قائم شدہ ٹیکس پالیسی آفس کے قیام کے ساتھ پالیسی ڈیزائن کو مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جو درمیانی مدت کی اصلاحات کی راہ ہموار کرے گی۔ تاہم، ماضی کے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ اس نوعیت کے نئے دفاتر کا قیام شاذونادر ہی مثبت نتائج دے سکا ہے، لہٰذا ان فنڈ کی سرپرستی میں کیے گئے اقدامات کی حقیقی کامیابی دیکھنے کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔</p>
<p>آئی ایم ایف بدستور پرانے سرمایہ دارانہ اصولوں کو فروغ دیتا رہا ہے، جن میں نمایاں طور پر معیشت میں ریاست کے کردار کو محدود کرنا، سرکاری مداخلت میں کمی، عالمی سطح پر مسابقتی زرعی شعبے کا فروغ جو غذائی تحفظ کی ضروریات پوری کرے، بین الاقوامی تجارت میں اضافہ، اور قومی ٹیرف پالیسی کا نفاذ شامل ہیں۔ یہ اقدامات اگرچہ کاغذوں پر موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہایت کمزور رہا ہے۔ تاہم، عالمی جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کے باعث ان پالیسیوں کی مؤثریت شدید دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278213</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Oct 2025 12:00:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/1611543971f0474.webp" type="image/webp" medium="image" height="395" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/1611543971f0474.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
