<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:26:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:26:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان بزنس فورم کا حکومت سے ٹیکسز اور بجلی ٹیرف میں کمی کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278072/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھاری ٹیکسوں اور بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں میں کمی کرے، کیونکہ موجودہ معاشی پالیسیاں کاروباری سرگرمیوں کو دبا رہی ہیں اور سرمایہ کاروں کو ملک سے باہر لے جا رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرگودھا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد نے کہا کہ ملک کو پارلیمنٹ کی سطح پر چارٹر آف اکانومی کی ضرورت ہے تاکہ پالیسیوں میں تسلسل اور طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی ممکن بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں کاروبار کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ ایک کاروبار کی آمدنی کا 45 فیصد حصہ حکومت کو ٹیکس کی شکل میں دینا پڑتا ہے۔ اگر آپ 100 روپے کماتے ہیں تو حکومت 45 روپے لے لیتی ہے، ایسے حالات میں پائیدار کاروبار چلانا تقریباً ناممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 10 فیصد سپر ٹیکس کو، جو ابتدا میں ایک عارضی اقدام کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، مستقل بنا دیا گیا ہے جس سے کاروباروں پر مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کارپوریٹ ٹیکس ریٹ خطے میں سب سے زیادہ ہے، جب کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں ٹیکس کم ہونے کے باوجود عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوہدری احمد جواد نے ملک کی معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معیشت بدستور بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ستمبر 2025 کے معاشی اعدادوشمار کے مطابق افراطِ زر 6 فیصد تک بڑھ چکا ہے، جبکہ تجارتی خسارہ 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ قرض بمقابلہ جی ڈی پی تناسب 70 فیصد تک جا پہنچا ہے، قومی قرضہ 80.6 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور مالیاتی خسارہ 7.1 کھرب روپے ہے، جو نہایت خطرناک صورتحال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا بجلی ٹیرف 13 سینٹ فی یونٹ ہے، جو خطے میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح 8 سینٹ فی یونٹ ہے۔ ان کے مطابق، اتنے زیادہ نرخ صنعتی پیداوار کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور برآمدات غیر مسابقتی ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ صرف بیوروکریسی معیشت نہیں چلا سکتی، اس کے لیے نجی شعبے اور ماہرینِ معیشت کو پالیسی سازی میں شامل کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوہدری احمد جواد نے ضلعی سطح کے ترقیاتی ماڈل کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق سرگودھا صنعتی ترقی کے لحاظ سے فیصل آباد سے پیچھے رہ گیا ہے، لہٰذا حکومت کو علاقائی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان بزنس فورم حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا، تاہم جہاں مثبت اقدامات ہوں گے، ان کی تعریف بھی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ نجی شعبے کی شمولیت کے بغیر معیشت کی بحالی ناممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس میں سرگودھا، بہاولپور اور فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے بزنس فورم کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور فوری معاشی اصلاحات کا مطالبہ کیا تاکہ ملک کی معیشت کو سنبھالا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھاری ٹیکسوں اور بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں میں کمی کرے، کیونکہ موجودہ معاشی پالیسیاں کاروباری سرگرمیوں کو دبا رہی ہیں اور سرمایہ کاروں کو ملک سے باہر لے جا رہی ہیں۔</strong></p>
<p>سرگودھا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد نے کہا کہ ملک کو پارلیمنٹ کی سطح پر چارٹر آف اکانومی کی ضرورت ہے تاکہ پالیسیوں میں تسلسل اور طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی ممکن بنائی جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں کاروبار کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ ایک کاروبار کی آمدنی کا 45 فیصد حصہ حکومت کو ٹیکس کی شکل میں دینا پڑتا ہے۔ اگر آپ 100 روپے کماتے ہیں تو حکومت 45 روپے لے لیتی ہے، ایسے حالات میں پائیدار کاروبار چلانا تقریباً ناممکن ہے۔</p>
<p>انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 10 فیصد سپر ٹیکس کو، جو ابتدا میں ایک عارضی اقدام کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، مستقل بنا دیا گیا ہے جس سے کاروباروں پر مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کارپوریٹ ٹیکس ریٹ خطے میں سب سے زیادہ ہے، جب کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں ٹیکس کم ہونے کے باوجود عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔</p>
<p>چوہدری احمد جواد نے ملک کی معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معیشت بدستور بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ستمبر 2025 کے معاشی اعدادوشمار کے مطابق افراطِ زر 6 فیصد تک بڑھ چکا ہے، جبکہ تجارتی خسارہ 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ قرض بمقابلہ جی ڈی پی تناسب 70 فیصد تک جا پہنچا ہے، قومی قرضہ 80.6 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور مالیاتی خسارہ 7.1 کھرب روپے ہے، جو نہایت خطرناک صورتحال ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا بجلی ٹیرف 13 سینٹ فی یونٹ ہے، جو خطے میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح 8 سینٹ فی یونٹ ہے۔ ان کے مطابق، اتنے زیادہ نرخ صنعتی پیداوار کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور برآمدات غیر مسابقتی ہو چکی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ صرف بیوروکریسی معیشت نہیں چلا سکتی، اس کے لیے نجی شعبے اور ماہرینِ معیشت کو پالیسی سازی میں شامل کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>چوہدری احمد جواد نے ضلعی سطح کے ترقیاتی ماڈل کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق سرگودھا صنعتی ترقی کے لحاظ سے فیصل آباد سے پیچھے رہ گیا ہے، لہٰذا حکومت کو علاقائی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہییں۔</p>
<p>اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان بزنس فورم حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا، تاہم جہاں مثبت اقدامات ہوں گے، ان کی تعریف بھی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ نجی شعبے کی شمولیت کے بغیر معیشت کی بحالی ناممکن ہے۔</p>
<p>پریس کانفرنس میں سرگودھا، بہاولپور اور فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے بزنس فورم کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور فوری معاشی اصلاحات کا مطالبہ کیا تاکہ ملک کی معیشت کو سنبھالا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278072</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Oct 2025 10:09:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/13100832e215705.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/13100832e215705.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
