<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:18:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:18:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے افغان صوبے قندھار میں فضائی کارروائی کی ، دونوں ممالک کے حکام کی تصدیق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278190/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، دونوں ممالک کے حکام کے مطابق بدھ کو پاکستان نے افغانستان کے صوبے  قندھار میں فضائی حملہ کیا، جس کے بعد تازہ جھڑپوں میں درجنوں فوجی اور شہری جاں بحق ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق سرحدی تصادم کا یہ سلسلہ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے افغانستان میں ہونے والے متعدد دھماکوں جن میں دو کابل میں ہوئے  کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا، جس کے بعد افغان طالبان نے جوابی کارروائی کے طور پر سرحدی علاقوں میں آپریشن شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان نے بدھ کی صبح جنوبی قندھار کے علاقے اسپن بولدک کے قریب سرحد پار سے دو بڑی فوجی چوکیوں پر حملہ کیا، تاہم دونوں حملوں کو پسپا کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی ترجمان کے مطابق حملوں میں کم از کم 20 طالبان جنگجو مارے گئے، جبکہ شمال مغربی سرحد پر ہونے والی رات بھر کی جھڑپوں میں مزید 30 جنگجو ہلاک کیے جانے کی اطلاع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا یہ حملے ایسے گاؤں سے کیے گئے جو دونوں ممالک میں تقسیم ہیں اور شہری آبادی کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام لگایا کہ پاکستانی فورسز نے  ایک بار پھر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے، جن میں 15 شہری جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی بڑی تعداد مارٹر فائر کے نتیجے میں ہوئی جب کہ پاکستانی فوج نے افغان الزامات کو جھوٹا اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد نے اپنے نقصانات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم گزشتہ ہفتے کے ابتدائی تصادم میں 23 پاکستانی فوجیوں کی شہادت کی تصدیق کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرحدی علاقوں میں صورتحال تاحال کشیدہ ہے، اسپن بولدک اور چمن کے مکینوں نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران گھروں پر گولہ باری ہوئی، کاروبار بند ہوگئے اور شہریوں نے نقل مکانی شروع کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران خیبرپختونخوا کے شہر پشاور میں ایک علیحدہ واقعے میں شدت پسند تنظیم  اتحاد المجاہدین نے ایک چیک پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں سات پاکستانی اہلکار شہید ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا کہ افغان طالبان کو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت سے باز رکھنے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں تربیت یافتہ ہے اور کابل حکومت کے زیرِ سایہ سرگرم عمل ہے، جبکہ افغان طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے افغانستان میں ہونے والے دھماکے اس وقت پیش آئے جب طالبان کے اعلیٰ سفارت کار بھارت کے دورے پر تھے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، دونوں ممالک کے حکام کے مطابق بدھ کو پاکستان نے افغانستان کے صوبے  قندھار میں فضائی حملہ کیا، جس کے بعد تازہ جھڑپوں میں درجنوں فوجی اور شہری جاں بحق ہوگئے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق سرحدی تصادم کا یہ سلسلہ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے افغانستان میں ہونے والے متعدد دھماکوں جن میں دو کابل میں ہوئے  کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا، جس کے بعد افغان طالبان نے جوابی کارروائی کے طور پر سرحدی علاقوں میں آپریشن شروع کیا۔</p>
<p>پاکستانی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان نے بدھ کی صبح جنوبی قندھار کے علاقے اسپن بولدک کے قریب سرحد پار سے دو بڑی فوجی چوکیوں پر حملہ کیا، تاہم دونوں حملوں کو پسپا کر دیا گیا۔</p>
<p>فوجی ترجمان کے مطابق حملوں میں کم از کم 20 طالبان جنگجو مارے گئے، جبکہ شمال مغربی سرحد پر ہونے والی رات بھر کی جھڑپوں میں مزید 30 جنگجو ہلاک کیے جانے کی اطلاع ہے۔</p>
<p>فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا یہ حملے ایسے گاؤں سے کیے گئے جو دونوں ممالک میں تقسیم ہیں اور شہری آبادی کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔</p>
<p>افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام لگایا کہ پاکستانی فورسز نے  ایک بار پھر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے، جن میں 15 شہری جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔</p>
<p>افغان حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی بڑی تعداد مارٹر فائر کے نتیجے میں ہوئی جب کہ پاکستانی فوج نے افغان الزامات کو جھوٹا اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد نے اپنے نقصانات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم گزشتہ ہفتے کے ابتدائی تصادم میں 23 پاکستانی فوجیوں کی شہادت کی تصدیق کی گئی تھی۔</p>
<p>سرحدی علاقوں میں صورتحال تاحال کشیدہ ہے، اسپن بولدک اور چمن کے مکینوں نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران گھروں پر گولہ باری ہوئی، کاروبار بند ہوگئے اور شہریوں نے نقل مکانی شروع کر دی۔</p>
<p>اسی دوران خیبرپختونخوا کے شہر پشاور میں ایک علیحدہ واقعے میں شدت پسند تنظیم  اتحاد المجاہدین نے ایک چیک پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں سات پاکستانی اہلکار شہید ہوگئے۔</p>
<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا کہ افغان طالبان کو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت سے باز رکھنے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔</p>
<p>اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں تربیت یافتہ ہے اور کابل حکومت کے زیرِ سایہ سرگرم عمل ہے، جبکہ افغان طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے افغانستان میں ہونے والے دھماکے اس وقت پیش آئے جب طالبان کے اعلیٰ سفارت کار بھارت کے دورے پر تھے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278190</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 18:42:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پیرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/VScQ4KM5cyE/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/VScQ4KM5cyE/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=VScQ4KM5cyE"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
