<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن تیسرے ہفتے میں داخل، معیشت اور عوامی خدمات پر دباؤ میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278101/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن پیر کے روز تیسرے ہفتے میں داخل ہو گیا جبکہ کانگریس میں اخراجات کے معاملے پر تعطل برقرار ہے اور اس بحران کے جلد خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، جس کے باعث اب تک ہزاروں ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاکھوں وفاقی ملازمین پہلے ہی جبری چھٹیوں پر بھیجے جا چکے ہیں جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکیوں پر عمل کرتے ہوئے جمہوری پارٹی پر دباؤ ڈالنے کے لیے سرکاری افرادی قوت میں کٹوتی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ وہ ریپبلکن فنڈنگ مطالبات ماننے پر مجبور ہو جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ فوجی اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرنے کا کوئی راستہ نکالیں گے، جنہیں پہلی بار اپنی ادائیگیوں کے بغیر رہنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس غیر یقینی صورت حال نے فوڈ بینکوں پر راشن لینے کے لیے فوجی اہلکاروں کی لمبی قطاریں لگا دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے یہ بھی انتباہ دیا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان سے منظور شدہ نومبر کے آخر تک حکومت کو فنڈ کرنے کی قرارداد کی حمایت سے انکار جاری رکھا، تو اس کے نتیجے میں جمہوری پارٹی سے منسلک سمجھے جانے والے ملازمین کی بڑے پیمانے پر برطرفیاں کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب صدر جے ڈی وینس نے ہفتے کے اختتام پر فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اگر ڈیموکریٹس نے پسپائی اختیار نہ کی تو انہیں مزید تکلیف دہ نتائج بھگتنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  ”جتنا زیادہ یہ معاملہ طول پکڑے گا، کٹوتیاں اتنی ہی گہری ہوں گی اور  واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ان میں سے کچھ کٹوتیاں بہت تکلیف دہ ثابت ہوں گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ انصاف کی جانب سے جمع کرائے گئے عدالتی دستاویزات کے مطابق جمعہ کے روز 4,000 سے زائد ملازمین کو برطرف کر دیا گیا، جن میں سب سے زیادہ متاثرہ ادارے امریکی خزانہ، صحت، تعلیم، اور ہاؤسنگ کے محکمے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری افرادی قوت میں یہ کمی ریپبلکن پارٹی کی دباؤ مہم کا حصہ ہے، جس کے ذریعے ڈیموکریٹس پر حکومت کی بحالی کے لیے ریپبلکن اقدامات کی حمایت پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سینیٹ کے رہنما چک شومر اور ایوان نمائندگان کے اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے اس دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطرفیاں عدالت میں کالعدم قرار دے دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 13 لاکھ حاضر سروس فوجی اہلکار بدھ کو اپنی پہلی تنخواہ سے محروم رہنے والے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹرونگ ہولڈ فوڈ پینٹری، جو فوجی خاندانوں کی معاونت کرنے والی ایک فلاحی تنظیم ہے، نے ٹائم میگزین کو بتایا کہ ”شٹ ڈاؤن کے آغاز سے اب تک ضرورت مندوں کی تعداد میں بے مثال اضافہ“ دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ وہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو ہدایت دیں گے کہ وہ ”تمام دستیاب فنڈز استعمال کر کے بدھ تک ہماری فوج کو ادائیگی یقینی بنائیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق پینٹاگون 8 ارب ڈالر کے تحقیق و ترقی کے فنڈز فوجی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے منتقل کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یہ اقدام قانونی ہے یا نہیں، تاہم دونوں جماعتوں کی جانب سے کوئی خاص مزاحمت سامنے نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن، جو 19 ستمبر سے ایوان کو تعطیلات پر رکھے ہوئے ہیں، پر یہ دباؤ ہے کہ وہ ایوان کے اراکین کو واپس بلا کر ایک علیحدہ بل پر ووٹنگ کرائیں تاکہ شٹ ڈاؤن کے دوران فوجی تنخواہیں جاری رہ سکیں، مگر وہ اس مطالبے کو مسترد کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ”ہم نے فوجیوں کو ادائیگی کے لیے متعدد بار ووٹ دیا ہے۔ ہم نے تین ہفتے قبل ایوان میں یہ بل منظور کیا تھا۔ اب گیند سینیٹ کے ڈیموکریٹس کے کورٹ میں ہے، بس اتنا ہی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل تنازع کا نقطہ یہ ہے کہ ریپبلکنز ڈیموکریٹس کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں کہ حکومت کی فنڈنگ قرارداد میں ایسی زبان شامل کی جائے جو 2 کروڑ 40 لاکھ امریکیوں کے لیے ختم ہوتی صحت بیمہ سبسڈی میں توسیع کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز کانگریس تعطیل پر تھی، جس کے باعث شٹ ڈاؤن کا چودھواں دن یقینی ہو گیا۔ اگرچہ ٹرمپ کا فوجی تنخواہیں یقینی بنانے کا اعلان خوش آئند قرار دیا گیا، لیکن اس سے دونوں فریقوں پر معاملہ حل کرنے کا دباؤ کم ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ منگل کو دوبارہ اجلاس میں آئے گی تاکہ حکومت کی بحالی کے لیے آٹھویں بار ووٹنگ کی جا سکے، مگر کامیابی کے امکانات کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران ائیرپورٹس پر تاخیر بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن ( ٹی ایس اے) کے اہلکار تنخواہ نہ ملنے کے باعث بیماری کے بہانے ڈیوٹی سے غیر حاضر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں اسمتھسونیئن انسٹیٹیوشن نے اتوار سے اپنا نیشنل زو اور عجائب گھر بند کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن پیر کے روز تیسرے ہفتے میں داخل ہو گیا جبکہ کانگریس میں اخراجات کے معاملے پر تعطل برقرار ہے اور اس بحران کے جلد خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، جس کے باعث اب تک ہزاروں ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔</strong></p>
<p>لاکھوں وفاقی ملازمین پہلے ہی جبری چھٹیوں پر بھیجے جا چکے ہیں جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکیوں پر عمل کرتے ہوئے جمہوری پارٹی پر دباؤ ڈالنے کے لیے سرکاری افرادی قوت میں کٹوتی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ وہ ریپبلکن فنڈنگ مطالبات ماننے پر مجبور ہو جائیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ فوجی اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرنے کا کوئی راستہ نکالیں گے، جنہیں پہلی بار اپنی ادائیگیوں کے بغیر رہنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس غیر یقینی صورت حال نے فوڈ بینکوں پر راشن لینے کے لیے فوجی اہلکاروں کی لمبی قطاریں لگا دی ہیں۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے یہ بھی انتباہ دیا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان سے منظور شدہ نومبر کے آخر تک حکومت کو فنڈ کرنے کی قرارداد کی حمایت سے انکار جاری رکھا، تو اس کے نتیجے میں جمہوری پارٹی سے منسلک سمجھے جانے والے ملازمین کی بڑے پیمانے پر برطرفیاں کی جائیں گی۔</p>
<p>نائب صدر جے ڈی وینس نے ہفتے کے اختتام پر فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اگر ڈیموکریٹس نے پسپائی اختیار نہ کی تو انہیں مزید تکلیف دہ نتائج بھگتنا ہوں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  ”جتنا زیادہ یہ معاملہ طول پکڑے گا، کٹوتیاں اتنی ہی گہری ہوں گی اور  واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ان میں سے کچھ کٹوتیاں بہت تکلیف دہ ثابت ہوں گی۔“</p>
<p>محکمہ انصاف کی جانب سے جمع کرائے گئے عدالتی دستاویزات کے مطابق جمعہ کے روز 4,000 سے زائد ملازمین کو برطرف کر دیا گیا، جن میں سب سے زیادہ متاثرہ ادارے امریکی خزانہ، صحت، تعلیم، اور ہاؤسنگ کے محکمے ہیں۔</p>
<p>سرکاری افرادی قوت میں یہ کمی ریپبلکن پارٹی کی دباؤ مہم کا حصہ ہے، جس کے ذریعے ڈیموکریٹس پر حکومت کی بحالی کے لیے ریپبلکن اقدامات کی حمایت پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p>تاہم سینیٹ کے رہنما چک شومر اور ایوان نمائندگان کے اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے اس دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطرفیاں عدالت میں کالعدم قرار دے دی جائیں گی۔</p>
<p>تقریباً 13 لاکھ حاضر سروس فوجی اہلکار بدھ کو اپنی پہلی تنخواہ سے محروم رہنے والے ہیں۔</p>
<p>اسٹرونگ ہولڈ فوڈ پینٹری، جو فوجی خاندانوں کی معاونت کرنے والی ایک فلاحی تنظیم ہے، نے ٹائم میگزین کو بتایا کہ ”شٹ ڈاؤن کے آغاز سے اب تک ضرورت مندوں کی تعداد میں بے مثال اضافہ“ دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ وہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو ہدایت دیں گے کہ وہ ”تمام دستیاب فنڈز استعمال کر کے بدھ تک ہماری فوج کو ادائیگی یقینی بنائیں۔“</p>
<p>اطلاعات کے مطابق پینٹاگون 8 ارب ڈالر کے تحقیق و ترقی کے فنڈز فوجی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے منتقل کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یہ اقدام قانونی ہے یا نہیں، تاہم دونوں جماعتوں کی جانب سے کوئی خاص مزاحمت سامنے نہیں آئی۔</p>
<p>ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن، جو 19 ستمبر سے ایوان کو تعطیلات پر رکھے ہوئے ہیں، پر یہ دباؤ ہے کہ وہ ایوان کے اراکین کو واپس بلا کر ایک علیحدہ بل پر ووٹنگ کرائیں تاکہ شٹ ڈاؤن کے دوران فوجی تنخواہیں جاری رہ سکیں، مگر وہ اس مطالبے کو مسترد کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ”ہم نے فوجیوں کو ادائیگی کے لیے متعدد بار ووٹ دیا ہے۔ ہم نے تین ہفتے قبل ایوان میں یہ بل منظور کیا تھا۔ اب گیند سینیٹ کے ڈیموکریٹس کے کورٹ میں ہے، بس اتنا ہی۔“</p>
<p>اصل تنازع کا نقطہ یہ ہے کہ ریپبلکنز ڈیموکریٹس کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں کہ حکومت کی فنڈنگ قرارداد میں ایسی زبان شامل کی جائے جو 2 کروڑ 40 لاکھ امریکیوں کے لیے ختم ہوتی صحت بیمہ سبسڈی میں توسیع کرے۔</p>
<p>پیر کے روز کانگریس تعطیل پر تھی، جس کے باعث شٹ ڈاؤن کا چودھواں دن یقینی ہو گیا۔ اگرچہ ٹرمپ کا فوجی تنخواہیں یقینی بنانے کا اعلان خوش آئند قرار دیا گیا، لیکن اس سے دونوں فریقوں پر معاملہ حل کرنے کا دباؤ کم ہو گیا۔</p>
<p>سینیٹ منگل کو دوبارہ اجلاس میں آئے گی تاکہ حکومت کی بحالی کے لیے آٹھویں بار ووٹنگ کی جا سکے، مگر کامیابی کے امکانات کم ہیں۔</p>
<p>اس دوران ائیرپورٹس پر تاخیر بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن ( ٹی ایس اے) کے اہلکار تنخواہ نہ ملنے کے باعث بیماری کے بہانے ڈیوٹی سے غیر حاضر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>مزید برآں اسمتھسونیئن انسٹیٹیوشن نے اتوار سے اپنا نیشنل زو اور عجائب گھر بند کر دیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278101</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Oct 2025 21:23:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/13211209af55493.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/13211209af55493.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
