<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 06:33:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 06:33:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیرخزانہ کی آئی ایم ایف کے ڈپٹی چیف سے ملاقات، استحکام و اصلاحات پر عزم برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278159/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے جاری سالانہ اجلاسوں کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائیجل کلارک کے ساتھ ایک مثبت اور نتیجہ خیز ملاقات کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنے اور ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے پاکستان کے پروگرام کی کارکردگی پر آئی ایم ایف کے اعتماد  کو سراہا اور حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ استحکام اور اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے دوسرے جائزے اور آر ایس ایف کے پہلے جائزے میں تعاون پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ جلد اسٹاف لیول معاہدہ طے پا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر آئی ایم ایف کی جانب سے اظہارِ تعزیت اور ہمدردی پر بھی شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے بعد، آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان ای ایف ایف) کے تحت دوسرے جائزے اور آر ایس ایف کے تحت پہلے جائزے پر اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پاگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے اختتام پر جاری کردہ بیان میں کہا گیااسٹاف لیول معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوسرے روز اعلیٰ سطح ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جن میں امریکی حکومت، ورلڈ بینک، سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ (ایس ایف ڈی) اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے نمائندوں کے ساتھ اہم ملاقاتیں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ نے وائٹ ہاؤس میں بین الاقوامی اقتصادی تعلقات کے لیے امریکی صدر کے خصوصی معاون ایمری کاکس، جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے سینئر ڈائریکٹر رکی گل اور اقتصادی مشاورتی کونسل کے قائم مقام چیئرمین پیئر یارد سے نتیجہ خیز ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے جولائی میں امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹ نِک اور یو ایس ٹریڈ رپریزنٹیٹو کی سفیر سارہ گریئر کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تجارت پر ابھرتے ہوئے اتفاقِ رائے کو ایک وسیع تر معاشی شراکت داری میں بدلنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کا مرکز توانائی، معدنیات، زراعت، ٹیکنالوجی/آئی ٹی، اور ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ (ایس ایف ڈی) کے سی ای او ہز ایکسی لینسی سلطان عبدالرحمٰن المرشَد سے بھی ملاقات کی، جس میں انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے عزم کو دہرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سعودی آئل فیسلٹی پر ایس ایف ڈی کا شکریہ ادا کیا اور حیدرآباد-سکھر موٹروے (ایم-6)، مین لائن-1 (ایم ایل-1)، ہنر مندی کے فروغ اور آئی ٹی انفرااسٹرکچر سمیت اہم ترقیاتی منصوبوں پر مزید تعاون کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے پاکستان کے ڈیجیٹلائزیشن ایجنڈے کے لیے ایس ایف ڈی کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کا خیر مقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی-24 وزرائے خزانہ و گورنرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے معاشی استحکام کو اجاگر کیا جو ٹیکس نظام، توانائی شعبے اور سرکاری اداروں (ایس او ایز) میں ساختی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے علاقائی تجارتی راہداریوں کی اہمیت اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے جیریز انٹرنیشنل کی جانب سے منعقدہ ایک گول میز اجلاس میں ممتاز ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے بھی تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شرکاء کو پاکستان کے معاشی امکانات، مالی و مانیٹری پالیسی کی پیشرفت، بیرونی شعبے کی صورتحال اور آئی ایم ایف سے جاری روابط کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے، نجکاری کے اقدامات اور برآمدات کے فروغ کے لیے حکومت کی ٹیرف پالیسی پر بھی روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں ورلڈ بینک کے ریجنل نائب صدر برائے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان عثمان دیون سے علیحدہ ملاقات میں وزیرِ خزانہ اورنگزیب نے نئے شروع کیے گئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر مؤثر عملدرآمد کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومتوں کی مکمل مشاورت سے ایک جامع نفاذی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی آئی ڈی اے سہولتوں تک زیادہ سے زیادہ رسائی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت ایک طویل المدتی سیلاب سے بچاؤ کے پروگرام کے لیے تعاون کی درخواست کی تاکہ موسمیاتی لچک کو مضبوط کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم ملاقات میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے مشرق بینک کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد عبدالعال اور بینک کی اعلیٰ انتظامیہ سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور اس عالمی شہرت یافتہ مالیاتی ادارے کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کا ذکر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مشرق بینک کی باضابطہ طور پر پاکستانی مارکیٹ میں شمولیت ایک محرک کا کردار ادا کرے گی، جو ملک کے مالیاتی نظام کو مزید مضبوط کرے گی اور اختراعات  کو فروغ دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بینک کی انتظامیہ کو کمرشل لانچ کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور حکومت کے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کے مالیاتی شعبے کی طویل المدتی ترقی اور کامیابی کے لیے ایک معاون پالیسی ماحول کو فروغ دیتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے جاری سالانہ اجلاسوں کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائیجل کلارک کے ساتھ ایک مثبت اور نتیجہ خیز ملاقات کی۔</strong></p>
<p>بدھ کو وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنے اور ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے پاکستان کے پروگرام کی کارکردگی پر آئی ایم ایف کے اعتماد  کو سراہا اور حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ استحکام اور اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے دوسرے جائزے اور آر ایس ایف کے پہلے جائزے میں تعاون پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ جلد اسٹاف لیول معاہدہ طے پا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر آئی ایم ایف کی جانب سے اظہارِ تعزیت اور ہمدردی پر بھی شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>ملاقات کے بعد، آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان ای ایف ایف) کے تحت دوسرے جائزے اور آر ایس ایف کے تحت پہلے جائزے پر اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پاگیا۔</p>
<p>بدھ کو آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے اختتام پر جاری کردہ بیان میں کہا گیااسٹاف لیول معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوسرے روز اعلیٰ سطح ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جن میں امریکی حکومت، ورلڈ بینک، سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ (ایس ایف ڈی) اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے نمائندوں کے ساتھ اہم ملاقاتیں شامل تھیں۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ خزانہ نے وائٹ ہاؤس میں بین الاقوامی اقتصادی تعلقات کے لیے امریکی صدر کے خصوصی معاون ایمری کاکس، جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے سینئر ڈائریکٹر رکی گل اور اقتصادی مشاورتی کونسل کے قائم مقام چیئرمین پیئر یارد سے نتیجہ خیز ملاقات کی۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے جولائی میں امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹ نِک اور یو ایس ٹریڈ رپریزنٹیٹو کی سفیر سارہ گریئر کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تجارت پر ابھرتے ہوئے اتفاقِ رائے کو ایک وسیع تر معاشی شراکت داری میں بدلنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>گفتگو کا مرکز توانائی، معدنیات، زراعت، ٹیکنالوجی/آئی ٹی، اور ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے پر تھا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ (ایس ایف ڈی) کے سی ای او ہز ایکسی لینسی سلطان عبدالرحمٰن المرشَد سے بھی ملاقات کی، جس میں انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے عزم کو دہرایا۔</p>
<p>انہوں نے سعودی آئل فیسلٹی پر ایس ایف ڈی کا شکریہ ادا کیا اور حیدرآباد-سکھر موٹروے (ایم-6)، مین لائن-1 (ایم ایل-1)، ہنر مندی کے فروغ اور آئی ٹی انفرااسٹرکچر سمیت اہم ترقیاتی منصوبوں پر مزید تعاون کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے پاکستان کے ڈیجیٹلائزیشن ایجنڈے کے لیے ایس ایف ڈی کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کا خیر مقدم کیا۔</p>
<p>جی-24 وزرائے خزانہ و گورنرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے معاشی استحکام کو اجاگر کیا جو ٹیکس نظام، توانائی شعبے اور سرکاری اداروں (ایس او ایز) میں ساختی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے علاقائی تجارتی راہداریوں کی اہمیت اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون پر بھی زور دیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے جیریز انٹرنیشنل کی جانب سے منعقدہ ایک گول میز اجلاس میں ممتاز ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے بھی تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>انہوں نے شرکاء کو پاکستان کے معاشی امکانات، مالی و مانیٹری پالیسی کی پیشرفت، بیرونی شعبے کی صورتحال اور آئی ایم ایف سے جاری روابط کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے، نجکاری کے اقدامات اور برآمدات کے فروغ کے لیے حکومت کی ٹیرف پالیسی پر بھی روشنی ڈالی۔</p>
<p>علاوہ ازیں ورلڈ بینک کے ریجنل نائب صدر برائے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان عثمان دیون سے علیحدہ ملاقات میں وزیرِ خزانہ اورنگزیب نے نئے شروع کیے گئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر مؤثر عملدرآمد کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومتوں کی مکمل مشاورت سے ایک جامع نفاذی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی آئی ڈی اے سہولتوں تک زیادہ سے زیادہ رسائی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت ایک طویل المدتی سیلاب سے بچاؤ کے پروگرام کے لیے تعاون کی درخواست کی تاکہ موسمیاتی لچک کو مضبوط کیا جا سکے۔</p>
<p>ایک اہم ملاقات میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے مشرق بینک کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد عبدالعال اور بینک کی اعلیٰ انتظامیہ سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور اس عالمی شہرت یافتہ مالیاتی ادارے کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کا ذکر کیا گیا۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مشرق بینک کی باضابطہ طور پر پاکستانی مارکیٹ میں شمولیت ایک محرک کا کردار ادا کرے گی، جو ملک کے مالیاتی نظام کو مزید مضبوط کرے گی اور اختراعات  کو فروغ دے گی۔</p>
<p>انہوں نے بینک کی انتظامیہ کو کمرشل لانچ کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور حکومت کے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کے مالیاتی شعبے کی طویل المدتی ترقی اور کامیابی کے لیے ایک معاون پالیسی ماحول کو فروغ دیتی رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278159</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 10:34:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/15103023ded4227.webp" type="image/webp" medium="image" height="854" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/15103023ded4227.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
