<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:41:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:41:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امیروں کی ہجرت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278097/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترقی یافتہ معیشتوں میں مالی گنجائش کے سکڑنے نے کئی مغربی ممالک کو مجبور کیا ہے کہ وہ انتہائی امیر طبقے پر زیادہ ٹیکس عائد کریں۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں ایسے ممالک کی تعداد بڑھ گئی ہے جو امیر افراد کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے پُرکشش مالیاتی پیکج پیش کر رہے ہیں۔ یوں، اپنے آبائی ممالک سے امیر ترین افراد کی بڑے پیمانے پر ہجرت شروع ہو گئی ہے۔ تاہم ہنلی پرائیویٹ ویلتھ مائیگریشن رپورٹ 2025 کے مطابق  یہ اس رجحان کی واحد وجہ نہیں ہے۔ یہ ادارہ گزشتہ ایک دہائی سے کروڑ پتیوں کی عالمی نقل مکانی کا ریکارڈ رکھتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنلی کے سی ای او، یورگ اسٹفن کے مطابق “سال 2025 ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں پہلی بار ایک یورپی ملک کروڑ پتیوں کی نقل مکانی میں دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔ یہ صرف ٹیکس کے نظام میں تبدیلی کی بات نہیں، بلکہ یہ دولت مند طبقے کے اس بڑھتے ہوئے احساس کی عکاسی کرتا ہے کہ زیادہ مواقع، آزادی اور استحکام اب کہیں اور موجود ہیں۔ اس کے طویل مدتی اثرات یورپ اور برطانیہ کی معاشی مسابقت اور سرمایہ کاری کی کشش کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق رواں  سال ایک ریکارڈ توڑ 1,42,000 کروڑ پتی افراد کے بین الاقوامی طور پر منتقل ہونے کی توقع ہے۔ برطانیہ سے 2025 میں تقریباً 16,500 کروڑ پتیوں کے ملک چھوڑنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جو چین کے متوقع 7,800 خالص اخراج سے دوگنا ہے۔ چین گزشتہ دہائی کے دوران ہمیشہ سب سے زیادہ کروڑ پتی کھونے والا ملک رہا ہے۔ اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے اور رواں سال 9,800 نئے امیر افراد کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا دولت کا مرکز بننے جا رہا ہے، جو امریکہ کے 7,500 نئے امیر مہاجرین سے دو ہزار زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ اکیلا نہیں ہے، دیگر یورپی ممالک سے بھی امیر افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق فرانس:800-، اسپین: 500-، جرمنی: 400- جبکہ فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہیں: سوئٹزرلینڈ: +3000، اٹلی: +3600، پرتگال: +1400، یونان: +1200&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ممالک کی کامیابی کی وجہ موزوں ٹیکس نظام، اعلیٰ معیارِ زندگی اور سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت کے فعال پروگرام بتائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنلی نے امیر افراد کی نقل مکانی کے تین اہم عوامل بیان کیے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیاسی غیر یقینی اور ٹیکس کا خوف&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی کنٹرول اور پیش بینی کی خواہش۔ یعنی کروڑ پتی اپنی دولت اور مستقبل پر زیادہ واضح کنٹرول چاہتے ہیں، خاص طور پر سیاسی عدم استحکام کے وقت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سرمایہ کاری اور موسمی حالات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی ممالک، خصوصاً برطانیہ، فرانس اور جرمنی، میں حکومتوں کے سربراہوں کی مقبولیت تاریخی حد تک کم ہو چکی ہے، جس سے سیاسی غیر یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان ممالک میں ٹیکسوں میں نمایاں اضافے کے خدشات پائے جاتے ہیں کیونکہ نیٹو کے رکن ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اپنے جی ڈی پی کا 5 فیصد دفاع پر خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ مزید برآں، یورپی یونین نے حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ایک نقصان دہ تجارتی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت امریکہ یورپی درآمدات پر بھاری محصولات عائد کرے گا لیکن یورپی یونین اس اقدام کا جواب نہیں دے گی۔ یہ معاہدہ یورپی یونین کی صدر اُرسلا فان ڈیر لیین نے کرایا، جنہیں آئندہ چند ماہ میں عدم اعتماد کے ایک اور ووٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے تناظر میں واضح شواہد موجود ہیں کہ جب بھی عام تاثر یہ رہا کہ ملک میں سیاسی استحکام ہے، بہت کم حکومتیں اپنی مدت پوری کر سکیں۔ سیاسی غیر یقینی ہمیشہ اس مغالطے کے درمیان جھولتی رہی کہ حکومت برسوں تک قائم رہے گی، جب کہ حقیقت میں گزشتہ چالیس برسوں میں کوئی بھی سول وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔ البتہ دوسرے درجے کی قیادت کو بار بار اقتدار کے دروازے سے اندر آنے کی اجازت ضرور ملتی رہی، بشرط یہ کہ وہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کر لیں۔ جو ایسا نہیں کرتے، وہ اپنے اقاموں یا غیر ملکی رہائشی اجازت ناموں کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ٹیکس نظام بالواسطہ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے، جن کا بوجھ غریب طبقے پر امیر طبقے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پڑتا ہے، تقریباً 75 سے 80 فیصد تک۔ اس غیر منصفانہ نظام نے ملک میں غربت کی شرح کو بڑھا کر 44.7 فیصد تک پہنچا دیا ہے، جو اب ملک کے سماجی و معاشی ڈھانچے کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;عالمی رجحانات اور پاکستان کے منفرد سیاسی حالات کے پیشِ نظر، ساتھ ہی کرپشن انڈیکس میں ملک کی مسلسل کم درجہ بندی (2024 میں 180 ممالک میں سے 135ویں نمبر پر، جب کہ 2023 میں 133واں، اور 2022 و 2021 میں 140واں نمبر تھا) — عوامی تاثر یہ ہے کہ ملک کے تمام فریق، بشمول سیاست دان اور بیوروکریٹس، قومی وسائل کو “ہڑپ” کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ماحول میں، وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے 5 اگست 2025 کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک طویل اور غیر مربوط بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“ہمارے وطن کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پہلے ہی پرتگال میں جائیدادیں خرید چکی ہے اور وہاں کی شہریت حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ سب معروف بیوروکریٹس ہیں۔ اربوں روپے ہڑپ کرنے کے بعد اب وہ آرام سے ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ بزدار کے قریبی ایک افسر نے صرف اپنی بیٹی کی شادی کے سلامی میں چار ارب روپے جمع کیے، اور اب پرسکون ریٹائرمنٹ انجوائے کر رہا ہے۔ دوسری طرف، سیاست دان بچا کھچا مال کھاتے ہیں، مگر چونکہ انہیں انتخابات میں حصہ لینا ہوتا ہے، اس لیے نہ پلاٹ ہیں نہ غیر ملکی شہریت۔ یہ بیوروکریسی پاکستان کی مقدس سرزمین کو آلودہ کر رہی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف کے اس بیان میں دو پہلو نمایاں ہیں: وہ ایک مخصوص فرد پر تنقید کر رہے ہیں، مگر ان کئی سیاست دانوں کا ذکر نہیں کرتے جن کے وہ قریب ہیں اور جن کی بیرونِ ملک (خصوصاً مغرب میں) مہنگی جائیدادیں موجود ہیں، اگرچہ یہ تنقید متحدہ عرب امارات جیسے دیگر ممالک پر لاگو نہیں ہوتی، جو اس وقت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں شامل ہے۔ مزید یہ کہ وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ کسی دلہا یا دلہن کو دی جانے والی سلامی کی کوئی قانونی حد مقرر نہیں۔ اگر انہیں اس میں کرپشن کا پہلو نظر آتا ہے، تو انہیں مناسب قانون سازی کے لیے پارلیمان میں آواز اٹھانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس، بالخصوص مغربی ممالک کے، پر تنقید کی۔ دراصل، سیاسی طور پر نمایاں شخصیات ( پالیٹکلی ایکسپوزڈ پرسنز ) کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کے پروگراموں سے فائدہ اٹھانے یا مغربی بینکوں میں اکاؤنٹس کھولنے پر سخت قوانین لاگو ہیں۔ بہت سے پاکستانیوں سے ان بینکوں نے اپنے اکاؤنٹس بند کرانے اور رقم نکالنے کے لیے کہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امید کی جا سکتی ہے کہ خواجہ آصف ملک کے اندر ایسے قوانین میں اصلاحات کے لیے سرگرمی دکھائیں گے جن سے بااثر بیوروکریٹس، بشمول ان کے قریبی یا جماعتی تعلق رکھنے والے افراد اور دیگر ایلیٹ طبقوں کے حقیقی اثاثوں کی مؤثر نگرانی ممکن ہو۔ ساتھ ہی، وہ بین الاقوامی سطح پر ایسے قوانین میں ترامیم کے لیے دباؤ ڈالیں جن کے ذریعے مشکوک ذرائع سے دولت حاصل کرنے والے سرکاری اہلکاروں کو بیرونِ ملک سرمایہ کاری یا شہریت کے حصول سے روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترقی یافتہ معیشتوں میں مالی گنجائش کے سکڑنے نے کئی مغربی ممالک کو مجبور کیا ہے کہ وہ انتہائی امیر طبقے پر زیادہ ٹیکس عائد کریں۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں ایسے ممالک کی تعداد بڑھ گئی ہے جو امیر افراد کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے پُرکشش مالیاتی پیکج پیش کر رہے ہیں۔ یوں، اپنے آبائی ممالک سے امیر ترین افراد کی بڑے پیمانے پر ہجرت شروع ہو گئی ہے۔ تاہم ہنلی پرائیویٹ ویلتھ مائیگریشن رپورٹ 2025 کے مطابق  یہ اس رجحان کی واحد وجہ نہیں ہے۔ یہ ادارہ گزشتہ ایک دہائی سے کروڑ پتیوں کی عالمی نقل مکانی کا ریکارڈ رکھتا ہے۔</strong></p>
<p>ہنلی کے سی ای او، یورگ اسٹفن کے مطابق “سال 2025 ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں پہلی بار ایک یورپی ملک کروڑ پتیوں کی نقل مکانی میں دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔ یہ صرف ٹیکس کے نظام میں تبدیلی کی بات نہیں، بلکہ یہ دولت مند طبقے کے اس بڑھتے ہوئے احساس کی عکاسی کرتا ہے کہ زیادہ مواقع، آزادی اور استحکام اب کہیں اور موجود ہیں۔ اس کے طویل مدتی اثرات یورپ اور برطانیہ کی معاشی مسابقت اور سرمایہ کاری کی کشش کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔”</p>
<p>رپورٹ کے مطابق رواں  سال ایک ریکارڈ توڑ 1,42,000 کروڑ پتی افراد کے بین الاقوامی طور پر منتقل ہونے کی توقع ہے۔ برطانیہ سے 2025 میں تقریباً 16,500 کروڑ پتیوں کے ملک چھوڑنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جو چین کے متوقع 7,800 خالص اخراج سے دوگنا ہے۔ چین گزشتہ دہائی کے دوران ہمیشہ سب سے زیادہ کروڑ پتی کھونے والا ملک رہا ہے۔ اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے اور رواں سال 9,800 نئے امیر افراد کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا دولت کا مرکز بننے جا رہا ہے، جو امریکہ کے 7,500 نئے امیر مہاجرین سے دو ہزار زیادہ ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ اکیلا نہیں ہے، دیگر یورپی ممالک سے بھی امیر افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق فرانس:800-، اسپین: 500-، جرمنی: 400- جبکہ فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہیں: سوئٹزرلینڈ: +3000، اٹلی: +3600، پرتگال: +1400، یونان: +1200</p>
<p>ان ممالک کی کامیابی کی وجہ موزوں ٹیکس نظام، اعلیٰ معیارِ زندگی اور سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت کے فعال پروگرام بتائی گئی ہے۔</p>
<p>ہنلی نے امیر افراد کی نقل مکانی کے تین اہم عوامل بیان کیے ہیں:</p>
<p><strong>سیاسی غیر یقینی اور ٹیکس کا خوف</strong></p>
<p>مالیاتی کنٹرول اور پیش بینی کی خواہش۔ یعنی کروڑ پتی اپنی دولت اور مستقبل پر زیادہ واضح کنٹرول چاہتے ہیں، خاص طور پر سیاسی عدم استحکام کے وقت۔</p>
<p><strong>سرمایہ کاری اور موسمی حالات</strong></p>
<p>مغربی ممالک، خصوصاً برطانیہ، فرانس اور جرمنی، میں حکومتوں کے سربراہوں کی مقبولیت تاریخی حد تک کم ہو چکی ہے، جس سے سیاسی غیر یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان ممالک میں ٹیکسوں میں نمایاں اضافے کے خدشات پائے جاتے ہیں کیونکہ نیٹو کے رکن ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اپنے جی ڈی پی کا 5 فیصد دفاع پر خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ مزید برآں، یورپی یونین نے حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ایک نقصان دہ تجارتی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت امریکہ یورپی درآمدات پر بھاری محصولات عائد کرے گا لیکن یورپی یونین اس اقدام کا جواب نہیں دے گی۔ یہ معاہدہ یورپی یونین کی صدر اُرسلا فان ڈیر لیین نے کرایا، جنہیں آئندہ چند ماہ میں عدم اعتماد کے ایک اور ووٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے تناظر میں واضح شواہد موجود ہیں کہ جب بھی عام تاثر یہ رہا کہ ملک میں سیاسی استحکام ہے، بہت کم حکومتیں اپنی مدت پوری کر سکیں۔ سیاسی غیر یقینی ہمیشہ اس مغالطے کے درمیان جھولتی رہی کہ حکومت برسوں تک قائم رہے گی، جب کہ حقیقت میں گزشتہ چالیس برسوں میں کوئی بھی سول وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔ البتہ دوسرے درجے کی قیادت کو بار بار اقتدار کے دروازے سے اندر آنے کی اجازت ضرور ملتی رہی، بشرط یہ کہ وہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کر لیں۔ جو ایسا نہیں کرتے، وہ اپنے اقاموں یا غیر ملکی رہائشی اجازت ناموں کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہو جاتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پاکستان کا ٹیکس نظام بالواسطہ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے، جن کا بوجھ غریب طبقے پر امیر طبقے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پڑتا ہے، تقریباً 75 سے 80 فیصد تک۔ اس غیر منصفانہ نظام نے ملک میں غربت کی شرح کو بڑھا کر 44.7 فیصد تک پہنچا دیا ہے، جو اب ملک کے سماجی و معاشی ڈھانچے کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>عالمی رجحانات اور پاکستان کے منفرد سیاسی حالات کے پیشِ نظر، ساتھ ہی کرپشن انڈیکس میں ملک کی مسلسل کم درجہ بندی (2024 میں 180 ممالک میں سے 135ویں نمبر پر، جب کہ 2023 میں 133واں، اور 2022 و 2021 میں 140واں نمبر تھا) — عوامی تاثر یہ ہے کہ ملک کے تمام فریق، بشمول سیاست دان اور بیوروکریٹس، قومی وسائل کو “ہڑپ” کر رہے ہیں۔</p>
<p>اسی ماحول میں، وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے 5 اگست 2025 کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک طویل اور غیر مربوط بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا:</p>
<p>“ہمارے وطن کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پہلے ہی پرتگال میں جائیدادیں خرید چکی ہے اور وہاں کی شہریت حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ سب معروف بیوروکریٹس ہیں۔ اربوں روپے ہڑپ کرنے کے بعد اب وہ آرام سے ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ بزدار کے قریبی ایک افسر نے صرف اپنی بیٹی کی شادی کے سلامی میں چار ارب روپے جمع کیے، اور اب پرسکون ریٹائرمنٹ انجوائے کر رہا ہے۔ دوسری طرف، سیاست دان بچا کھچا مال کھاتے ہیں، مگر چونکہ انہیں انتخابات میں حصہ لینا ہوتا ہے، اس لیے نہ پلاٹ ہیں نہ غیر ملکی شہریت۔ یہ بیوروکریسی پاکستان کی مقدس سرزمین کو آلودہ کر رہی ہے۔”</p>
<p>خواجہ آصف کے اس بیان میں دو پہلو نمایاں ہیں: وہ ایک مخصوص فرد پر تنقید کر رہے ہیں، مگر ان کئی سیاست دانوں کا ذکر نہیں کرتے جن کے وہ قریب ہیں اور جن کی بیرونِ ملک (خصوصاً مغرب میں) مہنگی جائیدادیں موجود ہیں، اگرچہ یہ تنقید متحدہ عرب امارات جیسے دیگر ممالک پر لاگو نہیں ہوتی، جو اس وقت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں شامل ہے۔ مزید یہ کہ وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ کسی دلہا یا دلہن کو دی جانے والی سلامی کی کوئی قانونی حد مقرر نہیں۔ اگر انہیں اس میں کرپشن کا پہلو نظر آتا ہے، تو انہیں مناسب قانون سازی کے لیے پارلیمان میں آواز اٹھانی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس، بالخصوص مغربی ممالک کے، پر تنقید کی۔ دراصل، سیاسی طور پر نمایاں شخصیات ( پالیٹکلی ایکسپوزڈ پرسنز ) کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کے پروگراموں سے فائدہ اٹھانے یا مغربی بینکوں میں اکاؤنٹس کھولنے پر سخت قوانین لاگو ہیں۔ بہت سے پاکستانیوں سے ان بینکوں نے اپنے اکاؤنٹس بند کرانے اور رقم نکالنے کے لیے کہا ہے۔</p>
<p>یہ امید کی جا سکتی ہے کہ خواجہ آصف ملک کے اندر ایسے قوانین میں اصلاحات کے لیے سرگرمی دکھائیں گے جن سے بااثر بیوروکریٹس، بشمول ان کے قریبی یا جماعتی تعلق رکھنے والے افراد اور دیگر ایلیٹ طبقوں کے حقیقی اثاثوں کی مؤثر نگرانی ممکن ہو۔ ساتھ ہی، وہ بین الاقوامی سطح پر ایسے قوانین میں ترامیم کے لیے دباؤ ڈالیں جن کے ذریعے مشکوک ذرائع سے دولت حاصل کرنے والے سرکاری اہلکاروں کو بیرونِ ملک سرمایہ کاری یا شہریت کے حصول سے روکا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278097</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Oct 2025 17:24:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/13170358b74098c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/13170358b74098c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
