<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مدغاسکر میں ہنگامے، صدر اینڈری راجویلینا کا اقتدار چھوڑنے سے انکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278150/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مدغاسکر میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، جہاں صدر اینڈری راجویلینا نے قومی اسمبلی تحلیل کر کے خود کو عہدے سے ہٹانے کیلئے ووٹنگ سے روک دیا، جبکہ دارالحکومت میں ہزاروں افراد ان کے استعفے کے مطالبے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ملازمین، ٹریڈ یونین نمائندوں اور نوجوانوں کی قیادت میں جاری یہ مظاہرے اب فوج اور سیکیورٹی فورسز کے بعض ارکان کی حمایت بھی حاصل کر چکے ہیں، جنہوں نے صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجویلینا، جو 2009 میں فوجی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں اقتدار میں آئے تھے، نے  خطاب میں کہا کہ وہ ملک نہیں چھوڑ رہے بلکہ  محفوظ مقام پر ہیں اور بحران کے حل کے لیے  مشن پر ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور ملک کو  تباہی سے بچانے کے لیے پرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی اور بجلی بحران کے ستائے مظاہرین نے  راجویلینا اور میکرون باہر کے نعروں کے ساتھ فرانس پر مداخلت کے الزامات عائد کیے، تاہم پیرس نے اس کی تصدیق سے انکار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے مطابق احتجاج کے آغاز سے اب تک کم از کم 22 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ صدر نے اس تعداد سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ  12 افراد لٹیرے تھے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی ماہرین کے مطابق مدغاسکر میں جاری کشیدگی ملک کے لیے ایک نئے سیاسی بحران اور فوجی مداخلت کے خطرے کو بڑھا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مدغاسکر میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، جہاں صدر اینڈری راجویلینا نے قومی اسمبلی تحلیل کر کے خود کو عہدے سے ہٹانے کیلئے ووٹنگ سے روک دیا، جبکہ دارالحکومت میں ہزاروں افراد ان کے استعفے کے مطالبے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔</strong></p>
<p>سرکاری ملازمین، ٹریڈ یونین نمائندوں اور نوجوانوں کی قیادت میں جاری یہ مظاہرے اب فوج اور سیکیورٹی فورسز کے بعض ارکان کی حمایت بھی حاصل کر چکے ہیں، جنہوں نے صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>راجویلینا، جو 2009 میں فوجی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں اقتدار میں آئے تھے، نے  خطاب میں کہا کہ وہ ملک نہیں چھوڑ رہے بلکہ  محفوظ مقام پر ہیں اور بحران کے حل کے لیے  مشن پر ہیں ۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور ملک کو  تباہی سے بچانے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p>پانی اور بجلی بحران کے ستائے مظاہرین نے  راجویلینا اور میکرون باہر کے نعروں کے ساتھ فرانس پر مداخلت کے الزامات عائد کیے، تاہم پیرس نے اس کی تصدیق سے انکار کیا۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے مطابق احتجاج کے آغاز سے اب تک کم از کم 22 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ صدر نے اس تعداد سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ  12 افراد لٹیرے تھے ۔</p>
<p>سیاسی ماہرین کے مطابق مدغاسکر میں جاری کشیدگی ملک کے لیے ایک نئے سیاسی بحران اور فوجی مداخلت کے خطرے کو بڑھا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278150</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Oct 2025 19:40:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/141935182d59627.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/141935182d59627.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
