<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 14:20:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 14:20:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسابقت کے لیے نظام کو علیحدہ کرنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278126/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی حالیہ رپورٹ جو ایل این جی سیکٹر میں مقابلے کی صورتحال پر مبنی ہے، نے ایک اہم بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے , وہ بحث جو صرف درآمد شدہ گیس تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی گیس مارکیٹ کی بنیادوں تک جاتی ہے۔  رپورٹ نے مارکیٹ کی لبرلائزیشن کے لیے واضح دلائل پیش کیے ہیں اور ایک ایسا مساوی میدان قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جہاں نجی اور سرکاری ادارے یکساں طور پر قابلِ اعتماد اور سستی توانائی فراہم کرنے کے لیے مقابلہ کر سکیں۔ پیغام بالکل واضح ہے: ملک کی گیس مارکیٹ، جو کہ سرکاری اداروں کے زیرِ اثر ہے، کو ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی  (ایس ایس جی سی) کا غلبہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے گیس کے منظر نامے پر حاوی رہا ہے۔ یہ دونوں کمپنیاں پوری ویلیو چین پر قابض ہیں، ملک میں تقریباً تمام گیس لے جانے والے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کی ملکیت انہی کے پاس ہے، اگرچہ اس عمودی طور پر مربوط ماڈل نے ایک وقت میں پیمانے کی وجہ سے کارکردگی اور مرکزی کوآرڈینیشن فراہم کی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس نے مقابلے کو محدود کر دیا ہے اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ پائپ لائنز اور ٹرمینلز تک فریق ثالث کی محدود رسائی، پیچیدہ لائسنسنگ کے طریقہ کار، اور ٹیرف کی سختیوں نے مل کر نئے کاروباری اداروں کو مارکیٹ سے دور رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ مثال کے طور پر ایس ایس جی سی کی ابتداء ایک ایسے وقت سے ہوتی ہے جب گیس کا شعبہ ابھی تک انٹرپرینیوریَل انرجی (کاروباری سرگرمی) اور بین الاقوامی تعاون کے لیے کھلا تھا۔ 1954 میں، سوئی گیس ٹرانسمیشن کمپنی (ایس جی ٹی سی) قدرتی گیس خریدنے اور منتقل کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی، جسے انٹرنیشنل بینک فار رِیکَنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے قرضے اور پاکستان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن جیسی اداروں کی مقامی سرمایہ کاری سے مالی امداد فراہم کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1955 تک 347 میل طویل پائپ لائن کے ذریعے کراچی کو گیس فراہم کی جا رہی تھی اور کمپنی کراچی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہو چکی تھی۔ ایس ایس جی سی  جیسا کہ یہ آج موجود ہے، وہ صرف 1989 میں ایس جی ٹی سی کراچی گیس کمپنی اور انڈس گیس کمپنی کے انضمام (merger) کے ذریعے وجود میں آئی، یہ ایک ایسا دور تھا جب استحکام کو ترقی کا مترادف سمجھا جاتا تھا، یہ تاریخی پس منظر اہم ہے: سیکٹر کا ڈھانچہ پہلے بھی ارتقاء پذیر ہو چکا ہے اور دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو کچھ سی سی پی  اب تجویز کر رہا ہے  اور جس پر پاکستان کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے وہ ہے ترسیل اور تقسیم کے آپریشنز کو الگ کرنا، اس اصلاحات کا مطلب ریاست کے بنیادی اثاثوں کی نجکاری یا توانائی کی حفاظت کو ترک کرنا نہیں ہو گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پائپ لائن کی ملکیت اور آپریشنز کے قدرتی اجارہ داری والے افعال کو گیس کی فروخت اور مارکیٹنگ کے مسابقتی کاروبار سے علیحدہ کر دیا جائے۔ اس طرح کی فعال اور قانونی علیحدگی مفادات کے تصادم کو ختم کرے گی، بنیادی ڈھانچے تک شفاف اور غیر امتیازی رسائی کو یقینی بنائے گی اور متعدد اداروں کو صارفین کو زیادہ مؤثر طریقے سے خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مثالیں بھی قابلِ مطالعہ ہیں۔ جاپان کی گیس مارکیٹ کی لبرلائزیشن کا تجربہ ایک متاثر کن متوازی پیش کرتا ہے۔ 1995 میں اصلاحات سے پہلے، جاپان کی ریٹیل گیس مارکیٹ علاقائی اجارہ داریوں پر مشتمل تھی، جس کی حمایت ٹیرف کے ضوابط اور زیادہ مقررہ اخراجات کرتے تھے۔ دو دہائیوں کے دوران، ملک نے آہستہ آہستہ اپنی مارکیٹ کو غیر ریگولیٹ کیا جو 2015 کے گیس بزنس ایکٹ کے تحت عروج پر پہنچی، جس نے علاقائی اجارہ داریوں کو ختم کیا، ایل این جی ٹرمینلز تک تھرڈ پارٹی رسائی ممکن بنائی اور 2022 تک پائپ لائن آپریشنز کی قانونی علیحدگی لازمی قرار دی۔نتیجہ ایک زیادہ متحرک، شفاف اور مقابلہ بازی پر مبنی مارکیٹ کی صورت میں سامنے آیا، جس نے لاگتیں کم کیں بغیر بھروسے کو متاثر کیے۔ آج پاکستان کا گیس شعبہ کئی حوالوں سے جاپان کے اصلاحات سے پہلے کے ڈھانچے سے مماثل ہے: مرکوز ملکیت، اعلی سرمایہ جاتی رکاوٹیں، اور محدود بنیادی ڈھانچے تک رسائی۔ سبق واضح ہیں، تدریجی غیر ریگولیشن، ایک واضح قانونی فریم ورک، اور آپریشنز کی علیحدگی پائیدار اصلاحات کے لیے ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے فوری ترجیحات میں تھرڈ پارٹی رسائی کے قواعد کو مضبوط اور نافذ کرنا، منظوریوں کے لیے ایک ون-ونڈو سسٹم قائم کرنا، اور مقابلے کو فروغ دینے کے لیے اوگرا آرڈیننس میں ترامیم شامل ہونی چاہئیں۔ حکومت کا کردار مارکیٹ میں حصہ لینے والے سے بدل کر مارکیٹ کو فعال کرنے والے  کا ہو جائے گا ، یعنی منصفانہ مقابلے کے اصول وضع کرنا، حفاظت اور بھروسے کو یقینی بنانا، اور ایک شفاف قیمتوں کے طریقہ کار کی نگرانی کرنا۔ آپریشنز کی علیحدگی سے طویل مدتی غیر مؤثر کارکردگی کو بھی حل کرنے میں مدد ملے گی، جو سرکلر ڈیبٹ میں شامل ہوتی ہے، کیونکہ اس سے ویلیو چین میں لاگت کی شفافیت اور جوابدہی سامنے آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظاہر ہے، لبرلائزیشن راتوں رات ہونے والا عمل نہیں ہے۔ اس کے لیے محتاط ترتیب، عبوری حفاظتی اقدامات اور پالیسی میں تسلسل کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کو یقین دہانی کرائی جا سکے۔ پھر بھی متبادل  ایک جامد، بند نظام جو غیر مؤثر اور مالی دباؤ سے متاثر ہو کہیں زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔ لہٰذا سی سی پی کی سفارشات صرف تسلیم کرنے کے قابل نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کے لیے ایک واضح روڈ میپ کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ازسرنو مرتب شدہ گیس مارکیٹ، جو مسابقتی رسائی اور شفاف قواعد و ضوابط پر مبنی ہو، نہ صرف نئی سرمایہ کاری کو متوجہ کرے گی بلکہ سپلائی چین میں جدت کو بھی فروغ دے گی، چاہے وہ ورچوئل پائپ لائنز ہوں یا دور دراز علاقوں کے لیے چھوٹے پیمانے پر ایل این جی کی تقسیم۔ لہٰذا گیس کے شعبے کی اصلاح صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ توانائی کے حوالے سے محفوظ پاکستان کے لیے ادارہ جاتی ضرورت بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان کی گیس کی داستان سات دہائیاں پہلے سوئی کو کراچی سے جوڑنے کے جرات مند وژن کے ساتھ شروع ہوئی تھی، تو اگلا باب نیٹ ورک کو مسابقت کے لیے کھولنے کے بارے میں ہونا چاہیے۔ بنیادی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے، اب ضرورت اس کی ہے کہ مارکیٹ کو سانس لینے دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی حالیہ رپورٹ جو ایل این جی سیکٹر میں مقابلے کی صورتحال پر مبنی ہے، نے ایک اہم بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے , وہ بحث جو صرف درآمد شدہ گیس تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی گیس مارکیٹ کی بنیادوں تک جاتی ہے۔  رپورٹ نے مارکیٹ کی لبرلائزیشن کے لیے واضح دلائل پیش کیے ہیں اور ایک ایسا مساوی میدان قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جہاں نجی اور سرکاری ادارے یکساں طور پر قابلِ اعتماد اور سستی توانائی فراہم کرنے کے لیے مقابلہ کر سکیں۔ پیغام بالکل واضح ہے: ملک کی گیس مارکیٹ، جو کہ سرکاری اداروں کے زیرِ اثر ہے، کو ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی  (ایس ایس جی سی) کا غلبہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے گیس کے منظر نامے پر حاوی رہا ہے۔ یہ دونوں کمپنیاں پوری ویلیو چین پر قابض ہیں، ملک میں تقریباً تمام گیس لے جانے والے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کی ملکیت انہی کے پاس ہے، اگرچہ اس عمودی طور پر مربوط ماڈل نے ایک وقت میں پیمانے کی وجہ سے کارکردگی اور مرکزی کوآرڈینیشن فراہم کی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس نے مقابلے کو محدود کر دیا ہے اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ پائپ لائنز اور ٹرمینلز تک فریق ثالث کی محدود رسائی، پیچیدہ لائسنسنگ کے طریقہ کار، اور ٹیرف کی سختیوں نے مل کر نئے کاروباری اداروں کو مارکیٹ سے دور رکھا ہے۔</p>
<p>تاہم ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ مثال کے طور پر ایس ایس جی سی کی ابتداء ایک ایسے وقت سے ہوتی ہے جب گیس کا شعبہ ابھی تک انٹرپرینیوریَل انرجی (کاروباری سرگرمی) اور بین الاقوامی تعاون کے لیے کھلا تھا۔ 1954 میں، سوئی گیس ٹرانسمیشن کمپنی (ایس جی ٹی سی) قدرتی گیس خریدنے اور منتقل کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی، جسے انٹرنیشنل بینک فار رِیکَنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے قرضے اور پاکستان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن جیسی اداروں کی مقامی سرمایہ کاری سے مالی امداد فراہم کی گئی تھی۔</p>
<p>1955 تک 347 میل طویل پائپ لائن کے ذریعے کراچی کو گیس فراہم کی جا رہی تھی اور کمپنی کراچی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہو چکی تھی۔ ایس ایس جی سی  جیسا کہ یہ آج موجود ہے، وہ صرف 1989 میں ایس جی ٹی سی کراچی گیس کمپنی اور انڈس گیس کمپنی کے انضمام (merger) کے ذریعے وجود میں آئی، یہ ایک ایسا دور تھا جب استحکام کو ترقی کا مترادف سمجھا جاتا تھا، یہ تاریخی پس منظر اہم ہے: سیکٹر کا ڈھانچہ پہلے بھی ارتقاء پذیر ہو چکا ہے اور دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔</p>
<p>جو کچھ سی سی پی  اب تجویز کر رہا ہے  اور جس پر پاکستان کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے وہ ہے ترسیل اور تقسیم کے آپریشنز کو الگ کرنا، اس اصلاحات کا مطلب ریاست کے بنیادی اثاثوں کی نجکاری یا توانائی کی حفاظت کو ترک کرنا نہیں ہو گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پائپ لائن کی ملکیت اور آپریشنز کے قدرتی اجارہ داری والے افعال کو گیس کی فروخت اور مارکیٹنگ کے مسابقتی کاروبار سے علیحدہ کر دیا جائے۔ اس طرح کی فعال اور قانونی علیحدگی مفادات کے تصادم کو ختم کرے گی، بنیادی ڈھانچے تک شفاف اور غیر امتیازی رسائی کو یقینی بنائے گی اور متعدد اداروں کو صارفین کو زیادہ مؤثر طریقے سے خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائے گی۔</p>
<p>بین الاقوامی مثالیں بھی قابلِ مطالعہ ہیں۔ جاپان کی گیس مارکیٹ کی لبرلائزیشن کا تجربہ ایک متاثر کن متوازی پیش کرتا ہے۔ 1995 میں اصلاحات سے پہلے، جاپان کی ریٹیل گیس مارکیٹ علاقائی اجارہ داریوں پر مشتمل تھی، جس کی حمایت ٹیرف کے ضوابط اور زیادہ مقررہ اخراجات کرتے تھے۔ دو دہائیوں کے دوران، ملک نے آہستہ آہستہ اپنی مارکیٹ کو غیر ریگولیٹ کیا جو 2015 کے گیس بزنس ایکٹ کے تحت عروج پر پہنچی، جس نے علاقائی اجارہ داریوں کو ختم کیا، ایل این جی ٹرمینلز تک تھرڈ پارٹی رسائی ممکن بنائی اور 2022 تک پائپ لائن آپریشنز کی قانونی علیحدگی لازمی قرار دی۔نتیجہ ایک زیادہ متحرک، شفاف اور مقابلہ بازی پر مبنی مارکیٹ کی صورت میں سامنے آیا، جس نے لاگتیں کم کیں بغیر بھروسے کو متاثر کیے۔ آج پاکستان کا گیس شعبہ کئی حوالوں سے جاپان کے اصلاحات سے پہلے کے ڈھانچے سے مماثل ہے: مرکوز ملکیت، اعلی سرمایہ جاتی رکاوٹیں، اور محدود بنیادی ڈھانچے تک رسائی۔ سبق واضح ہیں، تدریجی غیر ریگولیشن، ایک واضح قانونی فریم ورک، اور آپریشنز کی علیحدگی پائیدار اصلاحات کے لیے ناگزیر ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے لیے فوری ترجیحات میں تھرڈ پارٹی رسائی کے قواعد کو مضبوط اور نافذ کرنا، منظوریوں کے لیے ایک ون-ونڈو سسٹم قائم کرنا، اور مقابلے کو فروغ دینے کے لیے اوگرا آرڈیننس میں ترامیم شامل ہونی چاہئیں۔ حکومت کا کردار مارکیٹ میں حصہ لینے والے سے بدل کر مارکیٹ کو فعال کرنے والے  کا ہو جائے گا ، یعنی منصفانہ مقابلے کے اصول وضع کرنا، حفاظت اور بھروسے کو یقینی بنانا، اور ایک شفاف قیمتوں کے طریقہ کار کی نگرانی کرنا۔ آپریشنز کی علیحدگی سے طویل مدتی غیر مؤثر کارکردگی کو بھی حل کرنے میں مدد ملے گی، جو سرکلر ڈیبٹ میں شامل ہوتی ہے، کیونکہ اس سے ویلیو چین میں لاگت کی شفافیت اور جوابدہی سامنے آئے گی۔</p>
<p>ظاہر ہے، لبرلائزیشن راتوں رات ہونے والا عمل نہیں ہے۔ اس کے لیے محتاط ترتیب، عبوری حفاظتی اقدامات اور پالیسی میں تسلسل کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کو یقین دہانی کرائی جا سکے۔ پھر بھی متبادل  ایک جامد، بند نظام جو غیر مؤثر اور مالی دباؤ سے متاثر ہو کہیں زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔ لہٰذا سی سی پی کی سفارشات صرف تسلیم کرنے کے قابل نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کے لیے ایک واضح روڈ میپ کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ایک ازسرنو مرتب شدہ گیس مارکیٹ، جو مسابقتی رسائی اور شفاف قواعد و ضوابط پر مبنی ہو، نہ صرف نئی سرمایہ کاری کو متوجہ کرے گی بلکہ سپلائی چین میں جدت کو بھی فروغ دے گی، چاہے وہ ورچوئل پائپ لائنز ہوں یا دور دراز علاقوں کے لیے چھوٹے پیمانے پر ایل این جی کی تقسیم۔ لہٰذا گیس کے شعبے کی اصلاح صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ توانائی کے حوالے سے محفوظ پاکستان کے لیے ادارہ جاتی ضرورت بھی ہے۔</p>
<p>اگر پاکستان کی گیس کی داستان سات دہائیاں پہلے سوئی کو کراچی سے جوڑنے کے جرات مند وژن کے ساتھ شروع ہوئی تھی، تو اگلا باب نیٹ ورک کو مسابقت کے لیے کھولنے کے بارے میں ہونا چاہیے۔ بنیادی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے، اب ضرورت اس کی ہے کہ مارکیٹ کو سانس لینے دیا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278126</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Oct 2025 12:47:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/14124315682a98f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/14124315682a98f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
