<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 20:44:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 20:44:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف پروگرامز اور قرضوں کی تفصیلات کا جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278105/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت خزانہ کے ڈیٹ مینجمنٹ آفس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کو بتایا ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرضے اور واجبات 31 اگست 2025 تک بڑھ کر 92.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طویل اور درمیانی مدت کے قرضوں کا حصہ 89.1 ارب ڈالر ہے، جن میں کثیرالجہتی اداروں کے قرضے 42.58 ارب ڈالر اور دوطرفہ قرضے 21.82 ارب ڈالر شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کی کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں آئی ایم ایف کے پروگرامز، قرضوں اور گرانٹس کی تفصیلات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کو 2008 سے اب تک کے قرضوں، ان کے استعمال، واپسی اور سود کی ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے مشاہدہ کیا کہ قرض لینا اب قومی ضرورت کے بجائے ایک رواج بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں منصوبے قرض لے کر بنائے جاتے ہیں اور بعد میں انہی منصوبوں کو دوبارہ رہن رکھ کر مزید قرض حاصل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قرضے خود انحصاری کے لیے لیے جائیں، نہ کہ مقروض ہونے کے ایک مستقل چکر کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، اکنامک افیئرز ڈویژن (ای اے ڈی) اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا، خصوصاً ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری منصوبوں کے حوالے سے۔ کمیٹی نے راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان روڈ منصوبے (کیریک ٹرانچ I، II، III) میں 172 ارب روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ ملک کے سب سے بڑے پراکیورمنٹ اسکینڈلز میں سے ایک ہے اور متعلقہ دستاویزات مکمل فراہم نہ کرنے پر ایشیائی بینک اور این ایچ اے دونوں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے خطوط سمیت تمام مراسلات کمیٹی سے شیئر کیے جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ بدعنوانی کا معاملہ اب تک حل نہیں ہوا اور ایشیائی بینک کی منظوری تاحال منتظر ہے۔ این ایچ اے نے یقین دہانی کرائی کہ تمام وضاحتیں جلد فراہم کی جائیں گی تاکہ منصوبہ جون 2026 تک مکمل ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پبلک پراکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے ای پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای پیڈز) پر بریفنگ دی۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پنجاب میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے بلوچستان میں بھی اس نظام کے نفاذ کی ہدایت دی۔ تاہم کمیٹی نے انکشاف کیا کہ سندھ کے آبپاشی اور ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹس نے ستمبر 2025 میں ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کرکے ای ٹینڈرنگ سے استثنا حاصل کر لیا، جس کے تحت 30 ارب روپے کے منصوبے دستی طور پر ٹینڈر کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین نے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے سے تحقیقات کی سفارش کی۔ سینیٹر کامل آغا نے تجویز دی کہ پیپرا ای پیڈز سسٹم کو تمام صوبوں کے لیے قانونی طور پر لازمی قرار دینے کے لیے قانون سازی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ورلڈ بینک کے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ اور ایشیائی بینک کے سندھ روڈ سیکٹر پروجیکٹس کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے 200,000 گھریلو مستفیدین کے ڈیٹا میں تضادات اور غیر تصدیق شدہ اندراجات پر تشویش ظاہر کی اور 10 روز میں تصدیق شدہ فہرستیں طلب کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ہدایت دی کہ تمام غیر سرکاری تنظیموں کے معاہدے، ادائیگیاں اور سروس چارجز ظاہر کیے جائیں اور سروس فیس میں 50 فیصد کمی کی تجویز پیش کی۔ ساتھ ہی ٹھیکیداروں کی ٹیکس کٹوتیوں کی تفصیلات ایف بی آر سے تصدیق کرنے کی ہدایت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ روڈ سیکٹر منصوبوں کے حوالے سے کمیٹی نے بتایا کہ قرضہ 400 کلومیٹر سڑکوں کے لیے منظور ہوا تھا مگر 724 کلومیٹر تک توسیع کر دی گئی۔ بڈنگ پیٹرن میں مماثلت پر ممکنہ گٹھ جوڑ کے خدشات ظاہر کیے گئے۔ چیئرمین نے بولی دہندگان کا مکمل ریکارڈ، اہلیت کے معیار اور مالی حیثیت پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ آئندہ بولی کے عمل میں ای اے ڈی کے نمائندے شریک ہوں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت خزانہ کے ڈیٹ مینجمنٹ آفس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کو بتایا ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرضے اور واجبات 31 اگست 2025 تک بڑھ کر 92.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طویل اور درمیانی مدت کے قرضوں کا حصہ 89.1 ارب ڈالر ہے، جن میں کثیرالجہتی اداروں کے قرضے 42.58 ارب ڈالر اور دوطرفہ قرضے 21.82 ارب ڈالر شامل ہیں۔</strong></p>
<p>سینیٹ کی کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں آئی ایم ایف کے پروگرامز، قرضوں اور گرانٹس کی تفصیلات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کو 2008 سے اب تک کے قرضوں، ان کے استعمال، واپسی اور سود کی ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔</p>
<p>سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے مشاہدہ کیا کہ قرض لینا اب قومی ضرورت کے بجائے ایک رواج بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں منصوبے قرض لے کر بنائے جاتے ہیں اور بعد میں انہی منصوبوں کو دوبارہ رہن رکھ کر مزید قرض حاصل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قرضے خود انحصاری کے لیے لیے جائیں، نہ کہ مقروض ہونے کے ایک مستقل چکر کے لیے۔</p>
<p>اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، اکنامک افیئرز ڈویژن (ای اے ڈی) اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا، خصوصاً ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری منصوبوں کے حوالے سے۔ کمیٹی نے راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان روڈ منصوبے (کیریک ٹرانچ I، II، III) میں 172 ارب روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔</p>
<p>چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ ملک کے سب سے بڑے پراکیورمنٹ اسکینڈلز میں سے ایک ہے اور متعلقہ دستاویزات مکمل فراہم نہ کرنے پر ایشیائی بینک اور این ایچ اے دونوں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے خطوط سمیت تمام مراسلات کمیٹی سے شیئر کیے جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ بدعنوانی کا معاملہ اب تک حل نہیں ہوا اور ایشیائی بینک کی منظوری تاحال منتظر ہے۔ این ایچ اے نے یقین دہانی کرائی کہ تمام وضاحتیں جلد فراہم کی جائیں گی تاکہ منصوبہ جون 2026 تک مکمل ہو سکے۔</p>
<p>اجلاس میں پبلک پراکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے ای پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای پیڈز) پر بریفنگ دی۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پنجاب میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے بلوچستان میں بھی اس نظام کے نفاذ کی ہدایت دی۔ تاہم کمیٹی نے انکشاف کیا کہ سندھ کے آبپاشی اور ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹس نے ستمبر 2025 میں ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کرکے ای ٹینڈرنگ سے استثنا حاصل کر لیا، جس کے تحت 30 ارب روپے کے منصوبے دستی طور پر ٹینڈر کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>چیئرمین نے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے سے تحقیقات کی سفارش کی۔ سینیٹر کامل آغا نے تجویز دی کہ پیپرا ای پیڈز سسٹم کو تمام صوبوں کے لیے قانونی طور پر لازمی قرار دینے کے لیے قانون سازی کرے۔</p>
<p>اجلاس میں ورلڈ بینک کے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ اور ایشیائی بینک کے سندھ روڈ سیکٹر پروجیکٹس کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے 200,000 گھریلو مستفیدین کے ڈیٹا میں تضادات اور غیر تصدیق شدہ اندراجات پر تشویش ظاہر کی اور 10 روز میں تصدیق شدہ فہرستیں طلب کیں۔</p>
<p>کمیٹی نے ہدایت دی کہ تمام غیر سرکاری تنظیموں کے معاہدے، ادائیگیاں اور سروس چارجز ظاہر کیے جائیں اور سروس فیس میں 50 فیصد کمی کی تجویز پیش کی۔ ساتھ ہی ٹھیکیداروں کی ٹیکس کٹوتیوں کی تفصیلات ایف بی آر سے تصدیق کرنے کی ہدایت کی گئی۔</p>
<p>سندھ روڈ سیکٹر منصوبوں کے حوالے سے کمیٹی نے بتایا کہ قرضہ 400 کلومیٹر سڑکوں کے لیے منظور ہوا تھا مگر 724 کلومیٹر تک توسیع کر دی گئی۔ بڈنگ پیٹرن میں مماثلت پر ممکنہ گٹھ جوڑ کے خدشات ظاہر کیے گئے۔ چیئرمین نے بولی دہندگان کا مکمل ریکارڈ، اہلیت کے معیار اور مالی حیثیت پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ آئندہ بولی کے عمل میں ای اے ڈی کے نمائندے شریک ہوں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278105</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Oct 2025 08:51:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/14085007877a373.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/14085007877a373.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
