<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 01:07:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Jul 2026 01:07:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی بی ایس کو نامکمل درآمدی ڈیٹا کی فراہمی، تجارتی اعداد و شمار میں 11 ارب ڈالر کا فرق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278207/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) — جو کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ذیلی کمپنی ہے — نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کو نامکمل درآمدی اعداد و شمار فراہم کیے، جس کے باعث تجارتی اعداد و شمار میں 11 ارب ڈالر کا فرق پیدا ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انکشاف سینیئر سرکاری حکام نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کے دوران کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، اعداد و شمار کی رپورٹنگ لائن میں  پرال کے ساتھ ساتھ ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ آف ریسرچ اینڈ اسٹیٹکس (ڈی آر ایس) بھی شامل ہے۔ درآمدات کے اعداد و شمار پرال کی جانب سے ایف بی آر کے ڈی آر ایس کے ذریعے پی بی ایس کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ کسٹمز کے اعداد و شمار میں برآمدی اسکیموں اور اشیائے درآمد کے مختلف اعلانات (جی ڈیز) جیسے بگیج، گھریلو استعمال اور کمرشل درآمدات شامل ہیں، تاہم ٹریڈ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت ہونے والی درآمدات کے گڈز ڈکلیئریشن اعداد و شمار پی بی ایس کو فراہم نہیں کیے گئے۔ بعض دیگر اقسام کے جی ڈیز کے اعداد و شمار بھی رپورٹ نہیں ہوئے، جس کے نتیجے میں درآمدات کی کم رپورٹنگ سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کسٹمز نے ٹریڈ فسیلیٹیشن اسکیموں کے لیے اشیائے درآمد کے اعلانات (گڈز ڈکلیئریشن) کی ایک علیحدہ کیٹیگری متعارف کرائی تھی، تاہم ان کے کسٹمز ٹیرف ہیڈنگز اور درجہ بندی کو پی بی ایس کے ڈیٹا کلیکشن سسٹم میں پرال کے ذریعے مربوط نہیں کیا گیا، جس سے یہ فرق پیدا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ادارہ اس تاثر میں تھا کہ انہیں پرال سے مکمل کسٹمز ڈیٹا موصول ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے اعتراف کیا کہ پی  بی ایس اور پرال کے درمیان ہم آہنگی کی کمی نے اس غلط رپورٹنگ میں کردار ادا کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ غلطی دانستہ نہیں تھی۔ مزید کہا گیا کہ ڈیٹا ڈیفینیشن کے معیار کی عدم موجودگی بھی درآمدی معلومات کے مسنگ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا تجارتی ڈیٹا بینکوں سے موصول ہونے والی تجارتی ادائیگیوں کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے، لہٰذا پی بی ایس کے ڈیٹا میں نظرِ ثانی کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے مزید کہا کہ معمول کے مطابق معمولی ترامیم جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وضاحت اس خبر کے تناظر میں دی جا رہی ہے کہ پی بی ایس کے تجارتی اعداد و شمار میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد اسٹیٹ بینک کے تجارتی اعداد و شمار اور کرنٹ اکاؤنٹ کے نتائج میں بھی تبدیلی کی جائے گی۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دوٹوک کہا کہ اسٹیٹ بینک کے تجارتی اعداد و شمار بینکوں سے حاصل ہونے والے ٹریڈ پیمنٹس پر مبنی ہیں، لہٰذا کرنٹ اکاؤنٹ کے پہلے سے شائع شدہ اعداد و شمار میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) — جو کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ذیلی کمپنی ہے — نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کو نامکمل درآمدی اعداد و شمار فراہم کیے، جس کے باعث تجارتی اعداد و شمار میں 11 ارب ڈالر کا فرق پیدا ہوا۔</strong></p>
<p>یہ انکشاف سینیئر سرکاری حکام نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کے دوران کیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، اعداد و شمار کی رپورٹنگ لائن میں  پرال کے ساتھ ساتھ ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ آف ریسرچ اینڈ اسٹیٹکس (ڈی آر ایس) بھی شامل ہے۔ درآمدات کے اعداد و شمار پرال کی جانب سے ایف بی آر کے ڈی آر ایس کے ذریعے پی بی ایس کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ کسٹمز کے اعداد و شمار میں برآمدی اسکیموں اور اشیائے درآمد کے مختلف اعلانات (جی ڈیز) جیسے بگیج، گھریلو استعمال اور کمرشل درآمدات شامل ہیں، تاہم ٹریڈ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت ہونے والی درآمدات کے گڈز ڈکلیئریشن اعداد و شمار پی بی ایس کو فراہم نہیں کیے گئے۔ بعض دیگر اقسام کے جی ڈیز کے اعداد و شمار بھی رپورٹ نہیں ہوئے، جس کے نتیجے میں درآمدات کی کم رپورٹنگ سامنے آئی۔</p>
<p>پاکستان کسٹمز نے ٹریڈ فسیلیٹیشن اسکیموں کے لیے اشیائے درآمد کے اعلانات (گڈز ڈکلیئریشن) کی ایک علیحدہ کیٹیگری متعارف کرائی تھی، تاہم ان کے کسٹمز ٹیرف ہیڈنگز اور درجہ بندی کو پی بی ایس کے ڈیٹا کلیکشن سسٹم میں پرال کے ذریعے مربوط نہیں کیا گیا، جس سے یہ فرق پیدا ہوا۔</p>
<p>پی بی ایس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ادارہ اس تاثر میں تھا کہ انہیں پرال سے مکمل کسٹمز ڈیٹا موصول ہورہا ہے۔</p>
<p>حکام نے اعتراف کیا کہ پی  بی ایس اور پرال کے درمیان ہم آہنگی کی کمی نے اس غلط رپورٹنگ میں کردار ادا کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ غلطی دانستہ نہیں تھی۔ مزید کہا گیا کہ ڈیٹا ڈیفینیشن کے معیار کی عدم موجودگی بھی درآمدی معلومات کے مسنگ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا تجارتی ڈیٹا بینکوں سے موصول ہونے والی تجارتی ادائیگیوں کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے، لہٰذا پی بی ایس کے ڈیٹا میں نظرِ ثانی کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوگی۔</p>
<p>ترجمان نے مزید کہا کہ معمول کے مطابق معمولی ترامیم جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وضاحت اس خبر کے تناظر میں دی جا رہی ہے کہ پی بی ایس کے تجارتی اعداد و شمار میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد اسٹیٹ بینک کے تجارتی اعداد و شمار اور کرنٹ اکاؤنٹ کے نتائج میں بھی تبدیلی کی جائے گی۔”</p>
<p>انہوں نے دوٹوک کہا کہ اسٹیٹ بینک کے تجارتی اعداد و شمار بینکوں سے حاصل ہونے والے ٹریڈ پیمنٹس پر مبنی ہیں، لہٰذا کرنٹ اکاؤنٹ کے پہلے سے شائع شدہ اعداد و شمار میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278207</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Oct 2025 10:39:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیبسہیل سرفرازطاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/16103550c123efd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/16103550c123efd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
