<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:25:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:25:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر خزانہ اور آئی ایم ایف کے جہاد ازعور کی ملاقات، ای ایف ایف پیش رفت کا جائزہ، مالیاتی نظم و ضبط پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278117/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشرقِ وسطیٰ و وسطی ایشیاکے ڈائریکٹر جہاد ازعور سے ملاقات کی۔ دونوں فریقین نے پاکستان کے جاری اصلاحاتی ایجنڈے اور میکرو اکنامک استحکام کے تسلسل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے دوسرے جائزے کے تحت ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور موجودہ اصلاحاتی رفتار کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب جو 6 روزہ سرکاری دورے پر امریکہ میں موجود ہیں نے واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر اعلیٰ سطح متعدد ملاقاتیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ اور ان کے وفد نے آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جہاد ازعور اور ان کی ٹیم کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا اور اصلاحات کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں ای ایف ایف کے دوسرے جائزے کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور میکرو اکنامک نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا محمد اورنگزیب نے کامن ویلتھ کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں بھی شرکت کی جہاں انہوں نے ایک مضبوط اور خوشحال کامن ویلتھ کے قیام کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کامن ویلتھ انفرااسٹرکچر اینڈ فنانشل ریزیلینس حب کے قیام، نیز پیئر ریویو اور کیپیسٹی بلڈنگ کے لیے ٹیکنیکل اسسٹنس فنڈ کے اجرا کی حمایت کا اظہار کیا۔ وزیرِ خزانہ نے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی مالیاتی معاونت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ جیسے نظام کو فوری طور پر فعال بنانے کی ضرورت پر بھی تاکید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ملاقات میں محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک گروپ کے سینئر منیجنگ ڈائریکٹر ایکسل وان ٹروٹسنبرگ سے تفصیلی گفتگو کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے قومی ترقیاتی ایجنڈے کے لیے ورلڈ بینک کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی بحران پاکستان کے لیے بدستور ایک وجودی چیلنج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور ان میں کمی لانے کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات سے اتفاق کیا کہ مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اضافی وسائل کی فراہمی نہایت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں محمد اورنگزیب کے اعزاز میں یو ایس پاکستان بزنس کونسل (یو ایس پی بی سی) نے ایک اجلاس کا اہتمام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے شرکاء کو پاکستان کے معاشی اشاریوں میں مثبت رجحان سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبے کی ترقی معاشی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے اور زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکی حکام کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے کو اجاگر کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) اور کاروبار سے کاروبار (بی ٹو بی ) سطح پر باہمی روابط مزید مضبوط ہوں گے، خصوصاً معدنیات، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دواسازی کے شعبوں میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل وزیرِ خزانہ نے امریکی محکمۂ خزانہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے بین الاقوامی مالیات رابرٹ کیپ روتھ اور کاؤنسلر جوناتھن گرینسٹین سے  ملاقات کی۔ گفتگو کے دوران وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی مضبوط معاشی بنیادوں کو اجاگر کیا جو جاری آئی ایم ایف پروگرام سے مزید مستحکم ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا، جس کے نتیجے میں ٹیرف معاہدہ طے پایا اور امریکی محکمۂ خزانہ کے حکام کو پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی ریگولیشن سے متعلق حالیہ قانون سازی سے آگاہ کیا۔مزید برآں، وزیرِ خزانہ نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے تیل و گیس، معدنیات، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل وزیرِ خزانہ نے امریکی محکمۂ خزانہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے بین الاقوامی مالیات رابرٹ کیپ روتھ اور کاؤنسلر جوناتھن گرینسٹین سے ایک نتیجہ خیز ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کے دوران محمد اورنگزیب نے پاکستان کی مضبوط معاشی بنیادوں کو اجاگر کیا جو جاری آئی ایم ایف پروگرام سے مزید مستحکم ہوئی ہیں۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا جس کے نتیجے میں ٹیرف معاہدہ طے پایا اور محکمۂ خزانہ کے حکام کو پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی ریگولیشن سے متعلق حالیہ قانون سازی سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں وزیرِ خزانہ نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے تیل و گیس، معدنیات، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے سٹی بینک کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی جہاں انہوں نے پاکستان کے ساتھ سٹی بینک کے دیرینہ اشتراک کو سراہا اور اس کے مسلسل تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے مستحکم ہوتے معاشی منظرنامے کا جائزہ پیش کیا، جو جاری ساختی اصلاحات کے باعث ممکن ہوا ہے اور بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے خطے میں ڈیجیٹل اختراع اور مالیاتی خدمات کے مرکز کے طور پر بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا اور یقین دلایا کہ حکومت سٹی بینک کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشرقِ وسطیٰ و وسطی ایشیاکے ڈائریکٹر جہاد ازعور سے ملاقات کی۔ دونوں فریقین نے پاکستان کے جاری اصلاحاتی ایجنڈے اور میکرو اکنامک استحکام کے تسلسل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔</strong></p>
<p>فنانس ڈویژن کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے دوسرے جائزے کے تحت ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور موجودہ اصلاحاتی رفتار کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب جو 6 روزہ سرکاری دورے پر امریکہ میں موجود ہیں نے واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر اعلیٰ سطح متعدد ملاقاتیں کیں۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ اور ان کے وفد نے آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جہاد ازعور اور ان کی ٹیم کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی۔</p>
<p>دونوں فریقین نے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا اور اصلاحات کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں ای ایف ایف کے دوسرے جائزے کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور میکرو اکنامک نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔</p>
<p>دریں اثنا محمد اورنگزیب نے کامن ویلتھ کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں بھی شرکت کی جہاں انہوں نے ایک مضبوط اور خوشحال کامن ویلتھ کے قیام کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے کامن ویلتھ انفرااسٹرکچر اینڈ فنانشل ریزیلینس حب کے قیام، نیز پیئر ریویو اور کیپیسٹی بلڈنگ کے لیے ٹیکنیکل اسسٹنس فنڈ کے اجرا کی حمایت کا اظہار کیا۔ وزیرِ خزانہ نے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی مالیاتی معاونت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ جیسے نظام کو فوری طور پر فعال بنانے کی ضرورت پر بھی تاکید کی۔</p>
<p>ایک اور ملاقات میں محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک گروپ کے سینئر منیجنگ ڈائریکٹر ایکسل وان ٹروٹسنبرگ سے تفصیلی گفتگو کی۔</p>
<p>ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے قومی ترقیاتی ایجنڈے کے لیے ورلڈ بینک کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی بحران پاکستان کے لیے بدستور ایک وجودی چیلنج ہے۔</p>
<p>انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور ان میں کمی لانے کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات سے اتفاق کیا کہ مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اضافی وسائل کی فراہمی نہایت اہم ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں محمد اورنگزیب کے اعزاز میں یو ایس پاکستان بزنس کونسل (یو ایس پی بی سی) نے ایک اجلاس کا اہتمام کیا۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے شرکاء کو پاکستان کے معاشی اشاریوں میں مثبت رجحان سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبے کی ترقی معاشی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے اور زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ بھی کیا۔</p>
<p>انہوں نے امریکی حکام کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے کو اجاگر کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) اور کاروبار سے کاروبار (بی ٹو بی ) سطح پر باہمی روابط مزید مضبوط ہوں گے، خصوصاً معدنیات، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دواسازی کے شعبوں میں۔</p>
<p>اس سے قبل وزیرِ خزانہ نے امریکی محکمۂ خزانہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے بین الاقوامی مالیات رابرٹ کیپ روتھ اور کاؤنسلر جوناتھن گرینسٹین سے  ملاقات کی۔ گفتگو کے دوران وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی مضبوط معاشی بنیادوں کو اجاگر کیا جو جاری آئی ایم ایف پروگرام سے مزید مستحکم ہوئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا، جس کے نتیجے میں ٹیرف معاہدہ طے پایا اور امریکی محکمۂ خزانہ کے حکام کو پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی ریگولیشن سے متعلق حالیہ قانون سازی سے آگاہ کیا۔مزید برآں، وزیرِ خزانہ نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے تیل و گیس، معدنیات، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔</p>
<p>اس سے قبل وزیرِ خزانہ نے امریکی محکمۂ خزانہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے بین الاقوامی مالیات رابرٹ کیپ روتھ اور کاؤنسلر جوناتھن گرینسٹین سے ایک نتیجہ خیز ملاقات کی تھی۔</p>
<p>گفتگو کے دوران محمد اورنگزیب نے پاکستان کی مضبوط معاشی بنیادوں کو اجاگر کیا جو جاری آئی ایم ایف پروگرام سے مزید مستحکم ہوئی ہیں۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا جس کے نتیجے میں ٹیرف معاہدہ طے پایا اور محکمۂ خزانہ کے حکام کو پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی ریگولیشن سے متعلق حالیہ قانون سازی سے آگاہ کیا۔</p>
<p>مزید برآں وزیرِ خزانہ نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے تیل و گیس، معدنیات، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے سٹی بینک کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی جہاں انہوں نے پاکستان کے ساتھ سٹی بینک کے دیرینہ اشتراک کو سراہا اور اس کے مسلسل تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے مستحکم ہوتے معاشی منظرنامے کا جائزہ پیش کیا، جو جاری ساختی اصلاحات کے باعث ممکن ہوا ہے اور بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے خطے میں ڈیجیٹل اختراع اور مالیاتی خدمات کے مرکز کے طور پر بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا اور یقین دلایا کہ حکومت سٹی بینک کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278117</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Oct 2025 11:04:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسکریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/14105213e080cf5.webp" type="image/webp" medium="image" height="854" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/14105213e080cf5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
